سوشل میڈیا

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

جب سے سوشل میڈیا معرضِ وجود میں آیا ہے، اس نے انسانی زندگی کی کایا پلٹ دی ہے۔ پہلے جب گھر کے سارے افراد ایک ساتھ مل بیٹھ کر گھریلو، سماجی، اقتصادی اور اخلاقی موضوعات پر آپس میں گفت و شنید کرتے تھے، بزرگ افراد زندگی کے دیرینہ تجربات کی بنا پر کم عمر افراد کو اپنی قیمتی آراء سے نوازتے تھے، اور اس طرح اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ مخصوص خاندانی خصوصیات بھی ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو جاتی تھیں۔ لیکن بھلا ہو اس سوشل میڈیا کا، اب نہ وہ گھر رہا اور نہ وہ خاندان۔ اس نے انسانی رشتوں کو تار تار کر دیا، کوئی کسی کا نہ رہا۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہ رہے افراد ایک دوسرے سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ انسان کی ساری سوشل زندگی کو ختم کرنے کے باوجود اس کا نام سوشل میڈیا ہے۔
بچے والدین کے بغل میں رہتے ہوئے بھی ان سے کوسوں دور ہیں۔ ہر کسی نے اپنی ایک الگ دنیا بسائی ہے۔ دور کے رشتہ دار اور یار دوست الگ، اب تو پاس بیٹھے لوگوں کی خیر و عافیت کا پتہ بھی اس وقت چلتا ہے جب وہ کسی ہزاروں میل دور بیٹھے اجنبی شخص کی بیہودہ پوسٹ کو like کرتا ہے۔
سوشل میڈیا ہماری روزمرہ کی زندگی میں اس قدر تیزی کے ساتھ سرایت کر چکا ہے کہ اب ہم اس کے بغیر جی نہیں سکتے۔ دن ہو یا رات، آدمی اپنے ٹانگوں پر کھڑا چل رہا ہو یا بسترِ مرگ پر دراز، اسے بہرحال سوشل میڈیا پر آنا ہی آنا ہے، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس نے ایک نشے کی صورت اختیار کر لی ہے۔ جوان اور بزرگ الگ، اب تو ہمارے معصوم بچے بھی اس کے بغیر کھانا نہیں کھاتے۔ مائیں خوش کہ ہمیں بھی موقع ملا، لیکن باپ پریشان کہ بچے پڑھائی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
دیکھا جائے تو اس سوشل میڈیا کی کئی خصوصیات ہیں۔ اس نے تو کسی ناہنجار کو عالمِ دین اور کسی کو عالم و فاضل بنا دیا۔ کوئی خودساختہ ڈاکٹر بن بیٹھا ہے اور کوئی نام نہاد سیاسی لیڈر۔ اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنا اور ان پر فقرے کسنا سوشل میڈیا کے اکثر علما اور دانشوروں کا شیوہ بن چکا ہے۔ آدمی نے دو چار باتیں کیا لکھ دیں کہ likes اور comments کا انتظار، اور ان کے گننے میں رات بھر کی نیند حرام۔
سوشل میڈیا کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس نے لاتعداد news بنانے والے ایجاد کیے ہیں۔ کسی سیاست دان نے زور سے چھینک ماری ہو یا کوئی ادھیڑ عمر کی عورت کسی نابالغ لڑکے کے ساتھ فرار ہو گئی ہو، فوراً خبر بن جاتی ہے، اور وہ بھی سنسنی خیز۔ اس سوشل میڈیا نے انسانوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کیا ہے۔ اب تو پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ اگر کہیں کوئی لغزش سرزد ہوئی تو خبر پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
پہلے پہل تو بڑے بڑے حادثات کے بارے میں بھی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی۔ کسی ڈاکٹر صاحب کی غلطی سے کوئی بے موت مر گیا ہو یا کسی لاچار ملازم نے چائے پانی کے لئے اسامی سے دو چار روپے لے لئے ہوں، دونوں کو ہتھکڑی لگا کر سوشل میڈیا پر رسوا کیا جاتا ہے۔ اور ہاں، جو چیز شرم و حماقت کی بات مانی جاتی تھی، اسے اب فخر کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے۔ بوڑھے والدین کے ساتھ سرعام مار پیٹ، بہو رانی نے ساس ماں کے دونوں کان کاٹ کھائے، فیشن زدہ خاتون نے بچے کو میک اپ آرٹسٹ کے پاس گروی رکھ دیا—اور پھر خبر بنانے والوں کی زبان، وہ سننے کے لائق نہیں ہوتی۔ اس میں نہ جانے کتنی زبانوں کے ملے جلے بے معنی الفاظ ہوتے ہیں۔ آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہنے جا رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے۔ اگر الحاج مولوی فیروز الدین صاحب آج زندہ ہوتے تو ضرور الگ سے ایک اور فیروز اللغات لکھ دیتے۔
دیکھا جائے تو سوشل میڈیا نے انسان کو سنگدل اور بے مروت بھی بنا کر رکھ دیا ہے۔ اگر کوئی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے تو اسے بچانے کے بجائے اس کا ویڈیو بنا کر وائرل کیا جاتا ہے۔ انسان، انسان نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا چلانے والا ایک بٹن بن کر رہ گیا ہے۔ اس کے احساسات اور جذبات ختم ہو چکے ہیں۔ اپنے دل و دماغ سے کام لینے کے بجائے دوسروں کی کہی ہوئی باتوں پر انحصار کرنا، ان کے خیالات و احساسات کو اپنا مان کر چلنا—اس سے انسان ذہنی تناؤ اور جذباتی استحصال کا شکار ہو چکا ہے۔
نہ جانے انسان کہاں کھو گیا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے اور کیا سوچ رہا ہے۔ کتاب، جو کبھی انسان کا دوست ہوا کرتی تھی اور اس کے دکھ سکھ میں ساتھ دیتی تھی، سوشل میڈیا نے اس کے پڑھنے والے ہی غائب کر دیے۔ اب کتاب پڑھنے والا کہیں نہیں ملے گا۔ ہاں، کتابیں ضرور لکھی جاتی ہیں—پڑھنے کے لئے نہیں بلکہ الماریوں کی زینت بننے کے لئے۔
نوجوان، جو پہلے فرصت کے اوقات میں کھیل کے میدان میں دیکھے جا سکتے تھے، اب وہ بند کمروں میں پیٹ کے بل لیٹے ہوئے سوشل میڈیا پر دکھتے ہیں، اور اس طرح موٹاپے کے علاوہ ذہنی تناؤ اور بد اخلاقی کے شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ سنا ہے کہ کسی میڈم نے حال ہی میں سوشل میڈیا کے ایک platform پر یہ کہہ کر کیس درج کیا کہ اس سے میڈم کی زندگی برباد ہو گی، اس لئے اسے بند کیا جائے۔ کوئی اس میڈم جی سے پوچھے، بھلا دورِ جدید کا انسان سوشل میڈیا کے بغیر جی سکتا ہے؟ ارے، یہ تو اس کی زندگی بن چکا ہے۔ یہ ایک نشہ ہے جس نے وبائی صورت اختیار کر لی ہے۔
آج کل کے انسان کی نصف زندگی سوشل میڈیا پر گزرتی ہے، اور نصف دوسروں کی مخالفت اور عیب جوئی کرنے میں صرف ہو جاتی ہے۔ آج کا انسان اپنے لئے کہاں جیتا ہے جو اس کی زندگی خراب ہو؟
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

سوشل میڈیا

 

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

جب سے سوشل میڈیا معرضِ وجود میں آیا ہے، اس نے انسانی زندگی کی کایا پلٹ دی ہے۔ پہلے جب گھر کے سارے افراد ایک ساتھ مل بیٹھ کر گھریلو، سماجی، اقتصادی اور اخلاقی موضوعات پر آپس میں گفت و شنید کرتے تھے، بزرگ افراد زندگی کے دیرینہ تجربات کی بنا پر کم عمر افراد کو اپنی قیمتی آراء سے نوازتے تھے، اور اس طرح اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ مخصوص خاندانی خصوصیات بھی ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہو جاتی تھیں۔ لیکن بھلا ہو اس سوشل میڈیا کا، اب نہ وہ گھر رہا اور نہ وہ خاندان۔ اس نے انسانی رشتوں کو تار تار کر دیا، کوئی کسی کا نہ رہا۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہ رہے افراد ایک دوسرے سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ انسان کی ساری سوشل زندگی کو ختم کرنے کے باوجود اس کا نام سوشل میڈیا ہے۔
بچے والدین کے بغل میں رہتے ہوئے بھی ان سے کوسوں دور ہیں۔ ہر کسی نے اپنی ایک الگ دنیا بسائی ہے۔ دور کے رشتہ دار اور یار دوست الگ، اب تو پاس بیٹھے لوگوں کی خیر و عافیت کا پتہ بھی اس وقت چلتا ہے جب وہ کسی ہزاروں میل دور بیٹھے اجنبی شخص کی بیہودہ پوسٹ کو like کرتا ہے۔
سوشل میڈیا ہماری روزمرہ کی زندگی میں اس قدر تیزی کے ساتھ سرایت کر چکا ہے کہ اب ہم اس کے بغیر جی نہیں سکتے۔ دن ہو یا رات، آدمی اپنے ٹانگوں پر کھڑا چل رہا ہو یا بسترِ مرگ پر دراز، اسے بہرحال سوشل میڈیا پر آنا ہی آنا ہے، اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس نے ایک نشے کی صورت اختیار کر لی ہے۔ جوان اور بزرگ الگ، اب تو ہمارے معصوم بچے بھی اس کے بغیر کھانا نہیں کھاتے۔ مائیں خوش کہ ہمیں بھی موقع ملا، لیکن باپ پریشان کہ بچے پڑھائی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
دیکھا جائے تو اس سوشل میڈیا کی کئی خصوصیات ہیں۔ اس نے تو کسی ناہنجار کو عالمِ دین اور کسی کو عالم و فاضل بنا دیا۔ کوئی خودساختہ ڈاکٹر بن بیٹھا ہے اور کوئی نام نہاد سیاسی لیڈر۔ اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنا اور ان پر فقرے کسنا سوشل میڈیا کے اکثر علما اور دانشوروں کا شیوہ بن چکا ہے۔ آدمی نے دو چار باتیں کیا لکھ دیں کہ likes اور comments کا انتظار، اور ان کے گننے میں رات بھر کی نیند حرام۔
سوشل میڈیا کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس نے لاتعداد news بنانے والے ایجاد کیے ہیں۔ کسی سیاست دان نے زور سے چھینک ماری ہو یا کوئی ادھیڑ عمر کی عورت کسی نابالغ لڑکے کے ساتھ فرار ہو گئی ہو، فوراً خبر بن جاتی ہے، اور وہ بھی سنسنی خیز۔ اس سوشل میڈیا نے انسانوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کیا ہے۔ اب تو پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ اگر کہیں کوئی لغزش سرزد ہوئی تو خبر پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔
پہلے پہل تو بڑے بڑے حادثات کے بارے میں بھی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی تھی۔ کسی ڈاکٹر صاحب کی غلطی سے کوئی بے موت مر گیا ہو یا کسی لاچار ملازم نے چائے پانی کے لئے اسامی سے دو چار روپے لے لئے ہوں، دونوں کو ہتھکڑی لگا کر سوشل میڈیا پر رسوا کیا جاتا ہے۔ اور ہاں، جو چیز شرم و حماقت کی بات مانی جاتی تھی، اسے اب فخر کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل کیا جاتا ہے۔ بوڑھے والدین کے ساتھ سرعام مار پیٹ، بہو رانی نے ساس ماں کے دونوں کان کاٹ کھائے، فیشن زدہ خاتون نے بچے کو میک اپ آرٹسٹ کے پاس گروی رکھ دیا—اور پھر خبر بنانے والوں کی زبان، وہ سننے کے لائق نہیں ہوتی۔ اس میں نہ جانے کتنی زبانوں کے ملے جلے بے معنی الفاظ ہوتے ہیں۔ آدمی کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہنے جا رہا ہے اور کیوں کہہ رہا ہے۔ اگر الحاج مولوی فیروز الدین صاحب آج زندہ ہوتے تو ضرور الگ سے ایک اور فیروز اللغات لکھ دیتے۔
دیکھا جائے تو سوشل میڈیا نے انسان کو سنگدل اور بے مروت بھی بنا کر رکھ دیا ہے۔ اگر کوئی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے تو اسے بچانے کے بجائے اس کا ویڈیو بنا کر وائرل کیا جاتا ہے۔ انسان، انسان نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا چلانے والا ایک بٹن بن کر رہ گیا ہے۔ اس کے احساسات اور جذبات ختم ہو چکے ہیں۔ اپنے دل و دماغ سے کام لینے کے بجائے دوسروں کی کہی ہوئی باتوں پر انحصار کرنا، ان کے خیالات و احساسات کو اپنا مان کر چلنا—اس سے انسان ذہنی تناؤ اور جذباتی استحصال کا شکار ہو چکا ہے۔
نہ جانے انسان کہاں کھو گیا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے اور کیا سوچ رہا ہے۔ کتاب، جو کبھی انسان کا دوست ہوا کرتی تھی اور اس کے دکھ سکھ میں ساتھ دیتی تھی، سوشل میڈیا نے اس کے پڑھنے والے ہی غائب کر دیے۔ اب کتاب پڑھنے والا کہیں نہیں ملے گا۔ ہاں، کتابیں ضرور لکھی جاتی ہیں—پڑھنے کے لئے نہیں بلکہ الماریوں کی زینت بننے کے لئے۔
نوجوان، جو پہلے فرصت کے اوقات میں کھیل کے میدان میں دیکھے جا سکتے تھے، اب وہ بند کمروں میں پیٹ کے بل لیٹے ہوئے سوشل میڈیا پر دکھتے ہیں، اور اس طرح موٹاپے کے علاوہ ذہنی تناؤ اور بد اخلاقی کے شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ سنا ہے کہ کسی میڈم نے حال ہی میں سوشل میڈیا کے ایک platform پر یہ کہہ کر کیس درج کیا کہ اس سے میڈم کی زندگی برباد ہو گی، اس لئے اسے بند کیا جائے۔ کوئی اس میڈم جی سے پوچھے، بھلا دورِ جدید کا انسان سوشل میڈیا کے بغیر جی سکتا ہے؟ ارے، یہ تو اس کی زندگی بن چکا ہے۔ یہ ایک نشہ ہے جس نے وبائی صورت اختیار کر لی ہے۔
آج کل کے انسان کی نصف زندگی سوشل میڈیا پر گزرتی ہے، اور نصف دوسروں کی مخالفت اور عیب جوئی کرنے میں صرف ہو جاتی ہے۔ آج کا انسان اپنے لئے کہاں جیتا ہے جو اس کی زندگی خراب ہو؟
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں