ماں – ایک ایسا رشتہ جو ہر درد پر مرہم بن جاتا ہے

 

خان سحرش

دنیا میں اگر کوئی رشتہ بے غرض محبت، قربانی اور خلوص کی اصل مثال ہے تو وہ ماں کا رشتہ ہے۔ ماں صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مکمل کائنات ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے جس چہرے کو دیکھتا ہے وہ ماں کا چہرہ ہوتا ہے۔ اس کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور اس کی دعا انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا۔ آج پوری دنیا میں "مدرز ڈے” منایا جا رہا ہے تاکہ ماؤں کی محبت، قربانیوں اور ان کے عظیم کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ماں کا حق صرف ایک دن منا کر ادا نہیں کیا جا سکتا۔

ماں وہ ہستی ہے جو اپنی نیند، اپنی خوشیاں اور اپنی خواہشیں قربان کرکے اپنے بچوں کے خواب پورے کرتی ہے۔ بچہ بیمار ہو تو ماں پوری رات جاگتی ہے، بچہ پریشان ہو تو ماں کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، اور جب بچہ کامیاب ہوتا ہے تو سب سے زیادہ خوشی بھی ماں ہی کو ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ماں کا مقام سب سے بلند رکھا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ یہ الفاظ ماں کی عظمت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔

آج کے دور میں جہاں مادیت اور مصروفیات نے انسان کو رشتوں سے دور کر دیا ہے، وہاں کئی مائیں تنہائی اور بے قدری کا شکار بھی ہیں۔ اولاد بڑی ہو کر اپنی دنیا میں مصروف ہو جاتی ہے جبکہ وہی ماں جس نے اپنی پوری زندگی بچوں کے لیے وقف کر دی، بڑھاپے میں محبت کے دو لفظ سننے کو ترس جاتی ہے۔ مدرز ڈے صرف تحفے دینے یا سوشل میڈیا پر تصویریں لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ دن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہمیں اپنی ماؤں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے، ان کی عزت کرنی چاہیے اور ان کی قربانیوں کو سمجھنا چاہیے۔

اس معاشرے میں سنگل مدرز یعنی اکیلی ماؤں کا کردار اور بھی زیادہ قابلِ احترام ہے۔ ایک ایسی ماں جو بیک وقت ماں بھی ہو اور باپ بھی، جو اپنے بچوں کی پرورش اکیلے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہو، وہ حقیقت میں بہت بڑی مجاہد ہے۔ کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے شوہر کے انتقال، طلاق یا دیگر مشکلات کے بعد ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کے لیے دن رات محنت کی۔ وہ خود بھوکی رہیں مگر بچوں کو بھوکا نہیں سونے دیا۔ انہوں نے معاشرے کے طعنے بھی سہے، مالی مشکلات بھی برداشت کیں، مگر اپنے بچوں کے مستقبل پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ سنگل مدرز کو معاشرے میں وہ عزت اور سہارا نہیں ملتا جس کی وہ حق دار ہوتی ہیں۔ لوگ ان کی جدوجہد کو سمجھنے کے بجائے تنقید کرتے ہیں، حالانکہ ایک اکیلی ماں روزانہ کئی جنگیں لڑتی ہے۔ وہ بچوں کی تعلیم، ان کی ضروریات، گھر کے اخراجات اور معاشرتی دباؤ سب کچھ اکیلے سنبھالتی ہے۔ ایسے میں معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کرے، ان کی مدد کرے اور انہیں کمزور سمجھنے کے بجائے ایک مضبوط مثال کے طور پر دیکھے۔

بدقسمتی سے آج کل سوشل میڈیا کے دور میں ماں کی محبت کو بھی صرف ایک دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔ نوجوان اپنی ماؤں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے بجائے موبائل فون میں مصروف رہتے ہیں۔ حالانکہ ماں کو قیمتی تحفوں سے زیادہ اپنے بچوں کی محبت، عزت اور وقت چاہیے ہوتا ہے۔ ایک پیار بھرے جملے سے بھی ماں کا دل خوش ہو جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی ماؤں سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنی چاہیے، ان کی خدمت کرنی چاہیے اور ان کی دعائیں لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

کشمیر سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں ایسی بے شمار مائیں موجود ہیں جنہوں نے حالات کے ہاتھوں اپنے بیٹے، شوہر یا گھر کھو دیے، مگر پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنے بچوں کو اچھا انسان بنانے کے لیے ہر مشکل برداشت کی۔ کئی مائیں آج بھی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے محنت مزدوری کر رہی ہیں۔ ان کے چہروں پر تھکن ضرور ہوتی ہے مگر ان کی آنکھوں میں بچوں کے لیے امید آج بھی زندہ ہوتی ہے۔

مدرز ڈے ہمیں صرف خوشیاں منانے کا نہیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا پیغام دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ماؤں کی قدر کریں، خاص طور پر ان ماؤں کی جو اکیلے اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کی ہمت، صبر اور قربانی دراصل پورے معاشرے کے لیے مثال ہے۔ ایک ماں کی دعا انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے، اس لیے جب تک ہماری مائیں ہمارے ساتھ ہیں، ہمیں ان کی خدمت اور محبت میں کوئی کمی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ ماں جیسی ہستی دنیا میں کوئی نہیں۔ اس کی محبت نہ خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی اور رشتے سے اس کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ ماں زندگی کا وہ سایہ ہے جس کے بغیر انسان اندر سے ادھورا رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو سلامت رکھے، ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور جو مائیں اس دنیا سے جا چکی ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

ماں – ایک ایسا رشتہ جو ہر درد پر مرہم بن جاتا ہے

 

خان سحرش

دنیا میں اگر کوئی رشتہ بے غرض محبت، قربانی اور خلوص کی اصل مثال ہے تو وہ ماں کا رشتہ ہے۔ ماں صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مکمل کائنات ہے۔ انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے جس چہرے کو دیکھتا ہے وہ ماں کا چہرہ ہوتا ہے۔ اس کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور اس کی دعا انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا۔ آج پوری دنیا میں "مدرز ڈے” منایا جا رہا ہے تاکہ ماؤں کی محبت، قربانیوں اور ان کے عظیم کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ماں کا حق صرف ایک دن منا کر ادا نہیں کیا جا سکتا۔

ماں وہ ہستی ہے جو اپنی نیند، اپنی خوشیاں اور اپنی خواہشیں قربان کرکے اپنے بچوں کے خواب پورے کرتی ہے۔ بچہ بیمار ہو تو ماں پوری رات جاگتی ہے، بچہ پریشان ہو تو ماں کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں، اور جب بچہ کامیاب ہوتا ہے تو سب سے زیادہ خوشی بھی ماں ہی کو ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ماں کا مقام سب سے بلند رکھا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ یہ الفاظ ماں کی عظمت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔

آج کے دور میں جہاں مادیت اور مصروفیات نے انسان کو رشتوں سے دور کر دیا ہے، وہاں کئی مائیں تنہائی اور بے قدری کا شکار بھی ہیں۔ اولاد بڑی ہو کر اپنی دنیا میں مصروف ہو جاتی ہے جبکہ وہی ماں جس نے اپنی پوری زندگی بچوں کے لیے وقف کر دی، بڑھاپے میں محبت کے دو لفظ سننے کو ترس جاتی ہے۔ مدرز ڈے صرف تحفے دینے یا سوشل میڈیا پر تصویریں لگانے کا نام نہیں بلکہ یہ دن ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہمیں اپنی ماؤں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے، ان کی عزت کرنی چاہیے اور ان کی قربانیوں کو سمجھنا چاہیے۔

اس معاشرے میں سنگل مدرز یعنی اکیلی ماؤں کا کردار اور بھی زیادہ قابلِ احترام ہے۔ ایک ایسی ماں جو بیک وقت ماں بھی ہو اور باپ بھی، جو اپنے بچوں کی پرورش اکیلے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہو، وہ حقیقت میں بہت بڑی مجاہد ہے۔ کئی خواتین ایسی ہیں جنہوں نے شوہر کے انتقال، طلاق یا دیگر مشکلات کے بعد ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کے لیے دن رات محنت کی۔ وہ خود بھوکی رہیں مگر بچوں کو بھوکا نہیں سونے دیا۔ انہوں نے معاشرے کے طعنے بھی سہے، مالی مشکلات بھی برداشت کیں، مگر اپنے بچوں کے مستقبل پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ سنگل مدرز کو معاشرے میں وہ عزت اور سہارا نہیں ملتا جس کی وہ حق دار ہوتی ہیں۔ لوگ ان کی جدوجہد کو سمجھنے کے بجائے تنقید کرتے ہیں، حالانکہ ایک اکیلی ماں روزانہ کئی جنگیں لڑتی ہے۔ وہ بچوں کی تعلیم، ان کی ضروریات، گھر کے اخراجات اور معاشرتی دباؤ سب کچھ اکیلے سنبھالتی ہے۔ ایسے میں معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کرے، ان کی مدد کرے اور انہیں کمزور سمجھنے کے بجائے ایک مضبوط مثال کے طور پر دیکھے۔

بدقسمتی سے آج کل سوشل میڈیا کے دور میں ماں کی محبت کو بھی صرف ایک دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔ نوجوان اپنی ماؤں کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے بجائے موبائل فون میں مصروف رہتے ہیں۔ حالانکہ ماں کو قیمتی تحفوں سے زیادہ اپنے بچوں کی محبت، عزت اور وقت چاہیے ہوتا ہے۔ ایک پیار بھرے جملے سے بھی ماں کا دل خوش ہو جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی ماؤں سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنی چاہیے، ان کی خدمت کرنی چاہیے اور ان کی دعائیں لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

کشمیر سمیت دنیا کے مختلف علاقوں میں ایسی بے شمار مائیں موجود ہیں جنہوں نے حالات کے ہاتھوں اپنے بیٹے، شوہر یا گھر کھو دیے، مگر پھر بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنے بچوں کو اچھا انسان بنانے کے لیے ہر مشکل برداشت کی۔ کئی مائیں آج بھی اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے محنت مزدوری کر رہی ہیں۔ ان کے چہروں پر تھکن ضرور ہوتی ہے مگر ان کی آنکھوں میں بچوں کے لیے امید آج بھی زندہ ہوتی ہے۔

مدرز ڈے ہمیں صرف خوشیاں منانے کا نہیں بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کا پیغام دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ماؤں کی قدر کریں، خاص طور پر ان ماؤں کی جو اکیلے اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ان کی ہمت، صبر اور قربانی دراصل پورے معاشرے کے لیے مثال ہے۔ ایک ماں کی دعا انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے، اس لیے جب تک ہماری مائیں ہمارے ساتھ ہیں، ہمیں ان کی خدمت اور محبت میں کوئی کمی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

آخر میں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ ماں جیسی ہستی دنیا میں کوئی نہیں۔ اس کی محبت نہ خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی اور رشتے سے اس کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ ماں زندگی کا وہ سایہ ہے جس کے بغیر انسان اندر سے ادھورا رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں کو سلامت رکھے، ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے اور جو مائیں اس دنیا سے جا چکی ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں