’’ صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کر ے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ‘‘

قیصر محمود عراقی
صحافیوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے لئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض ادا کئے ہیں ۔ ایک ذمہ دار صحافی بہت مشکل مراحل سے گذر کر چھپے ہو ئے حقائق عوام کے سامنے لاتا ہے ۔ ایک صحافی ہی یہ جان سکتا ہے کہ اس کے رات اور دن کیسے گذرتے ہیں۔ یہ میں ان صحافیوں کی بات کر رہا ہوں جو صحافت کو عبادت اور اہم فریضہ سمجھ کر ادا کر تے ہیں ۔ ایک ذمہد ار صحافی جسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو تا ہے وہ عوام کو ہی اپنی فیملی اور اپنے ملک کو ہی اپنے لئے سب کچھ تصور کر تا ہے۔ صحافی وہ مظلوم طبقہ ہے جو اپنے قلم سے دوست ست زیادہ دشمن پیدا کر تا ہے ، اگر پولس کے خلاف لکھے تو پولس دشمن ہو جا تی ہے ، اگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف آواز اٹھائیں تو وہ مخالف ہو جا تے ہیں ، صحافی کرپشن کو بے نقاب کریں تو عتاب کا شکار ہو جا تا ہے ، اگر صحافی حکمرانوں پے تنقید کرے تو سازشی قرار دیا جا تا ہے اور اگر صحافی حکمرانوں کی تعریف کرے تو لفافہ صحافی ٹھہرتا ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے بشر طیکہ اس پیشہ کو اخلاص کے ساتھ اپنا یا جا ئے ۔ صحافت عربی زبان کے لفظ صحف سے ماخو ذ ہے جس کی تعریف محققین نے مختلف انداز میں کی ہے ، جن میں سے ایک یہ ہے کہ کسی بھی اخبار ، چینل ، رسائل ، جرائد ، مطبوعات ، کتب اور خبر رساں اداروں کے لئے خبروں اور خبروں پر تبصرے اور تجزئیے کی تیاری کو صحافت کہتے ہیں ْ۔  صحافی کی ایک اور مختصر تعریف یوں بھی ہے کہ کسی واقعہ یا خبر کا انکشاف کر نا صحافت کہلاتا ہے ۔ صحافت اصل میں اس عظیم المرتبت حرفت اور صنعت کا نام ہے جس کے ذریعہ روز مرہ کے واقعات و حوادثات دنیا کے اخبارات و کیفیات اور لوگوں کے افکار و خیالات کو جمع کر کے صحیفہ یا مجلہ میں شائع کیا جا تا ہو اور ان سے لوگوں کو آگاہ کیا جا تا ہے ، اس کارِ خیر اور مقدس حرفت سے دلچسپی رکھنے والے کو اور اس کے اسرار و رموز کی معرفت رکھنے والے کو صحافی کہا جا تا ہے ۔
ایک ذمہ دار صحافی کی اپنی جان ہتھیلی پر رکھی ہو تی ہے اور کیمرہ ، مائک یا قلم ہاتھ میں کیونکہ یہی ان کا ہتھیار ہے ، صحافیوں پر پابندیاں لگتی ہیں ، تشدد ہو تا ہے اور ان کا قتل بھی ہو تا ہے مگر وہ اپنے وطن کی خاطر کبھی ہڑتال کر کے اخبار یا چینل بند نہیں کر تے اور نہ ہی کبھی کسی  صحافی نے کسی احتجاج میں توڑ بھوڑ کی ہے ۔ صحافت ریاست کا پانچواں ستون ہو تا ہے ۔ اور اس ستون کو صحافی حضرات اپنی محنت ، لگن اور جاں فشانی کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر کر نے سے پیچھے نہیں ہٹتے ۔ کچھ صحافی ایسے ہیں جنہوں نے صحافت کو بدنام کر نا شروع کیا ہے اور صحافت کے نام پر کاروبار کر تے ہیں ، جرائم پیشہ افراد صحافیوں کی صفوں میں گھس کر زرد صحافت کر تا ہے ، کچھ لوگ صحافت کے لبادے میں کریمنل ریکارڈ صاف کرواتے ہیں اور اچھا کام کرنے والے صحافیوں کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کیے آج کل ہرجگہ ایک سے بڑھ کر ایک صحافتی ادارہ کھل چکا ہے صحافت اب مقصد نہیں بلکہ کاروبار بن چکی ہے ، اسے کئی ادارہ ہے جو پریس کارڈ بنا کر دیتے ہیں اور لاکھو ں حاصل کرتے ہیں ۔ ایسے ایسے لوگ بھی صحافی بن کر گھوم رہے ہیں جنھیںالف ب تک نہیں آتی ۔ کئی نامور صحافی تا حال کرپشن میں بے مثال ہیں وہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اس مقدس پیشے کی ساکھ کو بھی مجروح کرتے ہیں ۔اس سب میں صحافت تو بدنام ہوتی ہے مگر اس میں سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے اس بیچارے سیدھے سادے اور معصوم محنتی صحافی کا ۔
قارئین حضرات ! صحافت ایک مقدس پیشہ ہے جو حق کی آزادی کے لئے آواز اُٹھا تا ہے ، یہی وجہہ ہے کہ ایک مخلص صحافی جب اپنے مقد س پیشے سے مخلص کا ثبوت دیتے ہوئے بد عنوانیوں کو بے نقاب کرتا ہے تو اسے بعض اوقات انتہائی خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جبکہ لوگوں کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ اگر ایک طرف سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوج ہوتے ہیں تو دوسری طرف ایک صحافی بھی کسی سپاہی یا مجاہد کی طرح ہوتا ہے جو اپنے قلمی ہتھیار کو ہمیشہ دشمن کے خلاف استعمال کرتا آیا ہے ۔ اگر آپ ماضی میں نظر ڈالیں تو اس ملک کو آزاد کروانے میں صحافت نے بھی آزادی کی جنگ شانہ بشانہ لڑی ، گویاہندوستان کی صحافت ایک سپاہی ہے جس نے اس ملک کوتو آزادی کی بہاریں دکھادی لیکن اس کی اپنی آزادی کو بارہا سلب ہوناپڑا ۔ ایک مثالی صحافی معا شرے کا آئینہ ہوتاہے جو بغیر کسی خوف یا مصلحت کے حقا ئق کو عوام تک پہنچا تا ہے ۔ ایک صحافی کی ذمہ داری صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ سچائی کو تلاش کرنا اور معاثرے کے مسائل کو ایوانوں تک پہنچانا ہے ۔ ایک بہترین صحافی وہ ہے جو اپنی قلم کی طاقت سے مظلوم کی آواز بنے ،صحافی کی سب سے بڑی صفت اس کی دیانت داری ہے ، اسے چاہئیے کہ وہ جو بھی خبر دے وہ حقائق پر مبنی ہو ، اسے جھوٹی خبروں ، پرو پیگنڈے اور سنسنی خیزی سے گر یز کرنا چاہیئے ایک اچھے صحافی کو کسی سیاسی جماعت ، نظر یے یا گر وہ کا آلہ کار نہیںبننا چاہئے ۔ یہ سچ ہے کہ ایک صحافی کو طاقتوار طبقوںکے خلاف بولتے وقت بڑی مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ایک مثالی صحافی وہی ہوتا ہے جو دھمکیوں یا دباؤ میں آئے بغیر حق گوئی کا علم بلند رکھے ۔ ایک صحافی کو چاہئے کہ وہ خبرکی تہہ تک جائے ، مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق کرے اور اس کے بعد اسے عوام کے سامنے لائے ۔ صحافی کا مقصد صرف پیسہ کمانا یا شہرت حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کے دل میں انسانیت کا درد ہونا چاہئے ، اسے عوامی مسائل جیسے غربت ، نا انصافی اور تعلیم و صحت کی سہولیات کے فقدان پر آواز اُٹھانی چاہئے۔ مختصر اََیہ کہ ایک صحافی معاشرے کا محافظ ہوتا ہے ، اگر صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کرے تووہ ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔ اس لئے اسے چاہئے کہ وہ اپنی ضمیر کی آواز پر لبیک کہے اور اپنے پیشے کے تقدس کو ہمیشہ برقرار رکھے ۔ہندوستان میں صحافت ہرآمریت کے دور میں مشکلات کا شکار رہی اور ہر آمرنے اپنے طاقت کا نا جائز فائدہ اُٹھا تے ہوئے صحافت کی آزادی کے حق کو دبانے کی ناکام کوششیں کی ۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ حق اور سچ کی آواز آٹھانے کی پا داش میں ماضی سے لے کر اب تک کئی صحافیوں کو انتہائی ظلم و ستم کے مراحل سے دو چار ہونا پڑا ہے ۔ حالانکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک مکمل آزاد نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک میں صحافت مکمل آزاد نہ ہو۔
قیصر محمود عراقی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

غزّہ کی داستانِ عزم

  مسعود محبوب خان عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور...

ارضِ مقدس بھارت سے شکاگو کا سفر — اور پھر ہگلی واپسی

پرتاپ راؤ جادھو تاریخ گواہ ہے کہ چند نظریات نے...

کیوں نہ یوم جمعہ کو ہی جلسوں کی صورت دی جائے

  (حافظ) افتخار احمد قادری اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات...

ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں

بےنام گیلانی عہدِ حاضر میں سیاست ایک ایسا میدان بن...

جب کھیتوں نے خوشبو اوڑھی: وزیر اعلیٰ نے نونر میں لیونڈر فیسٹیول کا افتتاح کیا

جنگ نیوز گاندربل: گاندربل کے نونر میں منعقدہ لیونڈر فیسٹیول...

تازہ ترین خبریں

غزّہ کی داستانِ عزم

  مسعود محبوب خان عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور...

ارضِ مقدس بھارت سے شکاگو کا سفر — اور پھر ہگلی واپسی

پرتاپ راؤ جادھو تاریخ گواہ ہے کہ چند نظریات نے...

کیوں نہ یوم جمعہ کو ہی جلسوں کی صورت دی جائے

  (حافظ) افتخار احمد قادری اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات...

ہم کم از کم یہ تو کر ہی سکتے ہیں

بےنام گیلانی عہدِ حاضر میں سیاست ایک ایسا میدان بن...

جب کھیتوں نے خوشبو اوڑھی: وزیر اعلیٰ نے نونر میں لیونڈر فیسٹیول کا افتتاح کیا

جنگ نیوز گاندربل: گاندربل کے نونر میں منعقدہ لیونڈر فیسٹیول...

’’ صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کر ے تو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ‘‘

قیصر محمود عراقی
صحافیوں نے ہمیشہ عوام کی خدمت کے لئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض ادا کئے ہیں ۔ ایک ذمہ دار صحافی بہت مشکل مراحل سے گذر کر چھپے ہو ئے حقائق عوام کے سامنے لاتا ہے ۔ ایک صحافی ہی یہ جان سکتا ہے کہ اس کے رات اور دن کیسے گذرتے ہیں۔ یہ میں ان صحافیوں کی بات کر رہا ہوں جو صحافت کو عبادت اور اہم فریضہ سمجھ کر ادا کر تے ہیں ۔ ایک ذمہد ار صحافی جسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو تا ہے وہ عوام کو ہی اپنی فیملی اور اپنے ملک کو ہی اپنے لئے سب کچھ تصور کر تا ہے۔ صحافی وہ مظلوم طبقہ ہے جو اپنے قلم سے دوست ست زیادہ دشمن پیدا کر تا ہے ، اگر پولس کے خلاف لکھے تو پولس دشمن ہو جا تی ہے ، اگر جرائم پیشہ افراد کے خلاف آواز اٹھائیں تو وہ مخالف ہو جا تے ہیں ، صحافی کرپشن کو بے نقاب کریں تو عتاب کا شکار ہو جا تا ہے ، اگر صحافی حکمرانوں پے تنقید کرے تو سازشی قرار دیا جا تا ہے اور اگر صحافی حکمرانوں کی تعریف کرے تو لفافہ صحافی ٹھہرتا ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے بشر طیکہ اس پیشہ کو اخلاص کے ساتھ اپنا یا جا ئے ۔ صحافت عربی زبان کے لفظ صحف سے ماخو ذ ہے جس کی تعریف محققین نے مختلف انداز میں کی ہے ، جن میں سے ایک یہ ہے کہ کسی بھی اخبار ، چینل ، رسائل ، جرائد ، مطبوعات ، کتب اور خبر رساں اداروں کے لئے خبروں اور خبروں پر تبصرے اور تجزئیے کی تیاری کو صحافت کہتے ہیں ْ۔  صحافی کی ایک اور مختصر تعریف یوں بھی ہے کہ کسی واقعہ یا خبر کا انکشاف کر نا صحافت کہلاتا ہے ۔ صحافت اصل میں اس عظیم المرتبت حرفت اور صنعت کا نام ہے جس کے ذریعہ روز مرہ کے واقعات و حوادثات دنیا کے اخبارات و کیفیات اور لوگوں کے افکار و خیالات کو جمع کر کے صحیفہ یا مجلہ میں شائع کیا جا تا ہو اور ان سے لوگوں کو آگاہ کیا جا تا ہے ، اس کارِ خیر اور مقدس حرفت سے دلچسپی رکھنے والے کو اور اس کے اسرار و رموز کی معرفت رکھنے والے کو صحافی کہا جا تا ہے ۔
ایک ذمہ دار صحافی کی اپنی جان ہتھیلی پر رکھی ہو تی ہے اور کیمرہ ، مائک یا قلم ہاتھ میں کیونکہ یہی ان کا ہتھیار ہے ، صحافیوں پر پابندیاں لگتی ہیں ، تشدد ہو تا ہے اور ان کا قتل بھی ہو تا ہے مگر وہ اپنے وطن کی خاطر کبھی ہڑتال کر کے اخبار یا چینل بند نہیں کر تے اور نہ ہی کبھی کسی  صحافی نے کسی احتجاج میں توڑ بھوڑ کی ہے ۔ صحافت ریاست کا پانچواں ستون ہو تا ہے ۔ اور اس ستون کو صحافی حضرات اپنی محنت ، لگن اور جاں فشانی کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر کر نے سے پیچھے نہیں ہٹتے ۔ کچھ صحافی ایسے ہیں جنہوں نے صحافت کو بدنام کر نا شروع کیا ہے اور صحافت کے نام پر کاروبار کر تے ہیں ، جرائم پیشہ افراد صحافیوں کی صفوں میں گھس کر زرد صحافت کر تا ہے ، کچھ لوگ صحافت کے لبادے میں کریمنل ریکارڈ صاف کرواتے ہیں اور اچھا کام کرنے والے صحافیوں کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کیے آج کل ہرجگہ ایک سے بڑھ کر ایک صحافتی ادارہ کھل چکا ہے صحافت اب مقصد نہیں بلکہ کاروبار بن چکی ہے ، اسے کئی ادارہ ہے جو پریس کارڈ بنا کر دیتے ہیں اور لاکھو ں حاصل کرتے ہیں ۔ ایسے ایسے لوگ بھی صحافی بن کر گھوم رہے ہیں جنھیںالف ب تک نہیں آتی ۔ کئی نامور صحافی تا حال کرپشن میں بے مثال ہیں وہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اس مقدس پیشے کی ساکھ کو بھی مجروح کرتے ہیں ۔اس سب میں صحافت تو بدنام ہوتی ہے مگر اس میں سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے اس بیچارے سیدھے سادے اور معصوم محنتی صحافی کا ۔
قارئین حضرات ! صحافت ایک مقدس پیشہ ہے جو حق کی آزادی کے لئے آواز اُٹھا تا ہے ، یہی وجہہ ہے کہ ایک مخلص صحافی جب اپنے مقد س پیشے سے مخلص کا ثبوت دیتے ہوئے بد عنوانیوں کو بے نقاب کرتا ہے تو اسے بعض اوقات انتہائی خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جبکہ لوگوں کو یہ پتہ ہونا چاہئے کہ اگر ایک طرف سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوج ہوتے ہیں تو دوسری طرف ایک صحافی بھی کسی سپاہی یا مجاہد کی طرح ہوتا ہے جو اپنے قلمی ہتھیار کو ہمیشہ دشمن کے خلاف استعمال کرتا آیا ہے ۔ اگر آپ ماضی میں نظر ڈالیں تو اس ملک کو آزاد کروانے میں صحافت نے بھی آزادی کی جنگ شانہ بشانہ لڑی ، گویاہندوستان کی صحافت ایک سپاہی ہے جس نے اس ملک کوتو آزادی کی بہاریں دکھادی لیکن اس کی اپنی آزادی کو بارہا سلب ہوناپڑا ۔ ایک مثالی صحافی معا شرے کا آئینہ ہوتاہے جو بغیر کسی خوف یا مصلحت کے حقا ئق کو عوام تک پہنچا تا ہے ۔ ایک صحافی کی ذمہ داری صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ سچائی کو تلاش کرنا اور معاثرے کے مسائل کو ایوانوں تک پہنچانا ہے ۔ ایک بہترین صحافی وہ ہے جو اپنی قلم کی طاقت سے مظلوم کی آواز بنے ،صحافی کی سب سے بڑی صفت اس کی دیانت داری ہے ، اسے چاہئیے کہ وہ جو بھی خبر دے وہ حقائق پر مبنی ہو ، اسے جھوٹی خبروں ، پرو پیگنڈے اور سنسنی خیزی سے گر یز کرنا چاہیئے ایک اچھے صحافی کو کسی سیاسی جماعت ، نظر یے یا گر وہ کا آلہ کار نہیںبننا چاہئے ۔ یہ سچ ہے کہ ایک صحافی کو طاقتوار طبقوںکے خلاف بولتے وقت بڑی مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ایک مثالی صحافی وہی ہوتا ہے جو دھمکیوں یا دباؤ میں آئے بغیر حق گوئی کا علم بلند رکھے ۔ ایک صحافی کو چاہئے کہ وہ خبرکی تہہ تک جائے ، مختلف ذرائع سے اس کی تصدیق کرے اور اس کے بعد اسے عوام کے سامنے لائے ۔ صحافی کا مقصد صرف پیسہ کمانا یا شہرت حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کے دل میں انسانیت کا درد ہونا چاہئے ، اسے عوامی مسائل جیسے غربت ، نا انصافی اور تعلیم و صحت کی سہولیات کے فقدان پر آواز اُٹھانی چاہئے۔ مختصر اََیہ کہ ایک صحافی معاشرے کا محافظ ہوتا ہے ، اگر صحافی اپنے قلم کا صحیح استعمال کرے تووہ ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔ اس لئے اسے چاہئے کہ وہ اپنی ضمیر کی آواز پر لبیک کہے اور اپنے پیشے کے تقدس کو ہمیشہ برقرار رکھے ۔ہندوستان میں صحافت ہرآمریت کے دور میں مشکلات کا شکار رہی اور ہر آمرنے اپنے طاقت کا نا جائز فائدہ اُٹھا تے ہوئے صحافت کی آزادی کے حق کو دبانے کی ناکام کوششیں کی ۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ حق اور سچ کی آواز آٹھانے کی پا داش میں ماضی سے لے کر اب تک کئی صحافیوں کو انتہائی ظلم و ستم کے مراحل سے دو چار ہونا پڑا ہے ۔ حالانکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک مکمل آزاد نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک میں صحافت مکمل آزاد نہ ہو۔
قیصر محمود عراقی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں