
شیخ افلاق حسین سیمانی
وہ بات اب تجھ میں باقی رہی ہی نہیں
وہ اندازِ کرم، شوقِ محبت بھی رہی نہیں
لوگ تو لوگ ہیں، ان سے گلہ کیسا
تو بھی بدلا بدلا ہے، یہ گوارا مجھے نہیں
وہ پسند و ناپسند کا خیال رکھتا تھا مگر
گر یہی بھیک میں ملے، یہ مجھے منظور نہیں
تیرے ہونٹوں سے پھول جھڑتے تھے باتوں میں
اب یہی میرے خلاف ہوں، یہ بھی منظور نہیں
تو عاجزی و انکساری کا پیکر تو ہے لیکن
کسی کو حقیر سمجھنا، یہ تیری شان نہیں
وہ مسئلے بھی خود ہی سلجھا لیا کرتا تھا
راہ چلتے ہر اک کو مگر راہ دکھاتا نہیں
اب بوجھ سا لگنے لگا ہوں میں اس کو، سیمانی
گر یہی بات ہے تو ہم بھی پکاریں گے نہیں


