آپریشن سندور: عالمی امن کو متاثر کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف بھارت کا عزم محکم

 

ڈاکٹر کبیر بٹ

ایک سال گزر چکا ہے جب آپریشن سندور نے بھارت کی دفاعی، اخلاقی اور سفارتی سمت کو ایک نئی جہت عطا کی، مگر اس کی بازگشت آج بھی قومی فکر و عمل میں واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔ یہ برسی محض ایک رسمی یادگار نہیں، بلکہ ایک ایسا موقع ہے جب ایک قوم کے غم کو عزم میں، طاقت کو تدبر میں، اور ردِعمل کو ذمہ داری میں ڈھالنے کے عمل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
22 اپریل 2025 کو پہلگام کی پُرسکون وادی دہشت گردی کے ایک سفاکانہ حملے سے لہولہان ہو گئی۔ بے گناہ سیاحوں کا قتل محض انسانی جانوں کا ضیاع نہ تھا، بلکہ بھارت کی تکثیری تہذیب، اس کی سیاحتی معیشت، اور کشمیر میں بحالیِ امن کی کوششوں پر ایک گہرا وار تھا۔ اس سانحے نے پورے ملک کو رنج و الم میں مبتلا کر دیا اور انصاف کے لئے ایک اجتماعی صدا بلند ہوئی۔
تاہم اس صدمے کے بعد جو ردِعمل سامنے آیا، وہ جذباتی نہیں بلکہ نہایت سنجیدہ اور مدبرانہ تھا۔ ہفتوں تک سفارتی سطح پر سرگرمیاں جاری رہیں، انٹیلیجنس نظام کو مزید مستحکم کیا گیا، اور عسکری حکمتِ عملی کو نہایت باریک بینی سے ترتیب دیا گیا۔ یہ وقفہ اس حقیقت کا غماز تھا کہ حقیقی قوت جلد بازی میں نہیں بلکہ بروقت اور درست فیصلے میں مضمر ہوتی ہے۔
جب آپریشن سندور کا آغاز ہوا تو اس نے بھارت کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ یہ کارروائی محض نمائشی نہ تھی بلکہ انتہائی ہدفی نوعیت کی حامل تھی، جس کا مقصد لائن آف کنٹرول کے پار موجود دہشت گردی کے ڈھانچوں کو مکمل طور پر مفلوج کرنا تھا۔ نو اہم مراکز کو نشانہ بنا کر یہ واضح کر دیا گیا کہ سرحدیں اب دہشت گردی کے لئے ڈھال نہیں بن سکتیں۔
اس کارروائی کی نمایاں خصوصیت اس کی فکری وضاحت تھی۔ بھارت نے یہ ثابت کیا کہ وہ دہشت گردی کا مؤثر جواب دے سکتا ہے بغیر اس کے کہ صورتحال ایک وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو جائے۔ طاقت اور تحمل کے اس امتزاج نے آپریشن سندور کو جدید عسکری اخلاقیات کی ایک روشن مثال بنا دیا۔ اس نے یہ پیغام دیا کہ اگر حکمت، معلومات اور سیاسی بصیرت کے ساتھ اقدام کیا جائے تو دہشت گردی کا قلع قمع عالمی امن کو متاثر کیے بغیر بھی ممکن ہے۔
بھارت کی سیاسی قیادت نے بھی اسی تصور کو واضح کیا۔ وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے اسے ملکی دفاعی تاریخ کا ایک سنہری باب قرار دیتے ہوئے "قوم اوّل” کے اصول کی عملی تعبیر کہا۔ یہ محض بیان بازی نہ تھی بلکہ ایک ایسے نظریۂ عمل کی توثیق تھی جس میں قومی سلامتی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، مگر اس کا اظہار عالمی ذمہ داری کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس کارروائی کو سنجیدگی سے سراہا گیا۔ معروف عسکری ماہر جان اسپینسر نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی کامیابی کسی ایک حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور منظم حکمتِ عملی کا ثمر تھی، جس کے ذریعے مخالف کی دفاعی صلاحیتوں کو بتدریج مفلوج کیا گیا۔ اس تجزیے نے بھارت کی حیثیت ایک ذمہ دار اور باوقار قوت کے طور پر مزید مستحکم کر دی۔
پاکستان کا کردار ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر زیرِ بحث آیا، جہاں دہشت گردی کے ڈھانچوں کی سرپرستی کے الزامات کو نئی شدت سے دیکھا گیا۔ آپریشن سندور نے اس نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، یہاں تک کہ دباؤ کے تحت جنگ بندی کی درخواست سامنے آئی۔ بھارت نے اس درخواست کو اسی وقت قبول کیا جب اپنے تمام عسکری مقاصد حاصل کر لئے، جو اس کی حکمتِ عملی کی پختگی کا مظہر ہے۔
درحقیقت، آپریشن سندور نے بھارت کی سرخ لکیروں کو ازسرِنو متعین کیا۔ اس نے دوٹوک انداز میں یہ اعلان کیا کہ دہشت گردی کا کوئی بھی عمل، خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اب ناقابلِ برداشت ہے اور اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ یہ محض ردِعمل نہیں بلکہ ایک مؤثر بازدار حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ہے۔
تاہم اس برسی کا اصل پیغام اس سے کہیں وسیع ہے۔ ایک ایسے دور میں جب تنازعات اکثر طویل عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں، بھارت نے ایک متوازن راستہ پیش کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ ایک ریاست اپنی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے عالمی امن کے اصولوں سے انحراف کیے بغیر بھی مؤثر رہ سکتی ہے۔
ان تمام پہلوؤں کے پس منظر میں اُن قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو اس جدوجہد کی بنیاد ہیں۔ پہلگام کے بے گناہ شہری اور وہ بہادر سپاہی جنہوں نے اس کارروائی کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، اسی عزم کی اصل روح ہیں۔ ان کی یاد محض انتقام نہیں بلکہ بیداری، ذمہ داری اور انصاف کا استعارہ ہے۔
جب بھارت آپریشن سندور کی پہلی برسی منا رہا ہے تو فضا میں جذباتی جوش کے بجائے ایک سنجیدہ اور پختہ عزم محسوس ہوتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امن کمزوری سے نہیں بلکہ مضبوطی سے جنم لیتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدام کے ساتھ عالمی استحکام کو برقرار رکھنا ہی وہ اصول ہے جس نے بھارت کو ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
یوں آپریشن سندور محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریاتی و اخلاقی مثال ہے۔ یہ اس قوم کی کہانی ہے جس نے جذبات پر قابو پایا، حکمت کو اختیار کیا، اور انصاف کو اپنا رہنما بنایا۔ اسی میں ایک پُرامن اور مستحکم عالمی نظام کی حقیقی بنیاد پوشیدہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

آپریشن سندور: عالمی امن کو متاثر کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف بھارت کا عزم محکم

 

ڈاکٹر کبیر بٹ

ایک سال گزر چکا ہے جب آپریشن سندور نے بھارت کی دفاعی، اخلاقی اور سفارتی سمت کو ایک نئی جہت عطا کی، مگر اس کی بازگشت آج بھی قومی فکر و عمل میں واضح طور پر سنائی دیتی ہے۔ یہ برسی محض ایک رسمی یادگار نہیں، بلکہ ایک ایسا موقع ہے جب ایک قوم کے غم کو عزم میں، طاقت کو تدبر میں، اور ردِعمل کو ذمہ داری میں ڈھالنے کے عمل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
22 اپریل 2025 کو پہلگام کی پُرسکون وادی دہشت گردی کے ایک سفاکانہ حملے سے لہولہان ہو گئی۔ بے گناہ سیاحوں کا قتل محض انسانی جانوں کا ضیاع نہ تھا، بلکہ بھارت کی تکثیری تہذیب، اس کی سیاحتی معیشت، اور کشمیر میں بحالیِ امن کی کوششوں پر ایک گہرا وار تھا۔ اس سانحے نے پورے ملک کو رنج و الم میں مبتلا کر دیا اور انصاف کے لئے ایک اجتماعی صدا بلند ہوئی۔
تاہم اس صدمے کے بعد جو ردِعمل سامنے آیا، وہ جذباتی نہیں بلکہ نہایت سنجیدہ اور مدبرانہ تھا۔ ہفتوں تک سفارتی سطح پر سرگرمیاں جاری رہیں، انٹیلیجنس نظام کو مزید مستحکم کیا گیا، اور عسکری حکمتِ عملی کو نہایت باریک بینی سے ترتیب دیا گیا۔ یہ وقفہ اس حقیقت کا غماز تھا کہ حقیقی قوت جلد بازی میں نہیں بلکہ بروقت اور درست فیصلے میں مضمر ہوتی ہے۔
جب آپریشن سندور کا آغاز ہوا تو اس نے بھارت کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ یہ کارروائی محض نمائشی نہ تھی بلکہ انتہائی ہدفی نوعیت کی حامل تھی، جس کا مقصد لائن آف کنٹرول کے پار موجود دہشت گردی کے ڈھانچوں کو مکمل طور پر مفلوج کرنا تھا۔ نو اہم مراکز کو نشانہ بنا کر یہ واضح کر دیا گیا کہ سرحدیں اب دہشت گردی کے لئے ڈھال نہیں بن سکتیں۔
اس کارروائی کی نمایاں خصوصیت اس کی فکری وضاحت تھی۔ بھارت نے یہ ثابت کیا کہ وہ دہشت گردی کا مؤثر جواب دے سکتا ہے بغیر اس کے کہ صورتحال ایک وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو جائے۔ طاقت اور تحمل کے اس امتزاج نے آپریشن سندور کو جدید عسکری اخلاقیات کی ایک روشن مثال بنا دیا۔ اس نے یہ پیغام دیا کہ اگر حکمت، معلومات اور سیاسی بصیرت کے ساتھ اقدام کیا جائے تو دہشت گردی کا قلع قمع عالمی امن کو متاثر کیے بغیر بھی ممکن ہے۔
بھارت کی سیاسی قیادت نے بھی اسی تصور کو واضح کیا۔ وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے اسے ملکی دفاعی تاریخ کا ایک سنہری باب قرار دیتے ہوئے "قوم اوّل” کے اصول کی عملی تعبیر کہا۔ یہ محض بیان بازی نہ تھی بلکہ ایک ایسے نظریۂ عمل کی توثیق تھی جس میں قومی سلامتی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، مگر اس کا اظہار عالمی ذمہ داری کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس کارروائی کو سنجیدگی سے سراہا گیا۔ معروف عسکری ماہر جان اسپینسر نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی کامیابی کسی ایک حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور منظم حکمتِ عملی کا ثمر تھی، جس کے ذریعے مخالف کی دفاعی صلاحیتوں کو بتدریج مفلوج کیا گیا۔ اس تجزیے نے بھارت کی حیثیت ایک ذمہ دار اور باوقار قوت کے طور پر مزید مستحکم کر دی۔
پاکستان کا کردار ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر زیرِ بحث آیا، جہاں دہشت گردی کے ڈھانچوں کی سرپرستی کے الزامات کو نئی شدت سے دیکھا گیا۔ آپریشن سندور نے اس نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، یہاں تک کہ دباؤ کے تحت جنگ بندی کی درخواست سامنے آئی۔ بھارت نے اس درخواست کو اسی وقت قبول کیا جب اپنے تمام عسکری مقاصد حاصل کر لئے، جو اس کی حکمتِ عملی کی پختگی کا مظہر ہے۔
درحقیقت، آپریشن سندور نے بھارت کی سرخ لکیروں کو ازسرِنو متعین کیا۔ اس نے دوٹوک انداز میں یہ اعلان کیا کہ دہشت گردی کا کوئی بھی عمل، خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اب ناقابلِ برداشت ہے اور اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ یہ محض ردِعمل نہیں بلکہ ایک مؤثر بازدار حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ہے۔
تاہم اس برسی کا اصل پیغام اس سے کہیں وسیع ہے۔ ایک ایسے دور میں جب تنازعات اکثر طویل عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں، بھارت نے ایک متوازن راستہ پیش کیا۔ اس نے ثابت کیا کہ ایک ریاست اپنی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے عالمی امن کے اصولوں سے انحراف کیے بغیر بھی مؤثر رہ سکتی ہے۔
ان تمام پہلوؤں کے پس منظر میں اُن قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو اس جدوجہد کی بنیاد ہیں۔ پہلگام کے بے گناہ شہری اور وہ بہادر سپاہی جنہوں نے اس کارروائی کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا، اسی عزم کی اصل روح ہیں۔ ان کی یاد محض انتقام نہیں بلکہ بیداری، ذمہ داری اور انصاف کا استعارہ ہے۔
جب بھارت آپریشن سندور کی پہلی برسی منا رہا ہے تو فضا میں جذباتی جوش کے بجائے ایک سنجیدہ اور پختہ عزم محسوس ہوتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ امن کمزوری سے نہیں بلکہ مضبوطی سے جنم لیتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدام کے ساتھ عالمی استحکام کو برقرار رکھنا ہی وہ اصول ہے جس نے بھارت کو ایک ذمہ دار عالمی قوت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
یوں آپریشن سندور محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریاتی و اخلاقی مثال ہے۔ یہ اس قوم کی کہانی ہے جس نے جذبات پر قابو پایا، حکمت کو اختیار کیا، اور انصاف کو اپنا رہنما بنایا۔ اسی میں ایک پُرامن اور مستحکم عالمی نظام کی حقیقی بنیاد پوشیدہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں