
مسعود محبوب خان
عصرِ حاضر میں، جب طاقت، وسائل اور عسکری برتری کو کامیابی کا معیار سمجھا جاتا ہے، غزّہ ایک ایسی مثال بن کر سامنے آیا ہے جو ثابت کرتا ہے کہ حقیقی قوت ہتھیاروں میں نہیں بلکہ علم، شعور، استقامت اور مقصدیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ مسلسل محاصرے، جنگ اور محرومیوں کے باوجود غزّہ نے دنیا کو دکھایا ہے کہ زندہ قومیں اپنے حالات سے نہیں بلکہ اپنے نظریات، علم اور اجتماعی شعور سے پہچانی جاتی ہیں۔
غزّہ کی کہانی صرف مزاحمت کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر ہے جس نے علم کو بقا کا وسیلہ، قیادت کو رہنمائی کا سرچشمہ اور نئی نسل کو مستقبل کی بنیاد بنا رکھا ہے۔ یہی عناصر اس کی قوت اور استقامت کا اصل راز ہیں۔
علم: مزاحمت کا بنیادی ہتھیار
غزّہ کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ علم محض معلومات کا نام نہیں بلکہ شعور، بصیرت اور حکمتِ عملی کا سرچشمہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود وہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ تباہ شدہ عمارتوں، محدود وسائل اور مسلسل خطرات کے باوجود طلبہ اور اساتذہ علم کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں۔
غزّہ میں شرحِ خواندگی 90 فیصد سے زائد ہے، جو اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ وہاں تعلیم کو بقا اور وقار کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی یونیورسٹی آف غزّہ اور الازہر یونیورسٹی غزّہ جیسے ادارے مسلسل مشکلات کے باوجود ہزاروں طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ یہ ادارے صرف درسگاہیں نہیں بلکہ فکری استقامت اور امید کی علامت ہیں۔
فلسطینی معاشرے میں "تعلیم بطور مزاحمت” ایک زندہ حقیقت بن چکی ہے۔ تعلیم کے ذریعے تاریخ، تہذیب اور قومی شناخت کو محفوظ رکھا جاتا ہے، جبکہ ادب اور ثقافت اجتماعی یادداشت کو نسل در نسل منتقل کرتے ہیں۔ یوں تعلیم ایک خاموش مگر مؤثر مزاحمت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
بصیرت افروز قیادت: استقامت کا راز
کسی بھی قوم کی کامیابی میں قیادت بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ غزّہ کی قیادت نے سیاسی اور فکری بصیرت کے ذریعے عوام کی رہنمائی کی ہے۔ حالات کا درست تجزیہ، عالمی منظرنامے کی سمجھ اور حکمتِ عملی پر مبنی فیصلے اس قیادت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
یہ قیادت جانتی ہے کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ نظریات، اطلاعات اور بیانیوں کے محاذ پر بھی جاری رہتی ہے۔ اسی لئے وہاں علم، تحقیق اور فکری تیاری کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔
غزّہ کے نوجوان بھی جدید ذرائع ابلاغ کا مؤثر استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا، صحافتی تحریروں اور ڈیجیٹل دستاویزات کے ذریعے وہ اپنی آواز دنیا تک پہنچا رہے ہیں اور ایک متبادل بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں۔ اس طرح مزاحمت صرف زمینی نہیں بلکہ فکری اور معلوماتی سطح پر بھی جاری ہے۔
نامساعد حالات میں علمی استقامت
عام تصور یہ ہے کہ علمی ترقی کے لئے سازگار ماحول ضروری ہے، لیکن غزّہ اس خیال کو غلط ثابت کرتا ہے۔ وہاں کے طلبہ اور اساتذہ نے دکھایا ہے کہ عزم اور ارادہ وسائل کی کمی پر غالب آ سکتے ہیں۔
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی حالات کے باوجود غزّہ کے نوجوانوں میں سیکھنے کا جذبہ برقرار ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ امید، خود اعتمادی اور مستقبل سے وابستگی کی علامت ہے۔
غزّہ کے معاشرے میں "اجتماعی استقامت” بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں اور اجتماعی حوصلے کے ذریعے مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ یہی رویہ تعلیمی اور سماجی تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
نسلِ نو کی فکری تشکیل
غزّہ کا تجربہ یہ سکھاتا ہے کہ نوجوانوں کی تعمیر کے لئے مقصد کا شعور ناگزیر ہے۔ جب نئی نسل کو یہ احساس ہو کہ علم صرف ذاتی ترقی نہیں بلکہ قومی وقار اور اجتماعی بقا کا ذریعہ بھی ہے تو ان کے اندر سیکھنے کا جذبہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
اس مقصد کے لئے مثالی قیادت، باصلاحیت اساتذہ اور فکری رہنماؤں کا کردار نہایت اہم ہے۔ ایسے افراد نوجوانوں کے لئے عملی نمونہ بنتے ہیں اور ان میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔
اسی طرح امید کا پیغام بھی ضروری ہے۔ مشکلات کے باوجود اگر نوجوانوں کو مستقبل پر یقین ہو تو وہ اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔ تعلیم کو عملی زندگی سے جوڑنا اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا بھی فکری ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ سوال کرنے، تحقیق کرنے اور نئے زاویوں سے سوچنے والی نسل ہی مستقبل کی قیادت سنبھال سکتی ہے۔
خواتین کا مؤثر کردار
غزّہ کے سماجی اور تعلیمی نظام میں خواتین نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ تدریس، طب، سماجی خدمات اور فلاحی سرگرمیوں میں ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ وہ نہ صرف نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں حصہ لے رہی ہیں بلکہ معاشرے کی استقامت اور بحالی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کی موجودگی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی مرد و خواتین دونوں کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوتی ہے۔
غزّہ کی داستان ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم محض ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ بقا، آزادی اور عزت کا ضامن بھی ہے۔ جب علم، شعور اور مقصد یکجا ہو جائیں تو ایک قوم محض جغرافیائی اکائی نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ نظریہ بن جاتی ہے، اور نظریات کو نہ محاصرے ختم کر سکتے ہیں اور نہ طاقت کی دھمکیاں مٹا سکتی ہیں۔
یہی وہ پیغام ہے جو آج کی نسل کے لئے مشعلِ راہ ہے: علم کو اختیار کیجیے، شعور کو پروان چڑھائیے، اور مشکلات کو ترقی و تعمیر کا زینہ بنائیے۔


