جموں و کشمیر: اردو سکھانے کا ذریعہ یا بیزاری کا سبب؟

 

محمد اسحٰق عارف

کسی بھی تعلیمی نظام میں درسی کتاب وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر طالب علم کی ذہنی نشو و نما کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (JKBOSE) کی نویں اور دسویں جماعت کی اردو کی درسی کتابوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتابیں طلبہ کو زبان سکھانے کے لئے نہیں، بلکہ انہیں اردو سے متنفر اور بیزار کرنے کے لئے ترتیب دی گئی ہیں۔ ان کتابوں کا سب سے بڑا المیہ غیر فطری معیار ہے جہاں طلبہ کی عمر, لسانی گرفت اور استعداد کو مدنظر رکھے بغیر ایسی ثقیل نثر اور پیچیدہ اصطلاحات شامل کی گئی ہیں جو ایم اے اردو کے طالب علم کے لئے تو مناسب ہو سکتی ہیں، لیکن ایک اسکولی بچے کے لئے یہ ذہنی بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بورڈ کی جانب سے تیار کردہ "بہارستانِ اردو” سیریز آٹھویں جماعت تک تو کسی حد تک بچوں کے معیار اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے، مگر نویں اور دسویں جماعت کے نصاب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ نصاب سازوں نے نہ تو بچوں کی نفسیات کا خیال رکھا ہے اور نہ ہی اس امر کا کہ جدید دور میں نصابی کتاب ترتیب دیتے ہوئے کن زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
تعلیم کا ایک بنیادی اور فطری اصول یہ ہے کہ طالب علم کو ہمیشہ آسان سے مشکل کی طرف لے جایا جائے، مگر ان دو کتابوں میں اس نفسیاتی، فطری اور مؤثر طریقے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جن اسباق کا چناؤ ان کتابوں کے لئے کیا گیا ہے، ان میں ایسے الفاظ کا استعمال ملتا ہے جو روزمرہ زندگی تو دور، معاصر ادب میں بھی کم ہی نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داستانوں، ناولوں، افسانوں اور انشائیوں وغیرہ میں سے قصداً مشکل ترین حصوں کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔ نظم اور غزل کے حصے میں بھی یہی صورتحال ہے، جہاں کلاسیکی شعرا کا وہ کلام منتخب کیا گیا ہے جس کی شرح کے لئے خود اساتذہ کو پسینہ آ جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ "توضیحات” کے عنوان سے جو تشریح کتاب میں شامل کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مقامات پر خود مؤلفین بھی شعر یا عبارت کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔
اس المیے کی واضح مثال نویں جماعت کی درسی کتاب میں فراقؔ گورکھپوری کے اس شعر کی توضیح ہے:
مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ! اب مجھ سے تیری رنجشِ بے جا بھی نہیں
کتاب میں اس کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے کہ "شاعر محبت کا طالب ہے اس لئے رنجشِ بے جا کو مہربانی پر ترجیح دیتا ہے”۔ حالانکہ اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو "محبت” کے اصل معنی سمجھانا چاہتا ہے جو محض اتفاقیہ مہربانی کو ہی محبت سمجھ بیٹھا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ توضیح کرنے والا خود شعر کی روح نہیں سمجھ سکا ہے۔ اسی طرح بیتابؔ کے شعر:
نہ دے پختہ عمارت اک کھنڈر دے دے
میں بے گھر ہوں مجھے بھی کوئی گھر دے دے
اس کی تشریح یوں کی گئی ہے کہ "شاعر پختہ عمارات کی چکا چوند میں خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے اور لوہے و پتھروں کی دنیا سے تنگ آ کر کھنڈر کا ارمان کرتا ہے”۔ جبکہ شعر کا اصل مرکز محرومی، بے گھری اور ایک معمولی آسرا پانے کی انسانی خواہش ہے۔ ایسی اور بھی متعدد مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خود نصاب ساز بھی بعض اشعار اور عبارتوں کا مفہوم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ صرف تشریح کی کمزوری نہیں بلکہ نصاب سازی کے پورے عمل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
مزید برآں، اسباق کو لسانی سہولت کے بجائے اردو کے ارتقائی سفر کے مطابق ترتیب دے کر چودہ پندرہ سال کے بچے پر درجنوں شعرا اور ادبا کے حالاتِ زندگی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے جو سراسر غیر ضروری ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مؤلفین و مرتبین طلبہ کو سنجیدہ قاری بلکہ محقق سمجھتے ہوئے نویں اور دسویں جماعت میں ہی نہ صرف اردو نثر اور نظم کی تمام اصناف سے گہری واقفیت کرانا چاہتے ہیں بلکہ ہر صنف کے ماہرین کے بارے میں مکمل جانکاری بھی دینا چاہتے ہیں۔
جب ایک طالب علم کے سامنے ابتدا ہی میں ثقیل نثر، پیچیدہ تراکیب اور قدیم اسلوب رکھ دیا جائے تو زبان اس کے لئے ذوق کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اردو جیسی شیریں زبان سے طلبہ اب پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کتابوں میں زبان کو زندگی سے جوڑنے کے بجائے صرف ادبی عظمت اور بڑائی کے پیمانے پر پرکھا گیا ہے۔ بلاشبہ میر، غالب، حالی، اقبال اور پریم چند وغیرہ ہماری عظیم ادبی میراث کے ستون ہیں، لیکن ہر میراث کو پیش کرنے کا ایک مناسب مرحلہ اور انداز ہوتا ہے اور ہر ادبی شاہکار ہر عمر کےطالب علم کے لئے یکساں موزوں نہیں ہوتا۔
اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بچے اصل کتاب پڑھنے کے بجائے گائیڈ بکس اور رٹے پر انحصار کرنے لگے ہیں اور اساتذہ کا بیشتر وقت بھی صرف پیچیدہ اور الجھے ہوئے الفاظ و اشعار کو سلجھانے میں صرف ہو جاتا ہے۔
دنیا بھر میں نصاب سازی کا اصول یہ ہے کہ طالب علم کو پہلے زبان سے مانوس کیا جائے، پھر آہستہ آہستہ ادب کی گہرائیوں تک لے جایا جائے۔ مختصر اقتباسات، آسان انتخاب، سادہ تشریح اور عصری مثالوں کے ذریعے اسی ادب کو بچوں کے لئے دلچسپ اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نصابی کتابوں کو تعلیمی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے اور نصاب میں ماحولیات، سائنسی شعور اور ڈیجیٹل دنیا جیسے جدید موضوعات کو دلچسپ انداز اور سادہ اردو میں شامل کیا جائے۔ ​وقت کا تقاضہ ہے کہ جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن ان کتابوں پر نظرِ ثانی کرے۔ نصاب سازی کے پینل میں صرف ماہرینِ لسانیات ہی نہیں بلکہ ماہرینِ نفسیات اور ان اساتذہ کو بھی شامل کیا جائے جو براہِ راست کلاس روم میں بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ ہمیں ایسی کتابوں کی ضرورت ہے جو بچوں کو غالب اور اقبال تک پہنچنے کا راستہ فراہم کریں، نہ کہ وہ راستہ ہی بند کر دیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

جموں و کشمیر: اردو سکھانے کا ذریعہ یا بیزاری کا سبب؟

 

محمد اسحٰق عارف

کسی بھی تعلیمی نظام میں درسی کتاب وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر طالب علم کی ذہنی نشو و نما کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (JKBOSE) کی نویں اور دسویں جماعت کی اردو کی درسی کتابوں کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتابیں طلبہ کو زبان سکھانے کے لئے نہیں، بلکہ انہیں اردو سے متنفر اور بیزار کرنے کے لئے ترتیب دی گئی ہیں۔ ان کتابوں کا سب سے بڑا المیہ غیر فطری معیار ہے جہاں طلبہ کی عمر, لسانی گرفت اور استعداد کو مدنظر رکھے بغیر ایسی ثقیل نثر اور پیچیدہ اصطلاحات شامل کی گئی ہیں جو ایم اے اردو کے طالب علم کے لئے تو مناسب ہو سکتی ہیں، لیکن ایک اسکولی بچے کے لئے یہ ذہنی بوجھ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بورڈ کی جانب سے تیار کردہ "بہارستانِ اردو” سیریز آٹھویں جماعت تک تو کسی حد تک بچوں کے معیار اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے، مگر نویں اور دسویں جماعت کے نصاب کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ نصاب سازوں نے نہ تو بچوں کی نفسیات کا خیال رکھا ہے اور نہ ہی اس امر کا کہ جدید دور میں نصابی کتاب ترتیب دیتے ہوئے کن زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
تعلیم کا ایک بنیادی اور فطری اصول یہ ہے کہ طالب علم کو ہمیشہ آسان سے مشکل کی طرف لے جایا جائے، مگر ان دو کتابوں میں اس نفسیاتی، فطری اور مؤثر طریقے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جن اسباق کا چناؤ ان کتابوں کے لئے کیا گیا ہے، ان میں ایسے الفاظ کا استعمال ملتا ہے جو روزمرہ زندگی تو دور، معاصر ادب میں بھی کم ہی نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داستانوں، ناولوں، افسانوں اور انشائیوں وغیرہ میں سے قصداً مشکل ترین حصوں کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔ نظم اور غزل کے حصے میں بھی یہی صورتحال ہے، جہاں کلاسیکی شعرا کا وہ کلام منتخب کیا گیا ہے جس کی شرح کے لئے خود اساتذہ کو پسینہ آ جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ "توضیحات” کے عنوان سے جو تشریح کتاب میں شامل کی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مقامات پر خود مؤلفین بھی شعر یا عبارت کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔
اس المیے کی واضح مثال نویں جماعت کی درسی کتاب میں فراقؔ گورکھپوری کے اس شعر کی توضیح ہے:
مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ! اب مجھ سے تیری رنجشِ بے جا بھی نہیں
کتاب میں اس کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے کہ "شاعر محبت کا طالب ہے اس لئے رنجشِ بے جا کو مہربانی پر ترجیح دیتا ہے”۔ حالانکہ اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کو "محبت” کے اصل معنی سمجھانا چاہتا ہے جو محض اتفاقیہ مہربانی کو ہی محبت سمجھ بیٹھا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ توضیح کرنے والا خود شعر کی روح نہیں سمجھ سکا ہے۔ اسی طرح بیتابؔ کے شعر:
نہ دے پختہ عمارت اک کھنڈر دے دے
میں بے گھر ہوں مجھے بھی کوئی گھر دے دے
اس کی تشریح یوں کی گئی ہے کہ "شاعر پختہ عمارات کی چکا چوند میں خود کو تنہا محسوس کر رہا ہے اور لوہے و پتھروں کی دنیا سے تنگ آ کر کھنڈر کا ارمان کرتا ہے”۔ جبکہ شعر کا اصل مرکز محرومی، بے گھری اور ایک معمولی آسرا پانے کی انسانی خواہش ہے۔ ایسی اور بھی متعدد مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ خود نصاب ساز بھی بعض اشعار اور عبارتوں کا مفہوم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ صرف تشریح کی کمزوری نہیں بلکہ نصاب سازی کے پورے عمل پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
مزید برآں، اسباق کو لسانی سہولت کے بجائے اردو کے ارتقائی سفر کے مطابق ترتیب دے کر چودہ پندرہ سال کے بچے پر درجنوں شعرا اور ادبا کے حالاتِ زندگی کا بوجھ لاد دیا گیا ہے جو سراسر غیر ضروری ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مؤلفین و مرتبین طلبہ کو سنجیدہ قاری بلکہ محقق سمجھتے ہوئے نویں اور دسویں جماعت میں ہی نہ صرف اردو نثر اور نظم کی تمام اصناف سے گہری واقفیت کرانا چاہتے ہیں بلکہ ہر صنف کے ماہرین کے بارے میں مکمل جانکاری بھی دینا چاہتے ہیں۔
جب ایک طالب علم کے سامنے ابتدا ہی میں ثقیل نثر، پیچیدہ تراکیب اور قدیم اسلوب رکھ دیا جائے تو زبان اس کے لئے ذوق کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اردو جیسی شیریں زبان سے طلبہ اب پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کتابوں میں زبان کو زندگی سے جوڑنے کے بجائے صرف ادبی عظمت اور بڑائی کے پیمانے پر پرکھا گیا ہے۔ بلاشبہ میر، غالب، حالی، اقبال اور پریم چند وغیرہ ہماری عظیم ادبی میراث کے ستون ہیں، لیکن ہر میراث کو پیش کرنے کا ایک مناسب مرحلہ اور انداز ہوتا ہے اور ہر ادبی شاہکار ہر عمر کےطالب علم کے لئے یکساں موزوں نہیں ہوتا۔
اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بچے اصل کتاب پڑھنے کے بجائے گائیڈ بکس اور رٹے پر انحصار کرنے لگے ہیں اور اساتذہ کا بیشتر وقت بھی صرف پیچیدہ اور الجھے ہوئے الفاظ و اشعار کو سلجھانے میں صرف ہو جاتا ہے۔
دنیا بھر میں نصاب سازی کا اصول یہ ہے کہ طالب علم کو پہلے زبان سے مانوس کیا جائے، پھر آہستہ آہستہ ادب کی گہرائیوں تک لے جایا جائے۔ مختصر اقتباسات، آسان انتخاب، سادہ تشریح اور عصری مثالوں کے ذریعے اسی ادب کو بچوں کے لئے دلچسپ اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نصابی کتابوں کو تعلیمی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے اور نصاب میں ماحولیات، سائنسی شعور اور ڈیجیٹل دنیا جیسے جدید موضوعات کو دلچسپ انداز اور سادہ اردو میں شامل کیا جائے۔ ​وقت کا تقاضہ ہے کہ جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن ان کتابوں پر نظرِ ثانی کرے۔ نصاب سازی کے پینل میں صرف ماہرینِ لسانیات ہی نہیں بلکہ ماہرینِ نفسیات اور ان اساتذہ کو بھی شامل کیا جائے جو براہِ راست کلاس روم میں بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ ہمیں ایسی کتابوں کی ضرورت ہے جو بچوں کو غالب اور اقبال تک پہنچنے کا راستہ فراہم کریں، نہ کہ وہ راستہ ہی بند کر دیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں