سیما شکور، حیدر آباد
بہت پیچیدہ ، بے انتہا پُرخطر ہے …
یہ راہگذرِ محبت
دلدل میں اُترنے سے پہلے …
سوچ لو اتنا
واپسی کے تمام راستے مسدود ہوجائیں گے
دیکھنے میں دلکش ، دلنشیں ہے …
مگر پُرخار ہے یہ راہِ محبت
اس سے پہلے کہ کچے رنگ گہرے ہوجائیں
چاند کا چہرہ … جھیل میں اُتر جائے
زخموں کی کلیاں پھول بن جائیں
تم اپنی دسترس سے باہر ہوجاؤ
آنکھیں بھیگیں … محبت کے راستے جل تھل ہوجائیں
ستارے ٹوٹ کر گر جائیں
دکھ کے خودرو پیڑ راستوں میں اُگ جائیں
محبت کے خوبصورت درخت کی ڈالیوں پر ناامیدی کے زرد گلاب …
کھلنے لگیں
اور درد مہکنے لگے
دل کے دروازے پر اشک دستک دینے لگیں
بارشوں کے ساتھ ساتھ دل بھی بھیگنے لگے!
اس سے پہلے کہ … صبحیں بوجھل اور راتیں شبنمی ہوجائیں!
آنکھوں میں درد کروٹیں لینے لگے
روح کے اندر ہی اندر گرتے رہیں آنسو اور سانسیں گراں بار ہونے لگیں
اس سے پہلے کہ …
محبتوں کے ننھے ننھے شگوفے جواں ہوں
میری مان لو
اب بھی وقت ہے
لوٹ جاؤ!
لوٹ جاؤ!
l l l


