
شبیر احمد میر
وہ صرف حسن میں ہی نہیں، سیرت میں بھی کمال رکھتی تھی۔ اُس کی بڑی سرمئی آنکھوں میں ذہانت جھلکتی تھی۔ اُس کے لب معصوم بچوں جیسی مسکراہٹ ہمہ وقت چہرے پر سجائے رکھتے تھے۔ وہ اپنے خیالوں میں کھوئی ٹیرس کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ اچانک موبائل فون بج اٹھا۔ موبائل فون کی اسکرین پر اپنی بیٹی کا نام دیکھ کر اُس کی خوبصورت آنکھوں میں محبت کی روشنی اُتر آئی۔ اُن حسین آنکھوں کی گہرائیوں میں چاہتوں کے عکس ڈولنے لگے۔ موبائل فون کا ہرا بٹن دباتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی۔
“مما! آج ان لوگوں نے پھر سے دال پکائی۔ آپ کو پتا ہے نا، دال سے کتنی چِڑ ہے مجھے۔ اب دال سے اتنی چِڑ نہیں ہے جتنی ان لوگوں سے ہے۔”
“کوئی بات نہیں بیٹا! غلطی سے پکائی ہوگی۔ مجھے امید ہے آئندہ یہ لوگ ایسی غلطی کبھی نہیں کریں گے۔ تم صرف خاموش رہنا، اُف تک نہیں کرنا۔ میں خود ان سے بات کروں گی۔”
“کیا مما؟ مجھے یاد ہے، پچھلی دفعہ بھی آپ نے ایسا ہی کچھ کہا تھا۔”
فون کاٹ کر اُس وقت اُس کی مما کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوگئی اور اپنی ٹھوڑی فون پر رکھ کر کچھ سوچتے ہوئے بڑبڑائی۔
“اللہ غارت کرے اس موبائل فون کا، جس نے لڑکیوں کو یہ عادت ڈال دی کہ وہ سسرال اور شوہر کی باتیں اپنی ماں کو روزانہ شام کو یا صبح نیند سے جاگتے ہی سنایا کرتی ہیں، اور تمام رپورٹ اپنی سسرال کی دینی ہوتی ہے اور وہاں سے ہدایات لیا کرتی ہیں۔
اُف! کیا کروں میں اس نادان، ناسمجھ لڑکی کا؟ یہ کیوں نہیں سمجھتی کہ شادی کے ابتدائی ایام میں یہ روش انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ بہت سے گھرانے صرف اسی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ رہے ہیں۔ یہی فون میاں بیوی کے درمیان ایک صحت مند رشتے کو پنپنے نہیں دیتا۔ خیر، آج میں اس کی خبر لے کر رہوں گی۔”
یہ کہہ کر اُس نے اپنی بیٹی کی ساس کا نمبر ڈائل کیا اور کہا۔
“آج آپ اپنی بہو کو میرے پاس بھیج دیجیے، ضروری کام ہے۔”
فون بند کرکے وہ کافی دیر تک سوچوں کے بھنور میں ہچکولے کھاتی رہی۔
“دیکھ بیٹی! میری سوچیں جب میرے لفظوں کی شکل اختیار کرتی ہیں تو تمہاری تصویر اُبھر کر سامنے آتی ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے اور میری محبت کی آزمائش بھی۔”
وہ بہت حوصلے کے ساتھ بولتے بولتے چپ ہوگئی اور اپنی ہتھیلی سے آنسو پونچھتے ہوئے پھر بولی۔
“ایک ہی پریشانی مجھے کھائے جا رہی ہے، اور وہ ہے تم۔ ایک کان سے سنتی ہو اور دوسرے کان سے باہر نکال دیتی ہو۔ کیسی بیوی ہو تم، اور تمہاری محبت کیسی ہے؟ ذرا سا حالات نے رخ بدلا اور تمہاری محبت ہار جاتی ہے۔ ایک بات یاد رکھنا، کبھی کسی کا دل مت دکھانا کیونکہ معافی مانگ لینے کے باوجود اُسے دکھ ضرور رہتا ہے، جیسے دیوار سے لگی کیل کو نکالنے کے بعد نشان رہ جاتا ہے۔
اپنی سوچ کو پانی کے قطروں سے بھی زیادہ شفاف رکھ، کیونکہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے، اُسی طرح اچھی سوچوں سے گھر بنتا ہے۔ خدمت کرنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے۔ گھر والوں کی خدمت میں خدا چل کر تمہارے پاس آجاتا ہے اور بندے کو گناہ اور کوتاہیاں دھلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔
تم محبت سے منہ پھیر رہی ہو، گویا زندگی سے منہ پھیر رہی ہو۔ محبت کے لیے ہم کسی کو نہیں چنتے، محبت خود اپنے فریق کو چنتی ہے۔ یہ انتخاب جبری نہیں، فطری ہوتا ہے۔ یہ محبت طے کرتی ہے کہ وہ کسے اپنے لیے چنتی ہے۔ اس میں کوئی پلاننگ نہیں ہوتی۔
تمہارے لب تمہارے شوہر کے لب ہوں، تمہاری آنکھیں تمہارے شوہر کی آنکھیں ہوں، تمہاری دھڑکنیں تمہارے شوہر کی دھڑکنوں میں مدغم ہوں، اور تمہاری حدتیں تمہارے شوہر کی رگوں میں جمی تمام برف پگھلا دیں۔ ایسی محبت ایک الہامی کیفیت کا نام ہے۔ اسی وجہ سے اُسے آسمانی تحفہ کہا جاتا ہے۔
رشتوں کو بنانے کے لیے اپنائیت بھرا ساتھ درکار ہوتا ہے۔ ایک عورت کے ہاتھ بغیر مہندی کے بھی اچھے لگ سکتے ہیں اگر وہ خانہ داری میں مصروف ہوں۔ ایک عورت کی قابلیت اُس وقت ثابت ہوتی ہے جب وہ اپنی شادی شدہ زندگی کا امتحان پاس کرے۔ میں نے بھی اس امتحان کو پاس کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کر لیں۔
جب مرد کہتا ہے کہ وہ عورت کے لیے چاند تارے توڑ کر لا سکتا ہے تو عورت جانتی ہے کہ یہ دعویٰ ممکنات میں شامل نہیں، پھر بھی وہ اُس پر یقین کرتی ہے۔ لیکن درحقیقت وہ ان لفظوں پر نہیں، اُن کے پیچھے چھپے جذبات پر ایمان لاتی ہے۔ عورتیں تو اپنے سلوک سے مردوں کو اپنا گرویدہ کرلیا کرتی ہیں۔ پھر تم کیوں آج تک اپنے شوہر کے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پائیں؟
کیا فائدہ ایسی تعلیم کا جب عورت اپنا گھر نہ بسا پائے۔ گھر بسانے کے لیے بہت قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ یہ ازدواجی زندگی کوئی رَٹ کی کتاب نہیں کہ سب سوال اُسی میں سے آئیں گے۔ زندگی کے پرچے کو اپنی فہم و فراست سے حل کرنا پڑتا ہے۔ بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ اپنی انا اور “میں” کو پیچھے رکھنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی انسان کو فاقہ بھی دینا پڑتا ہے۔ زندگی کے بعض بھیانک موڑ انسان کو اُس کی صحیح منزل تک پہنچانے کا وسیلہ بنتے ہیں۔
تم یہ بات ذہن نشین کر لو، عورت کا اصل اور پکا ٹھکانہ سسرال ہی ہوتا ہے، جسے عورت دوسرے گھر جا کر اپنا گھر بناتی ہے۔ تم جو کچھ کر رہی ہو، یہ کوئی انوکھا نہیں۔ تم کوئی احسان نہیں کر رہی ہو۔ ہر عورت کام کرتی ہے، بچوں کو پالتی ہے۔ شکر کرو تمہیں باہر کے کام نہیں کرنے پڑتے۔
شادی شدہ زندگی تو نہایت حسین و پُرکیف ہے، بشرطیکہ کوئی اُسے ڈھنگ سے جیے۔ تم کوشش تو کرو، پھر دیکھو تمہیں زیست میں، لازوال حسنِ کائنات میں، ناقابلِ بیان رنگینی و رعنائی اور ہر ذرّۂ زمین سے انمول پیار کی مہک پھوٹتی محسوس ہوگی۔ یہ زندگی کی خوبصورت ترین حقیقت کا نام ہے۔
عورت کی صرف دو ہی تو خواہشیں ہوتی ہیں، اُسے اچھا سا جیون ساتھی ملے اور اُس کی ممتا کی تکمیل ہوسکے۔ انسانیت کا ثبوت دینے کے لیے انسان کو محبت کرنا پڑتی ہے۔ ماؤں کی نظروں سے کچھ بھی چھپا نہیں رہ سکتا۔ تم فون کرو یا نہ کرو، ماؤں کو خبر ہوجاتی ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تم ہر وقت ماتم کی کیفیت میں کیوں رہتی ہو؟”
تھوڑی دیر کے لیے اپنا دم سنبھالتے ہوئے پھر کہا:
“تم نے خود دیکھا ہوگا، اکثر مائیں بیٹی کو رخصت کرتے ہی اپنے داماد پر یہ جتانے لگتی ہیں کہ میری بچی بہت کمزور دل کی ہے یا میری بیٹی بہت نازوں میں پلی ہے، اُسے تکلیف مت دینا۔ بار بار اس طرح کی باتوں سے داماد چڑ جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب لڑکی بھی اپنی ماں کی شہ پر شوہر کے سامنے نخرے دکھانا شروع کردیتی ہے، جس کے سبب داماد اپنی ساس سے بددل ہوجاتے ہیں۔
آج کل مائیں بیٹی کو شوہر کے دل پر راج کرنے اور سسرال میں اُس کی حکمرانی قائم کرنے کی خواہش میں بیٹی کی زندگی ہی برباد کر دیتی ہیں اور پھر پچھتاتی رہتی ہیں۔ اس ضمن میں لڑکی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سمجھداری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اپنے گھر اور شوہر کی ہر بات اپنی ماں کو نہ بتائے اور شوہر کے سامنے ہر وقت “میری ماں، میرے میکے” کی تکرار نہ کرے۔ ایسا کرنے سے شوہروں کو اپنی ساس اور سسرال سے چِڑ ہونے لگتی ہے۔
رشتوں کی موت کبھی قدرتی نہیں ہوتی، اُنہیں انسان خود مارتا ہے، کبھی نفرت سے، کبھی نظرانداز سے اور کبھی غلط فہمی سے۔
اس وقت وہ ایک دردناک حقیقت اپنی بیٹی کے سامنے اُگل رہی تھی۔ خون کے رشتے ایک دوسرے سے بندھے ہوتے ہیں اور اُن کے درمیان تعلق کس قدر مضبوط ہوتا ہے، اس کا اندازہ شاید تمہیں معلوم نہیں۔ اُس شخص کا دل کبھی مت توڑو جو تمہیں پسند کرتا ہے۔ اُس شخص کو کبھی خدا حافظ مت کہو جس کو آپ کی ضرورت ہو، اور اُس شخص کو کبھی شرمندہ مت کرو جو تم پر بھروسا کرتا ہو۔
محبت کرنے والوں کی بددعاؤں سے ڈرو۔ دعائیں سمیٹ لوگی تو زندگی سنور جائے گی۔ تمہارے ماں باپ کے گھر اور سسرال کے گھر میں فرق تو ہوتا ہی ہے۔ سسرال والے ذرا برابر غیر معمولی انداز و اطوار بھی نوٹ کرتے ہیں۔ ایک بہو کو ہمیشہ اپنے آپ کو سنبھال کر چلنا ہوتا ہے تاکہ سسرال والے سمجھ سکیں کہ اُس کی تربیت کرنے والی ماں دنیا کی عظیم ترین عورتوں میں سے ایک ہے۔”
اس وقت وہ اپنی بیٹی کو سمجھا رہی تھی اور اُس کے لفظوں میں سچائی کی مہک اور جذبات کی تڑپ تھی۔
“سسرال کی ہر ایک بات وہیں دفن کر لیا کرو، ورنہ بہت سے طوفان تمہارے گھر کا راستہ دیکھ لیں گے۔ ایک بار ان فضول سوچوں سے چھٹکارا پا کر تو دیکھو، زندگی کتنی آسان ہوجائے گی۔
دوسری بات، مرد کے دل میں اُس عورت کی عزت کبھی نہیں ہوتی جسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر کی دہلیز پار کرنے کی عادت ہو۔ مرد کے ساتھ انا کا مقابلہ کرنے والی عورت بےوقوف ہوتی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا، اتنے مصروف دور میں اتنا فضول وقت، وہ بھی موبائل فون پر۔
اس فون کی وجہ سے ہماری زندگی میں سکون کی کس قدر کمی ہے۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک ٹھاک لگتا ہے، جیسے ہم سب مکمل اور بھرپور زندگی جی رہے ہیں، لیکن ہم سب اندر سے کتنے کھوکھلے اور بے سکون ہیں۔
آج اُس نے پہلی بار اپنی بیٹی کے چہرے کے تصورات کو غور سے دیکھا، جس کا دل پگھل کر موم ہوا اور اُس کی آنکھوں سے بہہ نکلا۔ شرمندگی کا دوسرا نام اگر موت ہوتا تو وہ اُس وقت مر ہی گئی ہوتی۔ اُس کی ماں اُسے سمجھا رہی تھی اور اُس کا وجود جیسے شعلوں کی زد میں آتا جا رہا تھا۔
رشتے چاہے خون کے ہوں، اگر اُن میں احساس نہ ہو تو اپنی اولاد بھی اجنبی ہو جاتی ہے۔ زندگی کی خوبصورتی رشتوں سے ہی ہوتی ہے اور یہ رشتے تب ہی قائم رہتے ہیں جب ہم اپنوں کی غلطی اور تلخ رویوں کو نظرانداز کردیں۔
ان غریب گھرانوں کو دیکھو، جہاں بچیاں ہوش سنبھالتے ہی اپنے حصے کی روٹی کی محنت کرنا شروع کردیتی ہیں۔ پھول سی بچیاں فکر سے بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ اُن کے بھی ارمان ہوتے ہیں، خواب ہوتے ہیں۔
اچھے لوگوں سے کبھی کبھار کچھ غلط ہوجاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ برے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان ہیں۔ تم دونوں اگر صرف ایک دوسرے کے عیب اور کوتاہیاں ڈھونڈتے رہو گے تو بہت جلد تمہارے دل سے لحاظ چلا جائے گا اور ساتھ میں محبت بھی چلی جائے گی۔ یہ دونوں چیزیں محبت کے گھر کی چار دیواریں ہیں۔ چار دیواری ختم ہوجائے گی تو گھر کو بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔
رشتوں کی خوبصورتی ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے میں ہے۔ بےعیب انسان تلاش کرو گی تو اکیلی رہ جاؤ گی۔
یہ پتھر جو تم دیکھ رہی ہو، یہ زمین پر ہی نہیں پائے جاتے بلکہ زبان سے برسنے والے پتھر روح کو بھی زخمی کیا کرتے ہیں۔ اس لیے کلام میں نرمی اختیار کرو۔ الفاظ کی نسبت لہجے کا زیادہ اثر پڑتا ہے، اور اپنے آپ کو سب سے بہتر سمجھ لینا جہالت ہے۔
اپنی زندگی میں ہر کسی کو اہمیت دو۔ جو اچھا ہوگا وہ خوشی دے گا، جو برا ہوگا وہ سبق دے گا۔ محبت اور خلوص فاصلے مختصر کردیتے ہیں۔
وہ بھی جب بچہ پیٹ میں ہو تو سمجھو ماں کی ذمہ داری تب سے شروع ہوجاتی ہے۔ ماں کے ہنسنے، بولنے، رونے، گنگنانے اور گڑگڑانے تک کا اثر بچے پر پڑتا ہے۔ تم بھی آج کل اپنا اور بچے کی صحت کا خیال رکھو۔ باقی ہر مسئلے کو ہوا میں اُڑا دو۔
میں یہ نہیں کہتی کہ تم غلط کہہ رہی ہو یا ان کے رویے نے تمہارا دل نہیں دکھایا ہوگا۔ تم سمجھنے کی کوشش کرو۔ تم کیوں جل جل کر اپنا خون کالا کرتی ہو؟ انسان کی زندگی میں کبھی ایک لمحہ بھی بہت قیمتی ہوتا ہے۔ وہ یا تو زندگی بنا دیتا ہے یا زندگی تباہ کر دیتا ہے۔
آخری بار میں دوبارہ تم سے کہتی ہوں، ان حماقت آمیز باتوں کو وہیں دفن کر لیا کرو، ورنہ خود دفن ہو جاؤ گی۔”
یہ کہہ کر آنسوؤں کی دھار اُس کی آنکھوں سے بہہ گئی اور روتے روتے کہنے لگی:
“میں اب بہت تھک گئی ہوں۔ دل چاہتا ہے کہ ڈھیر سارا آرام کروں، گہری نیند سو جاؤں تاکہ میرے روم روم میں یہ تھکن اُتر جائے۔”
ماں کی یہ بات سن کر اُسے جیسے پاتال میں گرا دیا گیا۔ اُس وقت وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ اُس کا ذہن ناکارہ ہو چکا تھا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو چکی تھی۔ وہ بس دم بخود ماں کو دیکھ رہی تھی، جس کے لفظوں کی سنگ باری سے وہ لہولہان ہو چکی تھی۔ اُس کے لب سِل گئے اور خاموش ہوگئے، مگر ماتھا ماں کے قدموں میں جھکنے کے لیے تڑپ رہا تھا۔
“جانے سے پہلے ایک بات یاد رکھو۔ اب دوبارہ مجھ سے ملو تو اس طرح ملو جیسے مجھے جانتی نہیں ہو، یا پھر ہم پہلی بار ملے ہوں۔ کچھ وقت تو لگے گا تجھے سمجھنے میں۔”
وہ تو چلی گئی مگر اپنی بیٹی کو سوچوں کے عمیق، گہرے سمندر میں ڈوبا چھوڑ گئی۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز


