آخری پیوند

فاضل شفیع بٹ

شعبان درزی اپنی موت کی تیاروں میں مصروف تھا۔ وہ جلد از جلد موت کو اپنی آغوش میں لینے کے لئے بے تاب تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ موت ہی اس کے درد و کرب کا واحد علاج ہے. دسمبر کا مہینہ تھا۔ آسمان پر سورج بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے میں محو تھا۔ شعبان کو یاد آیا کہ اسی دسمبر کے مہینے میں جب زمین کی سطح برف کی چادر تلے دب چکی تھی وہ اپنی دکان پر کپڑے سلنے میں مصروف تھا تو اس کے پڑوسی نے آکر اسے باخبر کیا تھا کہ اس کے گھر میں بیٹے نے جنم لیا ہے۔ شعبان درزی نے یہ خوشخبری سن کر آناً فاناً اپنی دکان بند کی اور سیدھے اپنی گھر کا رخ کیا۔ راستے میں دکان سے مٹھائیاں خرید لی اور گھر جاتے ہی سب کا منہ میٹھا کیا۔
شادی کے سات سال بعد آج وہ اولاد کی نعمت سے مالا مال ہوا تھا۔ دسمبر کا مہینہ اس کے لئے مبارک مہینہ ثابت ہوا۔ بیٹے کی ولادت نے شعبان درزی کو ایک آسرا دیا۔وہ اس کے بڑھاپے کا سہارا ہونے والا تھا۔ اس نے نمناک آنکھوں سے اپنے رب کا شکر ادا کیا اور پیار سے اپنی بیگم حلیمہ کی پیٹھ تھپتھپائی۔۔
شعبان درزی سوچ رہا تھا کہ آج سے تیس برس قبل اس نے بھی اسی طرح اس دنیا میں قدم رکھا تھا۔ اس کے باپ رمضان درزی نے بھی اسی طرح خوشی محسوس کی ہوگی۔ رمضان درزی برسوں پہلے اس دنیا سے کوچ کر گیا ہے۔ اس کی ماں نے بھی اس فانی دنیا کو خیر باد کہا ہے۔۔ یہ خوشی بس چند سالوں کے لئے ہے۔ آخر سب کو فنا ہونا ہے۔ وقت اسی طرح گزرتا رہے گا۔ میری دکان پر میرے باپ نے تیس سال تک کپڑے سینے کا کام انجام دیا۔ آج بھی وہ دکان وہی موجود ہے۔ میں نے بھی اپنی زندگی کے تیس برس اسی دکان میں گزارے۔ یہ وقت بھی کیا عجیب چیز ہے۔ چشم زدن میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ میرے باپ نے مفلسی میں اپنی زندگی بسر کی اور جب میں کمانے لگا تو وہ بیچارہ فالج کا شکار ہوا۔ میں نے اسے سہارا دینے کی بھرپور کوشش کی پر میں اس کو موت کی گرفت سے نہ بچا سکا۔ وہ مفلسی میں پیدا ہوا اور اسی مفلسی میں اس کا خاتمہ بھی ہوا۔ جب خدا سے شکایت کی تو جواب ملا کہ اس میں بھی خدا نے کچھ بہتر ہی لکھا ہوگا۔ میرا باپ مر گیا، میری ماں مر گئی ۔۔۔اور میں پھر ایک مفلس اپنے باپ کی دکان میں لوگوں کے کپڑے سیتا رہا۔۔ آمدنی محض اتنی ہو سکی جس سے مشکل سے اپنی بیگم حلیمہ اور اپنا پیٹ پالتا۔۔۔ جمع پونجی کے بارے میں کبھی سوچنے کی حماقت نہ کی۔۔۔
شعبان درزی نے ٹھان لی کہ وہ اپنے بیٹے کو تعلیم سے آراستہ کرے گا۔ وہ اس کے بہترین مستقبل کے لئے دن دگنی رات چگنی محنت کرے گا۔ وہ اپنے بیٹے کو مفلسی کے قفس کا قیدی نہ بننے دے گا۔ وہ صبح تڑ کے ہی اپنی دکان کا رخ کرتا اور رات دیر تک اپنے کام میں مگن رہتا۔ شعبان درزی نے علاقے کے ایک اچھے سکول میں اپنے بیٹے خورشید کا داخلہ کرایا۔ خورشید پڑھنے میں کافی تیز تھا۔۔
وقت یہ سب دیکھ رہا تھا اور رینگ رہا تھا۔۔۔۔ خورشید جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی حلیمہ کے سائے سے محروم ہوا۔۔۔ خورشید کی ماں نے اس کا دامن تو چھوڑ دیا مگر شعبان درزی نے ہمت نہ ہاری ۔ وہ اپنے وعدے پر قائم تھا۔ اس نے خورشید کو اس قابل بنایا کہ وہ ایک سرکاری نوکری حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔۔
اب شاید شعبان درزی کے اچھے دن آنے والے تھے۔ جو مفلسی کا داغ لئے وہ برسوں سے جی رہا تھا اب شاید وہ داغ ہمیشہ کے لئے مٹنے والا تھا۔ شعبان درزی خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔ آج اس کی محنت رنگ لائی تھی۔ اس کا بیٹا اب سرکاری نوکر تھا۔ شعبان درزی نے خورشید کی شادی کا اعلان کیا۔ دھوم دھام سے خورشید کی شادی انجام دی گئی۔
نئی نویلی دلہن نے چند ماہ شعبان درزی اور خورشید کی خوب خاطرداری کی۔ وہ ان کا ہر حکم بجا لاتی۔ اس نے شعبان درزی کو دکان پر جانے سے بھی منع کیا اور کہا کہ اب یہ کام اس کو زیب نہیں دیتا۔ اس نے مزید کہا کہ اس کا بیٹا اچھا خاصا کماتا ہے اور اس نے اپنے سسر کو گھر میں آرام کرنے کی تلقین کی۔
شعبان درزی نے بہو کے کہنے پر اب دکان پر جانا بند کر دیا۔ اس نے اپنے پیشے کو خیر باد کہا۔ وہ پیشہ جو اس کے باپ کی وراثت تھا۔۔۔ آج شعبان درزی نے اس پیشے کو ہمیشہ کے لئے رخصت کر دیا۔۔ حالانکہ دکان وہیں موجود تھی۔۔ اس دکان پر شعبان درزی نے ایک بڑا سا تالا لگا دیا۔
شعبان درزی اب گاؤں کی گلیوں میں گھومتا رہتا اور کبھی کبھار گاؤں کی دکانوں پر اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر لمبی لمبی گفتگو چھیڑتا۔۔ یہ اس کی زندگی کے شاندار لمحے تھے۔۔ وہ سکون سے اپنی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس کو یوں لگ رہا تھا کہ واقعی خورشید اس کے بڑھاپے کی لاٹھی ہے۔۔
وقت یہ سب دیکھ رہا تھا اور من ہی من میں خوب ہنس رہا تھا کیونکہ وقت اب ایک نئی چال چلنے والا تھا جس سے شعبان درزی بالکل ناآشنا تھا۔۔
خورشید کی آمدنی کا کچھ حصہ شعبان درزی کی دوائیوں پر صرف ہوتا۔ چونکہ شعبان درزی اب کوئی بھی کام کرنے سے قاصر تھا گویا وہ خورشید اور اس کی بہو پر ایک بوجھ تھا۔ حالانکہ خورشید ایک فرمانبردار بیٹا تھا۔ دھیرے دھیرے بہو کی آنکھوں میں اب شعبان درزی کھٹکنے لگا۔ آئے دن گھر میں لڑائی جھگڑے ہونے لگے۔ خورشید کی بیوی کا کہنا تھا کہ اس کا سسر اس کو بے حد تنگ کرتا ہے، بات بے بات اس کو ٹوکتا ہے اور اس کے نجی معاملوں میں دخل اندازی کرتا ہے۔ خورشید نے اپنی بیوی کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی بیوی کے سامنے بے یار و مددگار تھا۔
ایک دن جب خورشید اپنے آفس سے گھر لوٹا تو دیکھا کہ اس کی بیوی زار و قطار رو رہی تھی۔ شعبان درزی حالات سے بے خبر ایک دوست کی دکان پر بیٹھ کر حقہ پی رہا تھا۔ خورشید نے رونے کی وجہ دریافت کی تو اس کی بیوی نے کہا:
” آپ کی بیوی آج سےکسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی۔ آپ کو کئی بار بولا تھا کہ آپ کا باپ صحیح آدمی نہیں ہے۔ لیکن آپ نے کبھی میری باتوں کا بھروسہ نہ کیا اور ہمیشہ اپنے باپ کی طرف داری کرتے رہے اور آج آپ کے باپ نے میری عزت پر حملہ کیا”
خورشید ایک دم سے چونک گیا۔ وہ شش و پنج میں پڑ گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
شعبان درزی شام کو گھر لوٹا اور اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ تھوڑی دیر بعد خورشید اپنے باپ کے کمرے میں نمودار ہوا اور اپنے باپ سے کہا کہ کیا واقعی اس نے بہو کے ساتھ کچھ نازیبا حرکت کی ہے؟
یہ الفاظ سنتے ہی شعبان درزی سکتے میں آگیا۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی بہو اس قدر گر سکتی ہے۔ یہ الزام تراشی نہ تھی بلکہ شعبان درزی کا اپنے باپ دادا کے گھر سے جنازہ تھا۔ آج شعبان درزی کا سب کچھ ایک دم سے گویا مسمار ہو گیا۔ آج اس کے بڑھاپے کی لاٹھی ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے خورشید کی باتوں کا کوئی جواب نہ دیا۔ خورشید دم سادھے کمرے سے باہر آگیا۔
اس رات شعباں درزی نے رات کا کھانا نہ کھایا۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ بستر پر حلیمہ کو یاد کر رہا تھا۔ ساری رات حلیمہ اس کی یادوں کا حصہ رہی۔ وہ حلیمہ سے پرنم آنکھوں سے مخاطب تھا:
” حلیمہ آج میں بیٹے کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو گیا۔ میری عمر اس قابل نہیں کہ ایک جوان عورت کو بری نظروں سے بھی دیکھ لوں۔۔ وہ بھی اپنی بہو کو ،جو میری لخت جگر ہے۔۔۔ حلیمہ کپڑے سلتے سلتے میری آنکھوں کی روشنی بہت کمزور ہو چکی ہے لیکن میں نے کبھی اپنے بیٹے سے اس بات کا ذکر تک نہ کیا۔ ہم نے اپنی زندگی مفلسی میں بسر کی لیکن آج خورشید ایک اچھی زندگی گزار رہا ہے۔ میں نے اپنے باپ ہونے کا فرض ادا کیا۔ لیکن میں اس بات سے بالکل بے خبر ہوں کہ آخر میری بہو نے ایسا کیوں کیا”
صبح کی دودھیاروشنی ہر سمت پھیل رہی تھی۔ شعبان درزی نے صبح کی نماز ادا کی۔ اس نے خدا سے کوئی شکایت نہیں کی۔۔ شاید وہ خدا سے ناراض تھا۔۔۔ مارچ کے اوائل کی تند ہوا میں صبح تڑکے ہی شعبان درزی نے اپنی دکان کا رخ کیا۔ دکان کا تالا کھولا اور دکان میں بیٹھ گیا۔۔ وہ اپنے ماضی کے خیالوں میں غرق تھا۔ اسی دکان پر اس نے زندگی کا بیشتر حصہ گذارا تھا۔ اس نے دیکھا دکان میں چند پرانے کپڑے پڑے ہیں جن کو وہ سلنا شاید بھول چکا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔۔ کل تک وہ ایک باعزت درزی تھا اور آج بہو اور بیٹے کی نظروں میں وہ ایک وحشی ہے ،ایک درندہ ہے جو عورتوں کی عزت پر حملہ کرتا ہے۔
شعبان درزی نے دکان کی صفائی کی۔ پرانے کپڑوں کی گٹھری بنا کر دکان پر تالا لگایا اور اپنی ناموس و عزت کو وہیں دفن کیا۔ وہ آج گاؤں کے گلی کوچوں میں آخری بار اپنے قدم رکھ رہا تھا اور اپنے گاؤں کا آخری بار اپنی کمزور آنکھوں سے دیدار کر رہا تھا۔ اس نے گاؤں سے تھوڑی سی مسافت پر واقع سیب کے باغات کا رخ کیا۔ پرانے کپڑے سے پھندہ بنایا اور اپنے گلے میں ڈال دیا۔
درخت سے لٹکتے شعبان درزی کی آنکھیں اپنے گوٹوں سے باہر پھٹی ہوئی تھیں اور بازار کی سمت جیسے اپنی اسی پرانی دکان کی جانب ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھیں جس پر مفلسی کا تالا عمر بھر کے لئے چڑھ چکا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

آخری پیوند

فاضل شفیع بٹ

شعبان درزی اپنی موت کی تیاروں میں مصروف تھا۔ وہ جلد از جلد موت کو اپنی آغوش میں لینے کے لئے بے تاب تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ موت ہی اس کے درد و کرب کا واحد علاج ہے. دسمبر کا مہینہ تھا۔ آسمان پر سورج بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے میں محو تھا۔ شعبان کو یاد آیا کہ اسی دسمبر کے مہینے میں جب زمین کی سطح برف کی چادر تلے دب چکی تھی وہ اپنی دکان پر کپڑے سلنے میں مصروف تھا تو اس کے پڑوسی نے آکر اسے باخبر کیا تھا کہ اس کے گھر میں بیٹے نے جنم لیا ہے۔ شعبان درزی نے یہ خوشخبری سن کر آناً فاناً اپنی دکان بند کی اور سیدھے اپنی گھر کا رخ کیا۔ راستے میں دکان سے مٹھائیاں خرید لی اور گھر جاتے ہی سب کا منہ میٹھا کیا۔
شادی کے سات سال بعد آج وہ اولاد کی نعمت سے مالا مال ہوا تھا۔ دسمبر کا مہینہ اس کے لئے مبارک مہینہ ثابت ہوا۔ بیٹے کی ولادت نے شعبان درزی کو ایک آسرا دیا۔وہ اس کے بڑھاپے کا سہارا ہونے والا تھا۔ اس نے نمناک آنکھوں سے اپنے رب کا شکر ادا کیا اور پیار سے اپنی بیگم حلیمہ کی پیٹھ تھپتھپائی۔۔
شعبان درزی سوچ رہا تھا کہ آج سے تیس برس قبل اس نے بھی اسی طرح اس دنیا میں قدم رکھا تھا۔ اس کے باپ رمضان درزی نے بھی اسی طرح خوشی محسوس کی ہوگی۔ رمضان درزی برسوں پہلے اس دنیا سے کوچ کر گیا ہے۔ اس کی ماں نے بھی اس فانی دنیا کو خیر باد کہا ہے۔۔ یہ خوشی بس چند سالوں کے لئے ہے۔ آخر سب کو فنا ہونا ہے۔ وقت اسی طرح گزرتا رہے گا۔ میری دکان پر میرے باپ نے تیس سال تک کپڑے سینے کا کام انجام دیا۔ آج بھی وہ دکان وہی موجود ہے۔ میں نے بھی اپنی زندگی کے تیس برس اسی دکان میں گزارے۔ یہ وقت بھی کیا عجیب چیز ہے۔ چشم زدن میں سب کچھ بدل جاتا ہے۔ میرے باپ نے مفلسی میں اپنی زندگی بسر کی اور جب میں کمانے لگا تو وہ بیچارہ فالج کا شکار ہوا۔ میں نے اسے سہارا دینے کی بھرپور کوشش کی پر میں اس کو موت کی گرفت سے نہ بچا سکا۔ وہ مفلسی میں پیدا ہوا اور اسی مفلسی میں اس کا خاتمہ بھی ہوا۔ جب خدا سے شکایت کی تو جواب ملا کہ اس میں بھی خدا نے کچھ بہتر ہی لکھا ہوگا۔ میرا باپ مر گیا، میری ماں مر گئی ۔۔۔اور میں پھر ایک مفلس اپنے باپ کی دکان میں لوگوں کے کپڑے سیتا رہا۔۔ آمدنی محض اتنی ہو سکی جس سے مشکل سے اپنی بیگم حلیمہ اور اپنا پیٹ پالتا۔۔۔ جمع پونجی کے بارے میں کبھی سوچنے کی حماقت نہ کی۔۔۔
شعبان درزی نے ٹھان لی کہ وہ اپنے بیٹے کو تعلیم سے آراستہ کرے گا۔ وہ اس کے بہترین مستقبل کے لئے دن دگنی رات چگنی محنت کرے گا۔ وہ اپنے بیٹے کو مفلسی کے قفس کا قیدی نہ بننے دے گا۔ وہ صبح تڑ کے ہی اپنی دکان کا رخ کرتا اور رات دیر تک اپنے کام میں مگن رہتا۔ شعبان درزی نے علاقے کے ایک اچھے سکول میں اپنے بیٹے خورشید کا داخلہ کرایا۔ خورشید پڑھنے میں کافی تیز تھا۔۔
وقت یہ سب دیکھ رہا تھا اور رینگ رہا تھا۔۔۔۔ خورشید جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی حلیمہ کے سائے سے محروم ہوا۔۔۔ خورشید کی ماں نے اس کا دامن تو چھوڑ دیا مگر شعبان درزی نے ہمت نہ ہاری ۔ وہ اپنے وعدے پر قائم تھا۔ اس نے خورشید کو اس قابل بنایا کہ وہ ایک سرکاری نوکری حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔۔
اب شاید شعبان درزی کے اچھے دن آنے والے تھے۔ جو مفلسی کا داغ لئے وہ برسوں سے جی رہا تھا اب شاید وہ داغ ہمیشہ کے لئے مٹنے والا تھا۔ شعبان درزی خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔ آج اس کی محنت رنگ لائی تھی۔ اس کا بیٹا اب سرکاری نوکر تھا۔ شعبان درزی نے خورشید کی شادی کا اعلان کیا۔ دھوم دھام سے خورشید کی شادی انجام دی گئی۔
نئی نویلی دلہن نے چند ماہ شعبان درزی اور خورشید کی خوب خاطرداری کی۔ وہ ان کا ہر حکم بجا لاتی۔ اس نے شعبان درزی کو دکان پر جانے سے بھی منع کیا اور کہا کہ اب یہ کام اس کو زیب نہیں دیتا۔ اس نے مزید کہا کہ اس کا بیٹا اچھا خاصا کماتا ہے اور اس نے اپنے سسر کو گھر میں آرام کرنے کی تلقین کی۔
شعبان درزی نے بہو کے کہنے پر اب دکان پر جانا بند کر دیا۔ اس نے اپنے پیشے کو خیر باد کہا۔ وہ پیشہ جو اس کے باپ کی وراثت تھا۔۔۔ آج شعبان درزی نے اس پیشے کو ہمیشہ کے لئے رخصت کر دیا۔۔ حالانکہ دکان وہیں موجود تھی۔۔ اس دکان پر شعبان درزی نے ایک بڑا سا تالا لگا دیا۔
شعبان درزی اب گاؤں کی گلیوں میں گھومتا رہتا اور کبھی کبھار گاؤں کی دکانوں پر اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر لمبی لمبی گفتگو چھیڑتا۔۔ یہ اس کی زندگی کے شاندار لمحے تھے۔۔ وہ سکون سے اپنی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس کو یوں لگ رہا تھا کہ واقعی خورشید اس کے بڑھاپے کی لاٹھی ہے۔۔
وقت یہ سب دیکھ رہا تھا اور من ہی من میں خوب ہنس رہا تھا کیونکہ وقت اب ایک نئی چال چلنے والا تھا جس سے شعبان درزی بالکل ناآشنا تھا۔۔
خورشید کی آمدنی کا کچھ حصہ شعبان درزی کی دوائیوں پر صرف ہوتا۔ چونکہ شعبان درزی اب کوئی بھی کام کرنے سے قاصر تھا گویا وہ خورشید اور اس کی بہو پر ایک بوجھ تھا۔ حالانکہ خورشید ایک فرمانبردار بیٹا تھا۔ دھیرے دھیرے بہو کی آنکھوں میں اب شعبان درزی کھٹکنے لگا۔ آئے دن گھر میں لڑائی جھگڑے ہونے لگے۔ خورشید کی بیوی کا کہنا تھا کہ اس کا سسر اس کو بے حد تنگ کرتا ہے، بات بے بات اس کو ٹوکتا ہے اور اس کے نجی معاملوں میں دخل اندازی کرتا ہے۔ خورشید نے اپنی بیوی کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی بیوی کے سامنے بے یار و مددگار تھا۔
ایک دن جب خورشید اپنے آفس سے گھر لوٹا تو دیکھا کہ اس کی بیوی زار و قطار رو رہی تھی۔ شعبان درزی حالات سے بے خبر ایک دوست کی دکان پر بیٹھ کر حقہ پی رہا تھا۔ خورشید نے رونے کی وجہ دریافت کی تو اس کی بیوی نے کہا:
” آپ کی بیوی آج سےکسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی۔ آپ کو کئی بار بولا تھا کہ آپ کا باپ صحیح آدمی نہیں ہے۔ لیکن آپ نے کبھی میری باتوں کا بھروسہ نہ کیا اور ہمیشہ اپنے باپ کی طرف داری کرتے رہے اور آج آپ کے باپ نے میری عزت پر حملہ کیا”
خورشید ایک دم سے چونک گیا۔ وہ شش و پنج میں پڑ گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
شعبان درزی شام کو گھر لوٹا اور اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ تھوڑی دیر بعد خورشید اپنے باپ کے کمرے میں نمودار ہوا اور اپنے باپ سے کہا کہ کیا واقعی اس نے بہو کے ساتھ کچھ نازیبا حرکت کی ہے؟
یہ الفاظ سنتے ہی شعبان درزی سکتے میں آگیا۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی بہو اس قدر گر سکتی ہے۔ یہ الزام تراشی نہ تھی بلکہ شعبان درزی کا اپنے باپ دادا کے گھر سے جنازہ تھا۔ آج شعبان درزی کا سب کچھ ایک دم سے گویا مسمار ہو گیا۔ آج اس کے بڑھاپے کی لاٹھی ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے خورشید کی باتوں کا کوئی جواب نہ دیا۔ خورشید دم سادھے کمرے سے باہر آگیا۔
اس رات شعباں درزی نے رات کا کھانا نہ کھایا۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ بستر پر حلیمہ کو یاد کر رہا تھا۔ ساری رات حلیمہ اس کی یادوں کا حصہ رہی۔ وہ حلیمہ سے پرنم آنکھوں سے مخاطب تھا:
” حلیمہ آج میں بیٹے کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو گیا۔ میری عمر اس قابل نہیں کہ ایک جوان عورت کو بری نظروں سے بھی دیکھ لوں۔۔ وہ بھی اپنی بہو کو ،جو میری لخت جگر ہے۔۔۔ حلیمہ کپڑے سلتے سلتے میری آنکھوں کی روشنی بہت کمزور ہو چکی ہے لیکن میں نے کبھی اپنے بیٹے سے اس بات کا ذکر تک نہ کیا۔ ہم نے اپنی زندگی مفلسی میں بسر کی لیکن آج خورشید ایک اچھی زندگی گزار رہا ہے۔ میں نے اپنے باپ ہونے کا فرض ادا کیا۔ لیکن میں اس بات سے بالکل بے خبر ہوں کہ آخر میری بہو نے ایسا کیوں کیا”
صبح کی دودھیاروشنی ہر سمت پھیل رہی تھی۔ شعبان درزی نے صبح کی نماز ادا کی۔ اس نے خدا سے کوئی شکایت نہیں کی۔۔ شاید وہ خدا سے ناراض تھا۔۔۔ مارچ کے اوائل کی تند ہوا میں صبح تڑکے ہی شعبان درزی نے اپنی دکان کا رخ کیا۔ دکان کا تالا کھولا اور دکان میں بیٹھ گیا۔۔ وہ اپنے ماضی کے خیالوں میں غرق تھا۔ اسی دکان پر اس نے زندگی کا بیشتر حصہ گذارا تھا۔ اس نے دیکھا دکان میں چند پرانے کپڑے پڑے ہیں جن کو وہ سلنا شاید بھول چکا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔۔ کل تک وہ ایک باعزت درزی تھا اور آج بہو اور بیٹے کی نظروں میں وہ ایک وحشی ہے ،ایک درندہ ہے جو عورتوں کی عزت پر حملہ کرتا ہے۔
شعبان درزی نے دکان کی صفائی کی۔ پرانے کپڑوں کی گٹھری بنا کر دکان پر تالا لگایا اور اپنی ناموس و عزت کو وہیں دفن کیا۔ وہ آج گاؤں کے گلی کوچوں میں آخری بار اپنے قدم رکھ رہا تھا اور اپنے گاؤں کا آخری بار اپنی کمزور آنکھوں سے دیدار کر رہا تھا۔ اس نے گاؤں سے تھوڑی سی مسافت پر واقع سیب کے باغات کا رخ کیا۔ پرانے کپڑے سے پھندہ بنایا اور اپنے گلے میں ڈال دیا۔
درخت سے لٹکتے شعبان درزی کی آنکھیں اپنے گوٹوں سے باہر پھٹی ہوئی تھیں اور بازار کی سمت جیسے اپنی اسی پرانی دکان کی جانب ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھیں جس پر مفلسی کا تالا عمر بھر کے لئے چڑھ چکا تھا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں