حافظ انصاری
کئی برسوں سے بین الاقوامی میڈیا کے بعض حلقوں میں ایک غالب بیانیہ مسلسل دہرایا جاتا رہا ہے کہ بھارت کے مسلمان وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے سیاسی طور پر دور اور ناراض ہیں۔ اس مفروضے کو اتنی بار دہرایا گیا کہ اب اسے ایک طے شدہ حقیقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے: مسلمان یکساں طور پر بی جے پی کے خلاف ووٹ دیتے ہیں، اور مودی کی ہر انتخابی کامیابی گویا مسلمانوں کے باوجود حاصل ہوتی ہے، ان کے ساتھ نہیں۔لیکن بھارتی جمہوریت، ہمیشہ کی طرح، نظریاتی خاکوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے۔
اتر پردیش اور اب مغربی بنگال سے سامنے آنے والے انتخابی رجحانات ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں جسے بیرونی مبصرین نے یا تو نظر انداز کیا یا تسلیم کرنے سے انکار کیا: مسلمانوں کا ایک طبقہ واقعی مودی اور بی جے پی کی حمایت کر رہا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں طرز حکمرانی، فلاحی اسکیموں کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، قانون و نظم، اور علاقائی جماعتوں سے سیاسی تھکن، شناختی سیاست پر غالب آ رہی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ بی جے پی پورے ملک میں مسلمانوں کے اکثریتی ووٹ حاصل کر رہی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ یہ سادہ دعویٰ کہ مسلمان مکمل طور پر مودی کو مسترد کرتے ہیں، اب سنجیدہ جانچ پر پورا نہیں اترتا۔ زمینی حقیقت بدل رہی ہے۔
اتر پردیش میں تبدیلی
اس بڑی تبدیلی کی پہلی جھلک اتر پردیش میں نظر آئی۔ کئی دہائیوں تک تجزیہ کار مسلم اکثریتی حلقوں کو بی جے پی کے لئے ناقابل رسائی سمجھتے رہے۔ لیکن یہ مفروضہ 2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران ٹوٹنا شروع ہوا، جب بی جے پی نے کئی ایسے حلقوں میں کامیابی حاصل کی یا اپنی موجودگی برقرار رکھی جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی موجود ہے، جن میں دیوبند بھی شامل ہے، جو دنیا کے مؤثر ترین اسلامی مدارس میں سے ایک دارالعلوم دیوبند کا مرکز ہے۔ یہ کامیابی محض علامتی نہیں تھی۔ اس نے مغربی اتر پردیش میں ایک وسیع تر سیاسی تبدیلی کی عکاسی کی، جہاں ترقیاتی اسکیموں، فلاحی فوائد، بہتر سڑکوں، بجلی کی فراہمی، رہائشی منصوبوں، اور سخت قانون نافذ کرنے والے نظام نے مقامی انتخابی سوچ کو بدل دیا۔ حتیٰ کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی، اگرچہ بی جے پی کو مجموعی طور پر اتر پردیش میں کچھ نقصان ہوا، لیکن پارٹی نے مسلم اثر والے علاقوں میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھی۔ انتخابی تجزیوں کے مطابق، بی جے پی کئی ایسے مسلم یادو اکثریتی حلقوں میں بھی مقابلے میں رہی جو کبھی مکمل طور پر اس کی پہنچ سے باہر سمجھے جاتے تھے۔ یہ سیاسی طور پر اہم ہے کیونکہ اتر پردیش میں بھارت کی سب سے بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک آباد ہے۔ اگر ایسے علاقوں میں مسلمانوں کا ایک محدود طبقہ بھی بی جے پی کی طرف منتقل ہوتا ہے تو اس کے انتخابی اثرات بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔
یہ کیوں ہو رہا ہے؟
اس کی ایک بڑی وجہ فلاحی سیاست ہے۔ مفت راشن، رہائشی امداد، اجولا ایل پی جی کنکشن، سوچھ بھارت کے تحت بیت الخلاء، اور براہ راست مالی امداد جیسی اسکیمیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم نہیں کی جاتیں۔ مسلمانوں نے بھی ان سے اسی طرح فائدہ اٹھایا جیسے دیگر طبقات نے۔ کئی غریب اضلاع میں حکومتی سہولیات کی فراہمی نے پرانی شناختی بنیادوں پر ووٹنگ کے رجحانات کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ایک اور اہم عنصر خود مسلم سماج کے اندر سیاسی تنوع ہے۔ تجزیہ کار اب تسلیم کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کا ووٹنگ رویہ یکساں نہیں بلکہ طبقہ، ذات، مسلک، علاقہ، اور مقامی سیاسی حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔یہ باریک حقیقت اکثر بین الاقوامی تبصروں میں غائب رہتی ہے۔
مغربی بنگال نے بھی اس رجحان کی تصدیق کر دی
اس سے بھی زیادہ ڈرامائی سیاسی اشارہ مغربی بنگال سے سامنے آیا ہے۔ کئی برسوں تک ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو مرشد آباد، مالدہ، اتر دیناج پور، اور شمالی و جنوبی 24 پرگنہ جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں ناقابل شکست سمجھا جاتا تھا۔ بی جے پی کو ان علاقوں میں غیر مؤثر قرار دیا جاتا رہا۔ اب اس مفروضے کو شدید چیلنج ملا ہے۔ متعدد اشاعتوں کے حالیہ انتخابی تجزیے ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی نے بنگال کے مسلم اکثریتی علاقوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مرشد آباد اور مالدہ جیسے اضلاع میں بی جے پی نے حیران کن کامیابیاں حاصل کیں، کیونکہ اقلیتی ووٹ ترنمول کانگریس، کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، اور چھوٹی شناختی جماعتوں کے درمیان تقسیم ہو گئے۔لیکن صرف “ووٹ تقسیم” کو اس کی وجہ قرار دینا بڑی تصویر کو نظر انداز کرنا ہوگا۔
بنگال میں بی جے پی کے ابھار کی ایک وجہ بدعنوانی کے الزامات، سیاسی تشدد، حکومتی تھکن، سرحدی سلامتی کے خدشات، اور مقامی سرپرستی کی سیاست سے عوامی ناراضگی بھی ہے۔ کئی حلقوں میں بی جے پی نے اپنی اپیل کو صرف ہندو یکجہتی کی سیاست سے آگے بڑھانے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ اس لئے اہم ہے کیونکہ مسلم اکثریتی حلقے اب بی جے پی کے خلاف خودکار سیاسی قلعے کے طور پر کام نہیں کر رہے۔
یہاں تک کہ جہاں بی جے پی مسلمانوں کی اکثریتی حمایت حاصل نہیں کر رہی، وہاں بھی وہ خواتین، نوجوانوں، پسماندہ مسلمانوں، اور فلاحی اسکیموں کے مستفید افراد کے درمیان اتنی حمایت حاصل کر رہی ہے کہ ان علاقوں میں انتخابی طور پر مقابلہ کرنے کے قابل ہو گئی ہے، جنہیں کبھی سیاسی طور پر ناممکن سمجھا جاتا تھا۔
بین الاقوامی بیانیے کا مسئلہ
بھارت کے بارے میں غیر ملکی تبصروں کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھارتی مسلمانوں کو ایک یکساں سیاسی بلاک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو اکثر صرف خوف، شناخت، یا مودی مخالفت کی بنیاد پر ووٹ دینے والی کمیونٹی کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ لیکن بھارت کی مسلم آبادی 20 کروڑ سے زیادہ ہے۔ اس کے اندر زبان، ذات، طبقہ، جغرافیہ، مسلک، تعلیم، اور معاشی خواہشات کے اعتبار سے بے پناہ تنوع موجود ہے۔ مغربی اتر پردیش کا ایک مسلم تاجر، مرشد آباد کا ایک بنگالی مسلم کسان، اور حیدرآباد کا ایک شہری پیشہ ور ضروری نہیں کہ ایک جیسا ووٹ دیں۔ اور نہ ہی ووٹر ہمیشہ صرف اس لئے علاقائی جماعتوں کے وفادار رہتے ہیں کہ وہ جماعتیں خود کو اقلیتوں کی نمائندہ قرار دیتی ہیں۔
بہت سے مسلمان، دیگر بھارتیوں کی طرح، سڑکوں، روزگار، فلاحی سہولیات، بدعنوانی، خواتین کی سلامتی، بجلی، اور حکومتی استحکام کی بنیاد پر بھی ووٹ دیتے ہیں۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا دراصل مسلم ووٹرز کو سیاسی دقیانوسی تصورات تک محدود کر دینا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں ایک باشعور جمہوری شہری کے طور پر دیکھا جائے۔بی جے پی نے خود بھی اپنی حکمت عملی کے کچھ حصوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر پسماندہ مسلمانوں کے حوالے سے۔ ناقدین اس کوشش کی گہرائی یا خلوص پر بحث کر سکتے ہیں، لیکن سیاسی طور پر یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مسلم ووٹرز انتخابی طور پر ناقابل رسائی نہیں رہے۔
بھارتی جمہوریت زیادہ متحرک ہو رہی ہے، کم نہیں۔
اس پوری بحث کا بڑا سبق سادہ ہے: بھارتی انتخابات کو بیرونی نظریاتی سانچوں کے ذریعے نہیں سمجھا جا سکتا۔ بھارت کے ووٹر عملی مزاج رکھتے ہیں۔ برادریاں سیاسی طور پر بدلتی ہیں۔ پرانے ووٹ بینک ٹوٹتے ہیں۔ فلاحی سیاست وفاداریاں تبدیل کرتی ہے۔ حکمرانی اہمیت رکھتی ہے۔ “مسلمان مودی کو ووٹ نہیں دیتے” والا دعویٰ شاید اب بھی بیرون ملک ٹی وی اسٹوڈیوز اور کارکن حلقوں میں زندہ ہو، مگر اتر پردیش اور مغربی بنگال کی انتخابی حقیقتیں اب ایک مختلف کہانی بیان کر رہی ہیں۔ اور جمہوریتوں کا فیصلہ آخرکار ووٹر کرتے ہیں، بیانیے نہیں۔
ززز


