جنگ نیوز
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ ان طلبہ کو معاف کرتے ہیں جنہوں نے جنتر منتر احتجاج کے دوران اُنہیں اور اُن کی مرحوم والدہ کو گالیاں دیں۔ انہوں نے ان طلبہ کو "گمراہ بچے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سزا یا طویل قانونی کارروائی کے بجائے رہنمائی کے مستحق ہیں۔
ایک ویڈیو پیغام میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ مظاہرین کی جانب سے استعمال کی گئی زبان "مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں”، تاہم انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسے طلبہ سے انتقام لینے کے بجائے ان کی اصلاح میں مدد کریں۔
انہوں نے کہا، "کچھ شرارتی بچوں نے انتہائی نازیبا گالیاں دیں۔ گالیاں مجھے بھی دی گئیں اور میری مرحوم والدہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔”
مودی نے کہا کہ غصہ کسی حد تک قابلِ فہم ہو سکتا ہے، خصوصاً نوجوان خواتین کی جانب سے مبینہ طور پر استعمال کی گئی زبان کے تناظر میں، لیکن توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ ایسے نوجوانوں کو درست راستہ دکھایا جائے، نہ کہ انہیں قانونی مقدمات میں الجھا دیا جائے۔
وزیرِ اعظم نے والدین، اساتذہ اور معاشرے سے بھی اپیل کی کہ وہ نوجوان نسل کی مثبت رہنمائی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اظہارِ رائے ہمیشہ شائستگی، تہذیب اور باہمی احترام کے دائرے میں ہونا چاہیے۔


