
مسعود محبوب خان
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی ظاہری و باطنی پاکیزگی، اخلاقی بلندی اور معاشرتی توازن کو اہمیت دیتا ہے۔ انہی تعلیمات میں حیا کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، جسے ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے اور جو انسان کو حدودِ شریعت کا پابند بناتی ہے۔
موجودہ ڈیجیٹل دور میں، جہاں سوشل میڈیا اور غیر ضروری آزادیوں نے تعلقات کی نوعیت بدل دی ہے، وہاں بعض شرعی اصول نظر انداز ہو رہے ہیں۔ منگنی کے بعد کے تعلقات بھی اسی مسئلے کا شکار ہیں۔ واضح رہے کہ منگنی صرف ایک وعدہ ہے، نکاح نہیں، اس لئے لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لئے بدستور نامحرم رہتے ہیں اور ان پر وہی حدود لاگو ہوتی ہیں جو دیگر نامحرم افراد کے ساتھ ہیں۔
فقہائے اسلام کے مطابق منگنی کے بعد خلوت، بلا ضرورت گفتگو اور آزادانہ میل جول ناجائز ہے۔ شریعت نے صرف نکاح کے ارادے سے ایک محدود اجازت دی ہے کہ ایک نظر دیکھ لی جائے، مگر اس کو بنیاد بنا کر غیر ضروری قربت یا تعلقات بڑھانا شریعت کے خلاف ہے۔
قرآنِ کریم میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ نظر کی حفاظت ہر حال میں ضروری ہے۔ اسی تناظر میں منگیتر کے ساتھ تصاویر کا تبادلہ، بار بار دیکھنا یا شیئر کرنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ یہ دل میں غیر ضروری کشش اور وابستگی پیدا کرتا ہے اور بعض اوقات سنگین نتائج، جیسے بدنامی یا بلیک میلنگ، کا سبب بن سکتا ہے۔
شریعت کی دی ہوئی یہ اجازت دراصل ضرورت تک محدود ہے، خواہشات تک نہیں۔ جب انسان اس حد سے تجاوز کرتا ہے تو آہستہ آہستہ وہی جائز گنجائش ناجائز وسعت اختیار کر لیتی ہے، اور انسان حدودِ شریعت کو توڑنے لگتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس رعایت کو اس کے اصل دائرے میں رکھا جائے اور تعلقات کو وقار اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
عید اور دیگر خوشی کے مواقع بظاہر مسرت کے لمحات ہوتے ہیں، مگر انہی مواقع پر غیر محسوس طور پر غیر شرعی روابط بھی جنم لے لیتے ہیں۔ منگیتر کے ساتھ تصاویر شیئر کرنا یا انہیں عام کرنا ایک معمولی بات لگتی ہے، لیکن درحقیقت یہ حدود سے تجاوز کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ایسے مواقع پر مزید احتیاط اور خود نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔
موجودہ دور میں فتنہ صرف ملاقاتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ موبائل، چیٹس اور سوشل میڈیا نے اسے کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ تصاویر، ویڈیوز اور وائس میسیجز کے ذریعے پیدا ہونے والی قربت بظاہر معصوم مگر درحقیقت خطرناک ہو سکتی ہے، اور بعد میں یہی چیزیں بدنامی یا بلیک میلنگ کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
حیا محض ظاہری پردہ نہیں بلکہ ایک باطنی کیفیت ہے جو انسان کو گناہ سے روکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو”، یعنی حیا کا خاتمہ اخلاقی زوال کی علامت ہے، جب کہ حیا کی حفاظت دراصل ایمان کی حفاظت ہے۔
آج کے دور میں خود احتسابی اور تقویٰ کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اس لئے چاہیے کہ منگنی کے بعد غیر ضروری گفتگو اور مسلسل رابطے سے بچا جائے، اور اگر ضرورت ہو بھی تو سادگی اور سنجیدگی کے ساتھ محدود رکھا جائے۔
اسی کے ساتھ نکاح کو بلاوجہ مؤخر کرنے کے بجائے جلد انجام دینا بہتر ہے تاکہ تعلقات کو ایک جائز اور بابرکت بنیاد مل سکے۔ والدین اور سرپرستوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں رہنمائی اور نگرانی کریں۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنی نگاہوں، تعلقات اور جذبات کی حفاظت کریں، شریعت کی حدود کا پاس رکھیں اور حیا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہو سکے۔


