افواہ

 

بشیر اطہر

افواہیں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، یہ زندہ چنگاریاں ہوتی ہیں جو وقت آنے پر شعلوں میں بدل جاتی ہیں۔ یہ دلوں کو جلا دیتی ہیں، گھروں کو راکھ بنا دیتی ہیں اور صدیوں کی محبت کو لمحوں میں خاکستر کر دیتی ہیں۔
میں ایک عام سا انسان ہوں، گاؤں کی مٹی سے جڑا ہوا۔ ہمیشہ یہی سمجھتا رہا کہ ہمارا گاؤں اور آس پاس کی بستیاں محبت اور بھائی چارے کی ایسی مثال ہیں جن پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک دن ایک افواہ اس ساری بنیاد کو کھوکھلا کر دے گی۔
اس دن مجھے ایک ضروری کام سے سرینگر جانا تھا۔ صبح سویرے بہار کی تازگی دل کو روشن کر رہی تھی۔ کھیتوں میں گندم کی بالیاں ہوا کے ساتھ لہرا رہی تھیں۔ دور پرندوں کی آوازیں فضا میں نغمگی گھول رہی تھیں۔
پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے ہر شخص نے حسبِ معمول محبت سے سلام کیا۔
"ارے بیٹا! خیر ہے؟ آج کہاں کا ارادہ ہے؟”
میں مسکرایا،”سرینگر جانا ہے چچا، ایک ضروری کام ہے۔ سب لوگ ٹھیک ہیں؟”
"اللہ خیر کرے، بہت دعائیں۔”گاؤں کا دستور ہی یہی تھا……. محبت، سلامتی اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنا۔
میں سڑک تک پہنچا ہی تھا کہ سامنے گاؤں کا مشہور مسخرہ رسول شیخ نظر آیا۔ دوڑتا، ہانپتا، پسینے میں بھیگا ہوا۔”ارے رکونا!” وہ چلّایا۔ "سنا تم نے؟”
میں نے حیران ہو کر پوچھا”کیا ہوا رسول بھائی؟”
اس نے کپکپاتی آواز میں کہا”شاہ پور والوں نے شکار پور پر پانی بند کر دیا ہے! بڑا فساد ہونے والا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں نے ہندؤں کو پیاسا مارنے کی ٹھان لی ہے!”
میں سکتے میں آ گیا۔”رسول کاکا! یہ کیا کہہ رہے ہو” شاہ پور اور شکار پور تو بھائیوں سے بڑھ کر ہیں!”
وہ پریشان لہجے میں بولا”میں بھی یہی کہہ رہا ہوں، مگر لوگ غصے میں ہیں… کچھ بڑا ہونے والا ہے!”
اسی وقت شیخ سنا….. گاؤں کا درویش صفت بزرگ…… قریب کے بھید کے درخت سے اٹھا اور بولا”یہ خبر جھوٹ نہیں ہے۔ میں کل بَسم پور سے آیا ہوں۔ وہاں دلوں میں آگ لگی ہے۔ بس چنگاری چاہیے۔ دیکھنا آج شام تک سب کچھ بھسم ہو جائے گا۔”
میں نے لرزتی آواز میں کہا”شیخ صاحب!آپ جیسےسمجھدار شخص کو ایسی بات زیب نہیں دیتی!”
وہ آہستہ بولا”سچ کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے بیٹا۔ دعا کرو کہ دیر نہ ہو گئی ہو۔”اور وہ آگے بڑھ گیا۔
رسول نے گھبرا کر کہا”میں تو گاؤں جا رہا ہوں! لوگوں کو خبردار کرنا ہوگا!”
میں کچھ کہہ بھی نہ پایا کہ ایک گاڑی رکھی اور میں سرینگر کی طرف روانہ ہو گیا۔
لالچوک پہنچتے ہی فضا بدل چکی تھی۔دکانیں جلدی جلدی بند ہو رہی تھیں۔لوگ چیخ رہے تھے، بھاگ رہے تھے، عورتوں کے چہروں پر خوف جمع تھا۔
میں نے ایک شخص کو بازو سے پکڑا”بھائی کیا ہوا؟ کیوں بھاگ رہے ہو؟”
وہ ہانپتے ہوئے بولا”فساد ہو گیا! لوگ مر گئے، گھر جل رہے ہیں!”
"کہاں؟ کس جگہ؟”
"شاہ پور اور شکار پور!”
میرے اندر جیسے زمین کھسک گئی۔ مجھے شدید دھندلاہٹ محسوس ہوئی۔میں ایک مجمع کے پاس رک گیا جہاں لوگ ٹی وی پر خبریں دیکھ رہے تھے۔اسکرین پر دھواں، آگ، چیخیں تھیں
رپورٹر چیخ رہی تھی.
"مذہبی فساد نے دونوں گاؤں کو تباہ کر دیا ہے۔ کئی گھر جل چکے ہیں۔ ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں……. افواہ کے مطابق پانی بند کرنے سے یہ فساد شروع ہوا۔”
میں نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون ملایا۔ میری بیوی کی لرزتی آواز آئی”کہاں ہو تم؟ ٹھیک ہو؟”
میں روہانسا ہو کر بولا”گاؤں میں کیا ہوا؟”
"بَسم پور کے لڑکوں نے حملہ کر دیا۔ سب کہہ رہے ہیں کہ شاہ پور نے پانی بند کیا تھا! مگر ابھی پتہ چلا ہے کہ یہ صرف افواہ تھی…… شیخ سنا نے غلط خبر پھیلائی تھی!”
میں بے جان آواز میں بولا”ایک جھوٹ… اور اتنی بربادی؟”
فون ہاتھ سے گر گیا۔
جب گھر پہنچا تو دیکھا…… گھر نہیں، راکھ کا ڈھیر تھا۔
شاہ پور اور شکار پور کے لوگ ایک ساتھ بیٹھے رو رہے تھے۔
کسی کے ہاتھ پر مرہم، کسی کے دل پر پچھتاوا۔ایک بوڑھا ہندو چیخ کر رو رہا تھا”بیٹا میرا مسلمان تھا! مگر انسان تھا! ہم نے اسے مار دیا!”
ایک مسلمان عورت چیختی رہی:
"ہم نے کس لئے لڑائی؟ کس نے کہا تھا؟ کس کی بات مانی؟”
ہر طرف صرف ایک جملہ گونج رہا تھا
"افواہ جھوٹی تھی…”
رات گہری ہو چکی تھی۔ ہر طرف سناٹا، جلتے گھروں کی دھیمی راکھ اور فضا میں بکھری ہوئی جلی لکڑی کی بو۔
میں ویران گلی میں کھڑا سب دیکھ رہا تھا……. سب کچھ ٹوٹ چکا تھا مگر کہیں اندر ایک بے نام سی چنگاری تھی کہ شاید صبح کچھ بدل لے آئے۔
اسی وقت مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے آواز آئی، جو ٹوٹی، آہستہ اور زخمی سی تھی
"اللہ کہتا ہے کہ اگر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ”
یہ آواز حافظ غلام نبی کی تھی، جو کل تک ہندو آچاریہ شری کرشن موہن کے ساتھ کھیتوں کے کنارے چائے پیا کرتے تھے۔
کچھ فاصلے پر مندر کا گھنٹا بجا، اور شری کرشن موہن جی کی آواز گونجی”جو ہوا وہ ہوا، کسی مذہب نے نہیں سکھایا کہ گھروں کو جلاؤ اور رشتوں کو مار دو… آؤ، مل کر سب ٹھیک کریں”
دونوں بزرگ آہستہ آہستہ ایک ہی سمت چلتے ہوئے گاؤں کے چوراہے پر آ گئے۔میں بھی بھیڑ میں کھڑا تھا۔لوگ خاموش تھے…… شرمندہ، دل گرفتہ۔
مولوی صاحب نے کانپتی آواز میں کہا”آؤ، ہم آج یہاں عہد کریں کہ ہم کسی افواہ پر کان نہیں دھریں گے…
صرف سچ پر یقین کریں گے…”
آچاریہ جی بولے "آؤ ہم ہاتھ ملائیں، تاکہ بچوں کو ایک بار پھر یہ گاؤں ہاتھوں کی مضبوطی سے جوڑ کر دیں، نفرت سے نہیں۔”
دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لئے۔
انہی لمحات میں سب سے آگے کھڑا زخمی نوجوان بلجیت سنگھ اپنے بہتے خون کو کپڑے سے باندھتے ہوئے آگے بڑھا اور بولا….
"میرا چھوٹا بھائی علی آگ بجھاتے ہوئے جل گیا… اس نے میرا بچاؤ کیا۔میں اس کی قربانی کبھی نہیں بھولوں گا۔آج سے میرے لئے مذہب نہیں، انسانیت بڑی ہے۔”
اس کے ساتھ کھڑے علی کے والد نے آنسوؤں کے ساتھ کہا
"اور میں بلجیت کو اپنا بیٹا مانتا ہوں۔”ایک لمحے کے لئے ہوا تھم گئی۔
پھر اچانک سارا مجمع رونے لگا۔
وہ رونا شکست کا نہیں…….
معافی اور محبت کی واپسی کا رونا تھا۔
ایک چھوٹے لڑکے نے آگے بڑھ کر دونوں کی انگلیاں تھامیں اور بولا:”کیا ہم پھر سے ساتھ کھیلیں گے؟”مولوی صاحب نے بچے کو گود میں اٹھایا اور کہا”ہاں بیٹا….. اب یہ گاؤں پھر سے جیے گا۔”
اُسی لمحے فضا میں ایک اذان گونجی،اس کے ساتھ مندر کے گھنٹے بجے،اور دونوں آوازیں مل کر ایسا لگا جیسے آسمان بھی دعا مانگ رہا ہو۔فضا میں بھاری خاموشی کی جگہ پہلی بار امید کی روشنی محسوس ہوئی۔
اور آج بھی جب سورج چڑھتا ہے،
کھیتوں میں لہلہاتی گندم کی بالیاں ہم سے ایک ہی سوال کرتی ہیں”افواہ جھوٹی تھی….. مگر کیا ہم سچ سے جئیں گے؟”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

افواہ

 

بشیر اطہر

افواہیں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، یہ زندہ چنگاریاں ہوتی ہیں جو وقت آنے پر شعلوں میں بدل جاتی ہیں۔ یہ دلوں کو جلا دیتی ہیں، گھروں کو راکھ بنا دیتی ہیں اور صدیوں کی محبت کو لمحوں میں خاکستر کر دیتی ہیں۔
میں ایک عام سا انسان ہوں، گاؤں کی مٹی سے جڑا ہوا۔ ہمیشہ یہی سمجھتا رہا کہ ہمارا گاؤں اور آس پاس کی بستیاں محبت اور بھائی چارے کی ایسی مثال ہیں جن پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک دن ایک افواہ اس ساری بنیاد کو کھوکھلا کر دے گی۔
اس دن مجھے ایک ضروری کام سے سرینگر جانا تھا۔ صبح سویرے بہار کی تازگی دل کو روشن کر رہی تھی۔ کھیتوں میں گندم کی بالیاں ہوا کے ساتھ لہرا رہی تھیں۔ دور پرندوں کی آوازیں فضا میں نغمگی گھول رہی تھیں۔
پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے ہر شخص نے حسبِ معمول محبت سے سلام کیا۔
"ارے بیٹا! خیر ہے؟ آج کہاں کا ارادہ ہے؟”
میں مسکرایا،”سرینگر جانا ہے چچا، ایک ضروری کام ہے۔ سب لوگ ٹھیک ہیں؟”
"اللہ خیر کرے، بہت دعائیں۔”گاؤں کا دستور ہی یہی تھا……. محبت، سلامتی اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنا۔
میں سڑک تک پہنچا ہی تھا کہ سامنے گاؤں کا مشہور مسخرہ رسول شیخ نظر آیا۔ دوڑتا، ہانپتا، پسینے میں بھیگا ہوا۔”ارے رکونا!” وہ چلّایا۔ "سنا تم نے؟”
میں نے حیران ہو کر پوچھا”کیا ہوا رسول بھائی؟”
اس نے کپکپاتی آواز میں کہا”شاہ پور والوں نے شکار پور پر پانی بند کر دیا ہے! بڑا فساد ہونے والا ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں نے ہندؤں کو پیاسا مارنے کی ٹھان لی ہے!”
میں سکتے میں آ گیا۔”رسول کاکا! یہ کیا کہہ رہے ہو” شاہ پور اور شکار پور تو بھائیوں سے بڑھ کر ہیں!”
وہ پریشان لہجے میں بولا”میں بھی یہی کہہ رہا ہوں، مگر لوگ غصے میں ہیں… کچھ بڑا ہونے والا ہے!”
اسی وقت شیخ سنا….. گاؤں کا درویش صفت بزرگ…… قریب کے بھید کے درخت سے اٹھا اور بولا”یہ خبر جھوٹ نہیں ہے۔ میں کل بَسم پور سے آیا ہوں۔ وہاں دلوں میں آگ لگی ہے۔ بس چنگاری چاہیے۔ دیکھنا آج شام تک سب کچھ بھسم ہو جائے گا۔”
میں نے لرزتی آواز میں کہا”شیخ صاحب!آپ جیسےسمجھدار شخص کو ایسی بات زیب نہیں دیتی!”
وہ آہستہ بولا”سچ کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے بیٹا۔ دعا کرو کہ دیر نہ ہو گئی ہو۔”اور وہ آگے بڑھ گیا۔
رسول نے گھبرا کر کہا”میں تو گاؤں جا رہا ہوں! لوگوں کو خبردار کرنا ہوگا!”
میں کچھ کہہ بھی نہ پایا کہ ایک گاڑی رکھی اور میں سرینگر کی طرف روانہ ہو گیا۔
لالچوک پہنچتے ہی فضا بدل چکی تھی۔دکانیں جلدی جلدی بند ہو رہی تھیں۔لوگ چیخ رہے تھے، بھاگ رہے تھے، عورتوں کے چہروں پر خوف جمع تھا۔
میں نے ایک شخص کو بازو سے پکڑا”بھائی کیا ہوا؟ کیوں بھاگ رہے ہو؟”
وہ ہانپتے ہوئے بولا”فساد ہو گیا! لوگ مر گئے، گھر جل رہے ہیں!”
"کہاں؟ کس جگہ؟”
"شاہ پور اور شکار پور!”
میرے اندر جیسے زمین کھسک گئی۔ مجھے شدید دھندلاہٹ محسوس ہوئی۔میں ایک مجمع کے پاس رک گیا جہاں لوگ ٹی وی پر خبریں دیکھ رہے تھے۔اسکرین پر دھواں، آگ، چیخیں تھیں
رپورٹر چیخ رہی تھی.
"مذہبی فساد نے دونوں گاؤں کو تباہ کر دیا ہے۔ کئی گھر جل چکے ہیں۔ ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں……. افواہ کے مطابق پانی بند کرنے سے یہ فساد شروع ہوا۔”
میں نے کپکپاتے ہاتھوں سے فون ملایا۔ میری بیوی کی لرزتی آواز آئی”کہاں ہو تم؟ ٹھیک ہو؟”
میں روہانسا ہو کر بولا”گاؤں میں کیا ہوا؟”
"بَسم پور کے لڑکوں نے حملہ کر دیا۔ سب کہہ رہے ہیں کہ شاہ پور نے پانی بند کیا تھا! مگر ابھی پتہ چلا ہے کہ یہ صرف افواہ تھی…… شیخ سنا نے غلط خبر پھیلائی تھی!”
میں بے جان آواز میں بولا”ایک جھوٹ… اور اتنی بربادی؟”
فون ہاتھ سے گر گیا۔
جب گھر پہنچا تو دیکھا…… گھر نہیں، راکھ کا ڈھیر تھا۔
شاہ پور اور شکار پور کے لوگ ایک ساتھ بیٹھے رو رہے تھے۔
کسی کے ہاتھ پر مرہم، کسی کے دل پر پچھتاوا۔ایک بوڑھا ہندو چیخ کر رو رہا تھا”بیٹا میرا مسلمان تھا! مگر انسان تھا! ہم نے اسے مار دیا!”
ایک مسلمان عورت چیختی رہی:
"ہم نے کس لئے لڑائی؟ کس نے کہا تھا؟ کس کی بات مانی؟”
ہر طرف صرف ایک جملہ گونج رہا تھا
"افواہ جھوٹی تھی…”
رات گہری ہو چکی تھی۔ ہر طرف سناٹا، جلتے گھروں کی دھیمی راکھ اور فضا میں بکھری ہوئی جلی لکڑی کی بو۔
میں ویران گلی میں کھڑا سب دیکھ رہا تھا……. سب کچھ ٹوٹ چکا تھا مگر کہیں اندر ایک بے نام سی چنگاری تھی کہ شاید صبح کچھ بدل لے آئے۔
اسی وقت مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے آواز آئی، جو ٹوٹی، آہستہ اور زخمی سی تھی
"اللہ کہتا ہے کہ اگر دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ”
یہ آواز حافظ غلام نبی کی تھی، جو کل تک ہندو آچاریہ شری کرشن موہن کے ساتھ کھیتوں کے کنارے چائے پیا کرتے تھے۔
کچھ فاصلے پر مندر کا گھنٹا بجا، اور شری کرشن موہن جی کی آواز گونجی”جو ہوا وہ ہوا، کسی مذہب نے نہیں سکھایا کہ گھروں کو جلاؤ اور رشتوں کو مار دو… آؤ، مل کر سب ٹھیک کریں”
دونوں بزرگ آہستہ آہستہ ایک ہی سمت چلتے ہوئے گاؤں کے چوراہے پر آ گئے۔میں بھی بھیڑ میں کھڑا تھا۔لوگ خاموش تھے…… شرمندہ، دل گرفتہ۔
مولوی صاحب نے کانپتی آواز میں کہا”آؤ، ہم آج یہاں عہد کریں کہ ہم کسی افواہ پر کان نہیں دھریں گے…
صرف سچ پر یقین کریں گے…”
آچاریہ جی بولے "آؤ ہم ہاتھ ملائیں، تاکہ بچوں کو ایک بار پھر یہ گاؤں ہاتھوں کی مضبوطی سے جوڑ کر دیں، نفرت سے نہیں۔”
دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لئے۔
انہی لمحات میں سب سے آگے کھڑا زخمی نوجوان بلجیت سنگھ اپنے بہتے خون کو کپڑے سے باندھتے ہوئے آگے بڑھا اور بولا….
"میرا چھوٹا بھائی علی آگ بجھاتے ہوئے جل گیا… اس نے میرا بچاؤ کیا۔میں اس کی قربانی کبھی نہیں بھولوں گا۔آج سے میرے لئے مذہب نہیں، انسانیت بڑی ہے۔”
اس کے ساتھ کھڑے علی کے والد نے آنسوؤں کے ساتھ کہا
"اور میں بلجیت کو اپنا بیٹا مانتا ہوں۔”ایک لمحے کے لئے ہوا تھم گئی۔
پھر اچانک سارا مجمع رونے لگا۔
وہ رونا شکست کا نہیں…….
معافی اور محبت کی واپسی کا رونا تھا۔
ایک چھوٹے لڑکے نے آگے بڑھ کر دونوں کی انگلیاں تھامیں اور بولا:”کیا ہم پھر سے ساتھ کھیلیں گے؟”مولوی صاحب نے بچے کو گود میں اٹھایا اور کہا”ہاں بیٹا….. اب یہ گاؤں پھر سے جیے گا۔”
اُسی لمحے فضا میں ایک اذان گونجی،اس کے ساتھ مندر کے گھنٹے بجے،اور دونوں آوازیں مل کر ایسا لگا جیسے آسمان بھی دعا مانگ رہا ہو۔فضا میں بھاری خاموشی کی جگہ پہلی بار امید کی روشنی محسوس ہوئی۔
اور آج بھی جب سورج چڑھتا ہے،
کھیتوں میں لہلہاتی گندم کی بالیاں ہم سے ایک ہی سوال کرتی ہیں”افواہ جھوٹی تھی….. مگر کیا ہم سچ سے جئیں گے؟”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں