عصرِ حاضر میں مطالعۂ ادب کی ضرورت کیوں؟

پروفیسر مشتاق احمد

عہدِ حاضر جسے ہم سائنسی انقلابات اور ایجادات کی صدی قرار دے رہے ہیںاوراس سائنسی ایجادات نے پوری دنیا کو ایک گائوں میں تبدیل کر دیاہے۔ لمحہ بہ لمحہ دنیا بدل رہی ہے اور انسان حیرت زدہ ہے کہ محض لمحہ پہلے جو شئے تھی اس میں تبدیلی واقع ہوگئی ہے ۔ ایسے دور میں جب ٹیکنالوجی، اعداد و شمار اور عملی مفادات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے، یہ سوال کہ’’ہمیں ادب کیوں پڑھنا چاہئے؟‘‘پہلے سے کہیںزیادہ اہم ہو گیا ہے۔ بظاہر ادب ایک غیر ضروری یا ثانوی مشغلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی شعور، اخلاقی بصیرت اور تہذیبی تسلسل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔واضح ہو کہ حال ہی میں راقم الحروف کو سنٹرل یونیورسٹی،گاندھربل کشمیر میں ایک توسیعی خطبہ کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ شعبۂ اردو کی چیئر مین پروفیسر نصرت جبیں،پروفیسر راشد عزیز اور پروفیسر الطاف نقشبندی نے اس توسیعی خطبہ کے لئے یہ موضوع ’’عصرِ حاضر میںادب کیوں پڑھیں؟‘‘ متعین کیا تھا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالروں اور طلبا وطالبات سے تبادلہ خیال کا موقع ملا اور بیشتر طلبا نے وقفۂ سوالات وجوابات میں یہ سوال کیا کہ آج جب پوری دنیا میں پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا جا رہاہے تو ایسے وقت میں ادبیات کے طلبا وطالبات کا مستقبل کیا ہوگا۔ظاہر ہے کہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں یہ ایک اہم سوال ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ تغیرِ زمانہ کے ساتھ ساتھ علم وفنون کی اہمیت میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ بظاہر اس وقت ادب کو ایک غیر ضروری یا ثانوی مشغلہ سمجھا جانے لگاہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی شعور ، اخلاقی بصیرت اور تہذیبی تسلسل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتاہے۔دنیا کے تمام ادبا اور شعرا،فلاسفروںاور دانشوروں نے اس بات پر زور دیاہے کہ ادب کا مطالعہ فرد اور معاشرے دونوں کے لئے ناگزیر ہے۔اگر مغربی دانشورانِ ادب کے افکار ونظریات پر سرسری نگاہ ڈالیں تو مغرب میں بھی یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ ادب کا مطالعہ کیوں کریں۔ اس سلسلے میں نامور ناقد میتھیو آرنالڈ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب’’Culture and Anarchy‘‘میں بڑی بحث کی ہے۔آرنالڈ کے مطابق ادب انسانی تجربات، اخلاقی کشمکش اور وجودی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے بجا لکھا ہے کہ ’’دنیا میں جو کچھ بہترین سوچا اور کہا گیاہے وہ ادب میں محفوظ ہے‘‘۔انہوں نے ادب کو ایک ایسے معاشرے میں مذہب کا متبادل قرار دیا جو تیزی سے سیکولر ہو رہا تھا۔ انہوں نے ادب کو’’زندگی پر تنقید‘‘قرار دیا۔ ان کے نزدیک ادب انسانی تجربات، اخلاقی کشمکش اور وجودی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ آرنلڈ کے مطابق عظیم ادب’’دنیا میں جو کچھ بہترین سوچا اور کہا گیا ہے‘‘اس کا مظہر ہوتا ہے، اس لئے ادب کا مطالعہ ذہنی اور اخلاقی ترقی کے لئے ضروری ہے۔اسی طرح T. S. Eliot نے ادب میں روایت اور تاریخی تسلسل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اپنے مضمون’’Tradition and the Individual Talent‘‘میں ایلیٹ نے کہا کہ ادب ماضی اور حال کے درمیان ایک زندہ رشتہ قائم کرتا ہے۔ ادب کے ذریعے قاری اپنی موجودہ دنیا سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تہذیبی ورثے کا حصہ بن جاتا ہے، جو اس کی فکری وسعت میں اضافہ کرتا ہے۔F. R. Leavis نے ادب کو تنقیدی شعور اور اخلاقی حساسیت کی تربیت کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک ادب’’تربیت یافتہ ذوق‘‘پیدا کرتا ہے، جو قاری کو زبان، جذبات اور اقدار کی باریکیوں کو سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔ صنعتی معاشرے میں جہاں سطحیت اور مادیت غالب ہو رہی ہے، وہاں ادب معیار اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنے کا ایک مضبوط وسیلہ ہے۔
انگریزی کے رومانوی شاعر William Wordsworth نے ادب کی جذباتی اور روحانی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے شاعری کو’’طاقتور جذبات کا بے ساختہ اظہار‘‘قرار دیا۔ ان کے نزدیک ادب انسان کو اس کی اصل فطرت اور جذبات سے جوڑتا ہے، جو جدید زندگی کی مصروفیات میں کہیں دب جاتے ہیں۔ ادب پڑھ کر انسان دوسروں کے احساسات کو محسوس کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے، جس سے ہمدردی اور انسانیت فروغ پاتی ہے۔Virginia Woolf نے ادب کے ذریعے انسانی تجربات کی وسعت کو اجاگر کیا۔ اپنے مضمون How Should one Read a Book? میں انہوں نے کہا کہ ادب ہمیں مختلف نقطۂ نظر اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔ قاری جب مختلف کرداروں اور حالات سے گزرتا ہے تو اس کی فکری اور جذباتی دنیا وسیع ہوتی ہے۔George Orwell نے ادب کی سیاسی اہمیت کو نمایاں کیا۔ ان کے نزدیک ادب ظلم و ناانصافی کو بے نقاب کرتا ہے اور معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان کی مشہور تصنیف Animal Farm اور 1984 اس بات کی مثال ہیں کہ ادب کس طرح طاقتور نظاموں پر تنقید کر سکتا ہے اور عوام میں شعور بیدار کر سکتا ہے۔C. S. Lewis نے کہا کہ’’ہم ادب پڑھتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ ہم تنہا نہیں ہیں‘‘۔ان کے نزدیک ادب انسان کو دوسروں کے تجربات میں شریک ہونے کا موقع دیتا ہے، جس سے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
جان ہینری نیومین(John Henry Newman)نے تعلیم میں ادب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اپنی کتاب The Idea of a University میں انہوں نے کہا کہ ادب ذہن کو متوازن، واضح اور بامعنی بناتا ہے۔ ادب کا مطالعہ انسان کی زبان، فکر اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔جدید نقاد Terry Eagleton نے بھی ادب کی افادیت کو تسلیم کیا، اگرچہ انہوں نے اس کے نظریاتی پہلوؤں پر سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق ادب ہمیں غالب نظریات پر سوال اٹھانے اور نئی سوچ پیدا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ان تمام آراء سے چند بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔ اول، ادب انسان کو اپنی اور دوسروں کی فطرت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ہمدردی اور رواداری پیدا ہوتی ہے۔ دوم، ادب تنقیدی سوچ کو فروغ دیتا ہے اور قاری کو مختلف زاویوں سے سوچنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ سوم، ادب تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھتا ہے اور ہمیں مختلف معاشروں اور ادوار سے روشناس کراتا ہے۔ چہارم، ادب جمالیاتی لطف اور جذباتی تسکین فراہم کرتا ہے۔ پنجم، ادب خود شناسی کا ذریعہ ہے، جو انسان کو اپنی ذات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ آخر میں، ادب معاشرتی تبدیلی کا محرک بن سکتا ہے۔مشرق میں بھی مطالعۂ ادب کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔بالمیکی، کبیرؔ، رحیمؔ، سورداس،کالی داس،پنڈت جگن ناتھ،ودّیاپتی، بابا ناگارجن،رام دھاری سنگھ دنکر،مہادیوی ورما،جئے شنکر پرسادوغیرہ کے فکری اثاثے کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مطالعۂ ادب ایک صالح معاشرے کے لئے کس قدر ناگزیر ہے۔ اردو میں بھی میرؔ، غالبؔ،حالیؔ،اکبرؔاورعلامہ اقبالؔ نے مطالعۂ ادب کی اہمیت وافادیت پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔پریم چند،قرۃ العین حیدر، بیدی،خواجہ احمد عباس،شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ، پروفیسر وہاب اشرفی اورپروفیسرلطف الرحمن نے بھی مطالعۂ ادب کی ناگزیریت پر روشنی ڈالی ہے ۔ بالخصوص علامہ اقبال ؔنے مطالعۂ ادب کی غیر معمولی اہمیت کا اعتراف کیا اور انہوں نے ادب کو محض تفریح یا جذباتی اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک فعال، بیدار اور انقلابی قوت کے طورپر پیش کیا۔ان کا نظریۂ ادب زندگی ، خودی ، عمل اور حیاتِ انسانی کی تعمیر نو سے گہرا تعلق رکھتاہے۔ علامہ اقبالؔ کے نزدیک ادب کا مقصد انسان کو بیدار کرنا، اس کی خودی کو مضبوط بنانا اور اسے کائنات میں اس کے مقام سے آگاہ کرناہے۔ انہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب’’اسرارِ خودی‘‘ میں نظریۂ ادب کی تبلیغ کی ہے۔اقبالؔ کے نزدیک ادب زندگی سے جدا کوئی شئے نہیں بلکہ زندگی کا عکاس اور اس کا رہنما ہے ۔ وہ ادب کو زندگی کی تفسیر تسلیم کرتے ہیں ۔سرسید احمدخاں اور شبلی نعمانی نے بھی ایک صحت مند انسانی معاشرے کے لئے مطالعۂ ادب کو لازم قرار دیاہے۔
مختصر یہ کہ مغربی اور مشرقی ناقدینِ ادب اور ادبا وشعرا کے ساتھ ساتھ فلسفیوں اور دانشوروں نے بھی ادب کومحض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ایک لازمی جز وقراردیاہے کیوں کہ ادب ہماری فکر، جذبات اور اقدار کو تشکیل دیتا ہے۔ آج کے پیچیدہ اور تیز رفتار دور میں ادب کا مطالعہ ہمیں خود کو اور دوسروں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ادب پڑھنا دراصل انسانیت کے ساتھ ایک زندہ مکالمہ قائم کرنا ہے اس لئے ادب کے طلبا کو اس فکر سے آزاد ہو جانا چاہئے کہ مطالعہ ادب دیگر علوم وفنون کے مطالعہ کی بہ نسبت کمتر ہے یا پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے مقابل روزگار کے مواقع فراہم نہیں کرتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دورِ عا  لمیت میں بھی مطالعۂ ادب کی غیر معمولی اہمیت تسلیم کی جا رہی ہے کہ مطالعۂ ادب کے بغیرایک صالح انسانی معاشرہ کی تشکیل نا ممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج تمام پیشہ ورانہ اور سائنسی وتکنیکی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مطالعۂ ادب کو شامل کیا گیاہے اور باضابطہ فیکلٹی آف ہومینیٹیز کا قیام عمل میں لایا جا رہاہے۔
(راقم الحروف کاتوسیعی خطبہ۔ بتاریخ۲۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء زیر اہتمام شعبۂ اردو،سنٹرل یونیورسٹی، گاندھربل، کشمیر)
٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

عصرِ حاضر میں مطالعۂ ادب کی ضرورت کیوں؟

پروفیسر مشتاق احمد

عہدِ حاضر جسے ہم سائنسی انقلابات اور ایجادات کی صدی قرار دے رہے ہیںاوراس سائنسی ایجادات نے پوری دنیا کو ایک گائوں میں تبدیل کر دیاہے۔ لمحہ بہ لمحہ دنیا بدل رہی ہے اور انسان حیرت زدہ ہے کہ محض لمحہ پہلے جو شئے تھی اس میں تبدیلی واقع ہوگئی ہے ۔ ایسے دور میں جب ٹیکنالوجی، اعداد و شمار اور عملی مفادات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو چکی ہے، یہ سوال کہ’’ہمیں ادب کیوں پڑھنا چاہئے؟‘‘پہلے سے کہیںزیادہ اہم ہو گیا ہے۔ بظاہر ادب ایک غیر ضروری یا ثانوی مشغلہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی شعور، اخلاقی بصیرت اور تہذیبی تسلسل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔واضح ہو کہ حال ہی میں راقم الحروف کو سنٹرل یونیورسٹی،گاندھربل کشمیر میں ایک توسیعی خطبہ کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ شعبۂ اردو کی چیئر مین پروفیسر نصرت جبیں،پروفیسر راشد عزیز اور پروفیسر الطاف نقشبندی نے اس توسیعی خطبہ کے لئے یہ موضوع ’’عصرِ حاضر میںادب کیوں پڑھیں؟‘‘ متعین کیا تھا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالروں اور طلبا وطالبات سے تبادلہ خیال کا موقع ملا اور بیشتر طلبا نے وقفۂ سوالات وجوابات میں یہ سوال کیا کہ آج جب پوری دنیا میں پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا جا رہاہے تو ایسے وقت میں ادبیات کے طلبا وطالبات کا مستقبل کیا ہوگا۔ظاہر ہے کہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں یہ ایک اہم سوال ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ تغیرِ زمانہ کے ساتھ ساتھ علم وفنون کی اہمیت میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلّم ہے کہ بظاہر اس وقت ادب کو ایک غیر ضروری یا ثانوی مشغلہ سمجھا جانے لگاہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی شعور ، اخلاقی بصیرت اور تہذیبی تسلسل کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتاہے۔دنیا کے تمام ادبا اور شعرا،فلاسفروںاور دانشوروں نے اس بات پر زور دیاہے کہ ادب کا مطالعہ فرد اور معاشرے دونوں کے لئے ناگزیر ہے۔اگر مغربی دانشورانِ ادب کے افکار ونظریات پر سرسری نگاہ ڈالیں تو مغرب میں بھی یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ ادب کا مطالعہ کیوں کریں۔ اس سلسلے میں نامور ناقد میتھیو آرنالڈ نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب’’Culture and Anarchy‘‘میں بڑی بحث کی ہے۔آرنالڈ کے مطابق ادب انسانی تجربات، اخلاقی کشمکش اور وجودی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے بجا لکھا ہے کہ ’’دنیا میں جو کچھ بہترین سوچا اور کہا گیاہے وہ ادب میں محفوظ ہے‘‘۔انہوں نے ادب کو ایک ایسے معاشرے میں مذہب کا متبادل قرار دیا جو تیزی سے سیکولر ہو رہا تھا۔ انہوں نے ادب کو’’زندگی پر تنقید‘‘قرار دیا۔ ان کے نزدیک ادب انسانی تجربات، اخلاقی کشمکش اور وجودی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ آرنلڈ کے مطابق عظیم ادب’’دنیا میں جو کچھ بہترین سوچا اور کہا گیا ہے‘‘اس کا مظہر ہوتا ہے، اس لئے ادب کا مطالعہ ذہنی اور اخلاقی ترقی کے لئے ضروری ہے۔اسی طرح T. S. Eliot نے ادب میں روایت اور تاریخی تسلسل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اپنے مضمون’’Tradition and the Individual Talent‘‘میں ایلیٹ نے کہا کہ ادب ماضی اور حال کے درمیان ایک زندہ رشتہ قائم کرتا ہے۔ ادب کے ذریعے قاری اپنی موجودہ دنیا سے آگے بڑھ کر ایک وسیع تہذیبی ورثے کا حصہ بن جاتا ہے، جو اس کی فکری وسعت میں اضافہ کرتا ہے۔F. R. Leavis نے ادب کو تنقیدی شعور اور اخلاقی حساسیت کی تربیت کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کے نزدیک ادب’’تربیت یافتہ ذوق‘‘پیدا کرتا ہے، جو قاری کو زبان، جذبات اور اقدار کی باریکیوں کو سمجھنے کے قابل بناتا ہے۔ صنعتی معاشرے میں جہاں سطحیت اور مادیت غالب ہو رہی ہے، وہاں ادب معیار اور اخلاقی اقدار کو برقرار رکھنے کا ایک مضبوط وسیلہ ہے۔
انگریزی کے رومانوی شاعر William Wordsworth نے ادب کی جذباتی اور روحانی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے شاعری کو’’طاقتور جذبات کا بے ساختہ اظہار‘‘قرار دیا۔ ان کے نزدیک ادب انسان کو اس کی اصل فطرت اور جذبات سے جوڑتا ہے، جو جدید زندگی کی مصروفیات میں کہیں دب جاتے ہیں۔ ادب پڑھ کر انسان دوسروں کے احساسات کو محسوس کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے، جس سے ہمدردی اور انسانیت فروغ پاتی ہے۔Virginia Woolf نے ادب کے ذریعے انسانی تجربات کی وسعت کو اجاگر کیا۔ اپنے مضمون How Should one Read a Book? میں انہوں نے کہا کہ ادب ہمیں مختلف نقطۂ نظر اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔ قاری جب مختلف کرداروں اور حالات سے گزرتا ہے تو اس کی فکری اور جذباتی دنیا وسیع ہوتی ہے۔George Orwell نے ادب کی سیاسی اہمیت کو نمایاں کیا۔ ان کے نزدیک ادب ظلم و ناانصافی کو بے نقاب کرتا ہے اور معاشرتی تبدیلی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ان کی مشہور تصنیف Animal Farm اور 1984 اس بات کی مثال ہیں کہ ادب کس طرح طاقتور نظاموں پر تنقید کر سکتا ہے اور عوام میں شعور بیدار کر سکتا ہے۔C. S. Lewis نے کہا کہ’’ہم ادب پڑھتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ ہم تنہا نہیں ہیں‘‘۔ان کے نزدیک ادب انسان کو دوسروں کے تجربات میں شریک ہونے کا موقع دیتا ہے، جس سے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
جان ہینری نیومین(John Henry Newman)نے تعلیم میں ادب کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اپنی کتاب The Idea of a University میں انہوں نے کہا کہ ادب ذہن کو متوازن، واضح اور بامعنی بناتا ہے۔ ادب کا مطالعہ انسان کی زبان، فکر اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔جدید نقاد Terry Eagleton نے بھی ادب کی افادیت کو تسلیم کیا، اگرچہ انہوں نے اس کے نظریاتی پہلوؤں پر سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق ادب ہمیں غالب نظریات پر سوال اٹھانے اور نئی سوچ پیدا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ان تمام آراء سے چند بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔ اول، ادب انسان کو اپنی اور دوسروں کی فطرت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ہمدردی اور رواداری پیدا ہوتی ہے۔ دوم، ادب تنقیدی سوچ کو فروغ دیتا ہے اور قاری کو مختلف زاویوں سے سوچنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ سوم، ادب تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھتا ہے اور ہمیں مختلف معاشروں اور ادوار سے روشناس کراتا ہے۔ چہارم، ادب جمالیاتی لطف اور جذباتی تسکین فراہم کرتا ہے۔ پنجم، ادب خود شناسی کا ذریعہ ہے، جو انسان کو اپنی ذات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ آخر میں، ادب معاشرتی تبدیلی کا محرک بن سکتا ہے۔مشرق میں بھی مطالعۂ ادب کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔بالمیکی، کبیرؔ، رحیمؔ، سورداس،کالی داس،پنڈت جگن ناتھ،ودّیاپتی، بابا ناگارجن،رام دھاری سنگھ دنکر،مہادیوی ورما،جئے شنکر پرسادوغیرہ کے فکری اثاثے کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مطالعۂ ادب ایک صالح معاشرے کے لئے کس قدر ناگزیر ہے۔ اردو میں بھی میرؔ، غالبؔ،حالیؔ،اکبرؔاورعلامہ اقبالؔ نے مطالعۂ ادب کی اہمیت وافادیت پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔پریم چند،قرۃ العین حیدر، بیدی،خواجہ احمد عباس،شمس الرحمن فاروقی اور گوپی چند نارنگ، پروفیسر وہاب اشرفی اورپروفیسرلطف الرحمن نے بھی مطالعۂ ادب کی ناگزیریت پر روشنی ڈالی ہے ۔ بالخصوص علامہ اقبال ؔنے مطالعۂ ادب کی غیر معمولی اہمیت کا اعتراف کیا اور انہوں نے ادب کو محض تفریح یا جذباتی اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک فعال، بیدار اور انقلابی قوت کے طورپر پیش کیا۔ان کا نظریۂ ادب زندگی ، خودی ، عمل اور حیاتِ انسانی کی تعمیر نو سے گہرا تعلق رکھتاہے۔ علامہ اقبالؔ کے نزدیک ادب کا مقصد انسان کو بیدار کرنا، اس کی خودی کو مضبوط بنانا اور اسے کائنات میں اس کے مقام سے آگاہ کرناہے۔ انہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب’’اسرارِ خودی‘‘ میں نظریۂ ادب کی تبلیغ کی ہے۔اقبالؔ کے نزدیک ادب زندگی سے جدا کوئی شئے نہیں بلکہ زندگی کا عکاس اور اس کا رہنما ہے ۔ وہ ادب کو زندگی کی تفسیر تسلیم کرتے ہیں ۔سرسید احمدخاں اور شبلی نعمانی نے بھی ایک صحت مند انسانی معاشرے کے لئے مطالعۂ ادب کو لازم قرار دیاہے۔
مختصر یہ کہ مغربی اور مشرقی ناقدینِ ادب اور ادبا وشعرا کے ساتھ ساتھ فلسفیوں اور دانشوروں نے بھی ادب کومحض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کا ایک لازمی جز وقراردیاہے کیوں کہ ادب ہماری فکر، جذبات اور اقدار کو تشکیل دیتا ہے۔ آج کے پیچیدہ اور تیز رفتار دور میں ادب کا مطالعہ ہمیں خود کو اور دوسروں کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ادب پڑھنا دراصل انسانیت کے ساتھ ایک زندہ مکالمہ قائم کرنا ہے اس لئے ادب کے طلبا کو اس فکر سے آزاد ہو جانا چاہئے کہ مطالعہ ادب دیگر علوم وفنون کے مطالعہ کی بہ نسبت کمتر ہے یا پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے کے مقابل روزگار کے مواقع فراہم نہیں کرتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دورِ عا  لمیت میں بھی مطالعۂ ادب کی غیر معمولی اہمیت تسلیم کی جا رہی ہے کہ مطالعۂ ادب کے بغیرایک صالح انسانی معاشرہ کی تشکیل نا ممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج تمام پیشہ ورانہ اور سائنسی وتکنیکی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مطالعۂ ادب کو شامل کیا گیاہے اور باضابطہ فیکلٹی آف ہومینیٹیز کا قیام عمل میں لایا جا رہاہے۔
(راقم الحروف کاتوسیعی خطبہ۔ بتاریخ۲۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء زیر اہتمام شعبۂ اردو،سنٹرل یونیورسٹی، گاندھربل، کشمیر)
٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں