نشہ مکت مہم: امید کی کرن یا تاخیر کا اعتراف؟

رشید پروین
 سوپور، کشمیر 
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ’’منشیات کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ اس کا مطلب منشیات فروشوں اور اس مافیا سے جڑے دوسرے لوگوں کے خلاف پراپرٹی کی ضبطی اور مسماری بھی ہو سکتی ہے یا ہو رہی ہے۔ عوامی سطح پر یقینی طور پر اس کی پذیرائی ہوگی۔ ایکس پر وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ ’’نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لئے مودی حکومت اس مافیا کے خلاف بے رحمی سے خاتمہ کر رہی ہے‘‘۔ عوام بھی چاہتے ہیں کہ ہر مافیا کے خلاف، جو سماج کی صحت مند بنیادوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرنے پر تلے ہوں، کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
نشہ مکت ابھیان مرکزی سرکار کی جانب سے شروع ہو چکا ہے۔ اسے ایک احسن قدم قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس ضمن میں کئی سوال بھی اٹھتے ہیں کہ اس مہم کو اتنی دیر کے بعد کیوں اچانک شروع کیا گیا ہے؟ تاہم ہم اس سوال پر اپنے خدشات اور تحفظات کو ابھارنے کے بجائے یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق اس کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے سراہا جائے، کیونکہ اربابِ اقتدار ہمیشہ کہیں نہ کہیں کسی اہم اور نازک پہلو کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی خاطر بہت سارے ’’ابھیان‘‘ پنڈورا بکس میں محفوظ رکھتے ہیں۔
ایل جی سنہا نے بھی جموں و کشمیر میں ۱۱ اپریل کو نشہ مکت مہم شروع کی ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ جب تک ہم منشیات کا مسئلہ ختم نہیں کریں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے، یعنی سکھ کی سانس نہیں لیں گے۔ یہ بہت اچھی بات ہے، اور اس کی توضیح میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’میں عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگلے دنوں ہر پنچایت، پولیس اسٹیشن کو منشیات فروشوں سے پاک کیا جائے گا، اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ اس کا دار و مدار نعروں یا ریلیوں پر نہیں، بلکہ اس کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ دیہات اور شہروں کے محلوں سے منشیات کا خاتمہ ہو، اور اس سلسلے میں ہفتہ وار نتائج کو پرکھا جائے گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عوامی تحریک ہے اور محض سرکاری حکم نہیں، جس میں بزرگ، اساتذہ اور سماج کے دوسرے افراد خود آگے بڑھ رہے ہیں۔
اس میں کیا شک ہے کہ جب سرکار اور حکومتیں کسی چیز یا کسی مافیا کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو ایسا ہونا کوئی ناممکن اور مشکل بات نہیں، لیکن اس کے پیچھے عزائم، مقاصد اور اہداف وہی ہوں جو بظاہر عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ بہت دیر ہو چکی ہے، کیونکہ ڈرگ مافیا ایسا نہیں کہ حال ہی میں یا چند برس پہلے وجود میں آیا ہو، بلکہ سرکار نے کئی کمیشن برسوں پہلے بھی بٹھائے تھے۔ پورے بھارت میں ایک سروے کے مطابق عادی ڈرگس لینے والوں کی تعداد ۲۰۲۱ میں ۵ فیصد سے بڑھ کر تیز رفتاری کے ساتھ ۲۰۲۲ تک ۱۴ فیصد تک ہو چکی تھی۔ یہ اعداد و شمار اگر صحیح ہیں تو آپ خود حساب لگا سکتے ہیں کہ یہ آبادی کا کتنا بڑا حصہ ہے۔ اور اگر اس عفریت نے اپنی یہ رفتار قائم رکھی تو آپ یہ بھی جان جائیں گے کہ یہ عظیم ماضی والا ملک مکمل طور پر بھنگیوں اور چرسیوں کی آرام گاہ میں کتنی مدت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف و عطائے اختیار نے پچھلے سال لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں ڈرگس سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔ یہ مرکزی قائمہ کمیٹی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ۲۷ افراد پر مشتمل ہے، اور اس کمیٹی نے محتاط طریقے سے جموں و کشمیر میں ڈرگس پر سروے کے بعد اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے کر پیش کیا ہے۔ اس رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر شاید کرپشن میں جہاں سرفہرست اپنا مقام بنا چکا ہے، اسی طرح منشیات کے استعمال میں بھی اسی مقام پر آ چکا ہے۔
اس سے پہلے کہ ان کے ہوشربا اور لرزہ خیز اعداد و شمار کا ذکر کیا جائے، ہم اپنی طرف سے یہ رائے بھی ظاہر کر سکتے ہیں کہ شاید یہ اعداد و شمار نامکمل ہوں اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو، کیونکہ اکثر والدین کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کی اس تباہی اور بربادی کو سماج اور خاندان سے چھپائے رکھیں۔ اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اعداد و شمار یقیناً زیادہ ہوں گے۔
یہ رپورٹ نہ صرف لرزہ خیز ہے بلکہ ہیبتناک اور اسی قدر اذیت ناک بھی ہے۔ مجموعی طور پر اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں ۱۳ لاکھ ۵۰ ہزار ۷۰۰ ڈرگ ایڈکٹس ہیں، جو ۱۸ سال سے لے کر ۷۵ سال کی عمر کے درمیان ہیں، لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد ۱۸ سے ۲۷ سال تک کے نوجوانوں کی ہے، جس میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی شامل ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ ۲۰۱۸ میں متوقع آبادی پر مبنی اعداد و شمار ہیں، اور ۲۰۱۸ سے لے کر اب تک زمینی سطح پر اس اناکونڈا نے کتنی بڑی تعداد کو نگل لیا ہوگا، اس کا ہم صرف اندازہ ہی کر سکتے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس عمر کے بچے مڈل اسکولوں، ہائی یا ہائر سیکنڈری اسکولوں میں زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ منشیات کا یہ نیٹ ورک اور مافیا انہی اسکولوں میں سرگرم اور شدت کے ساتھ کام کر رہا ہے، جس کی وجوہات کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔
یہ عمر بچے کی معصومیت اور بے نیازی کی ہوتی ہے، اور اس عمر میں بچوں سے بہت سے کام غیر شعوری طور پر بھی آسانی سے کرائے جا سکتے ہیں۔ انہیں کسی بھی کام کے لئے اکسایا جا سکتا ہے، اور معمولی لالچ دے کر غلط راستوں پر ڈالنا بھی آسان ہوتا ہے۔ بس دوستی ہی کے نام پر کم عمر بچوں سے یہ کام کرائے جاتے ہیں، جو ان کے لئے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
منشیات میں مبتلا بچوں اور بچیوں کی یہ تعداد ہوشربا بھی ہے اور ہمارے پیروں تلے زمین کھسکا دینے کے لئے کافی ہے۔ ڈرگس کی یہ فراوانی اور اسے استعمال کرنے والوں کی یہ تعداد اپنے اندر شاید اتنی سادہ نہیں جتنی ہم سمجھتے ہیں۔ اس سنگین مسئلے کے بہت سے پہلو ہیں، جن کی گرہیں کھولنا آسان نہیں۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ مافیا، جو ڈرگس کو بڑی آسانی اور اعتماد کے ساتھ چلا رہا ہے، کن بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہے؟ پیڈلرز جو ڈرگ سپلائی کرتے ہیں، ڈسٹری بیوٹرز جو تقسیم کاری کرتے ہیں، اور اس کے بعد وہ معصوم بچے جو ان کے نشانے پر ہوتے ہیں،ہم ان دو اہم مراحل کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو اصل مجرموں کی فہرست میں شامل ہونے چاہئیں۔
یہ لوگ کس طرح بلا خوف و خطر سماج کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں؟ یہ کوئی ناقابلِ فہم معمّا نہیں، لیکن اس مافیا کا جو ایک تناور درخت بن چکا ہے، اس کی جڑیں کاٹنے میں ہم بری طرح ناکام ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکار یا وہ ادارے جو اس مافیا کے خاتمے کے ذمہ دار ہیں، اس کا حل کہاں تلاش کرتے ہیں؟
جب کسی ریاست میں دہشت گردی یا ملیٹنسی کو ختم کیا جا سکتا ہے تو ایک چھوٹے سے مافیا کو ختم کرنا کیوں ممکن نہیں؟ بہرحال یہ وہ گورکھ دھندے ہیں جو ہم جیسے لوگ پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔
ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ پچھلے پچیس تیس برسوں کے دوران درسگاہوں، کالجوں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم و تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے بجائے یہ عفریت کیسے پروان چڑھ رہا ہے؟ کچھ تو ہے جو اس مافیا کے لئے سہولتیں پیدا کر رہا ہے۔ کون لوگ ہیں جن کی رسائی ان اداروں تک ہے؟ کیا اساتذہ بھی اس میں ذمہ دار ہیں یا وہ خوف کے باعث خاموش ہیں؟
ہماری ایک مکمل نوجوان نسل ماضی قریب میں کھو چکی ہے، اور اب دوسری نسل اس عفریت کی زد میں ہے۔ یہ صورت حال تاریخ کے کئی المیوں سے بھی زیادہ سنگین، اذیت ناک اور المناک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کو تباہ کرنا مقصود ہو تو اسے تلوار سے نہیں بلکہ ایسے راستوں پر ڈال دیا جاتا ہے جہاں وہ خود اپنی تباہی کا سبب بن جائے۔
یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ آئے روز اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوتی ہیں کہ والدین اپنے نوجوان بیٹوں کی لاشیں کھیتوں، باغوں یا سنسان مقامات سے اٹھا کر خاموشی سے دفن کر دیتے ہیں۔ ان کا دکھ ناقابلِ برداشت، ناقابلِ فراموش اور ناقابلِ بیان ہے۔
کئی بار عوامی تنظیموں نے ڈرگ مافیا کی نشاندہی کی اور مساجد، کالجوں اور اسکولوں میں سیمینار بھی منعقد کیے، لیکن مثبت نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وہ خوف ہے جو والدین اور سماجی تنظیمیں اس مافیا سے محسوس کرتی ہیں۔
اگر یہ خوف ختم ہو جائے اور پولیس و دیگر ادارے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، اور نشاندہی کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں، تو اس مافیا کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ اس عفریت کا تدارک سخت سزاؤں، خلوص اور دیانت داری کے ساتھ ہی ممکن ہے، اور تمام پیڈلرز کو،چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں،قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ محکمہ پولیس اپنے ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے ان ڈرگس کے اصل سر چشموں کا پتہ لگائے تاکہ انہیں خشک کیا جا سکے۔ جب یہ سوتے ہی بند ہو جائیں گے تو اس مافیا کو بڑی حد تک قابو کیا جا سکتا ہے۔
بہر حال، یہ مہم پوری قوت کے ساتھ، بغیر کسی توقف کے جاری رہنی چاہیے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

نشہ مکت مہم: امید کی کرن یا تاخیر کا اعتراف؟

رشید پروین
 سوپور، کشمیر 
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ’’منشیات کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ اس کا مطلب منشیات فروشوں اور اس مافیا سے جڑے دوسرے لوگوں کے خلاف پراپرٹی کی ضبطی اور مسماری بھی ہو سکتی ہے یا ہو رہی ہے۔ عوامی سطح پر یقینی طور پر اس کی پذیرائی ہوگی۔ ایکس پر وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ ’’نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لئے مودی حکومت اس مافیا کے خلاف بے رحمی سے خاتمہ کر رہی ہے‘‘۔ عوام بھی چاہتے ہیں کہ ہر مافیا کے خلاف، جو سماج کی صحت مند بنیادوں کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرنے پر تلے ہوں، کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
نشہ مکت ابھیان مرکزی سرکار کی جانب سے شروع ہو چکا ہے۔ اسے ایک احسن قدم قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن اس ضمن میں کئی سوال بھی اٹھتے ہیں کہ اس مہم کو اتنی دیر کے بعد کیوں اچانک شروع کیا گیا ہے؟ تاہم ہم اس سوال پر اپنے خدشات اور تحفظات کو ابھارنے کے بجائے یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق اس کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے سراہا جائے، کیونکہ اربابِ اقتدار ہمیشہ کہیں نہ کہیں کسی اہم اور نازک پہلو کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی خاطر بہت سارے ’’ابھیان‘‘ پنڈورا بکس میں محفوظ رکھتے ہیں۔
ایل جی سنہا نے بھی جموں و کشمیر میں ۱۱ اپریل کو نشہ مکت مہم شروع کی ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ جب تک ہم منشیات کا مسئلہ ختم نہیں کریں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے، یعنی سکھ کی سانس نہیں لیں گے۔ یہ بہت اچھی بات ہے، اور اس کی توضیح میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’میں عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگلے دنوں ہر پنچایت، پولیس اسٹیشن کو منشیات فروشوں سے پاک کیا جائے گا، اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ اس کا دار و مدار نعروں یا ریلیوں پر نہیں، بلکہ اس کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ دیہات اور شہروں کے محلوں سے منشیات کا خاتمہ ہو، اور اس سلسلے میں ہفتہ وار نتائج کو پرکھا جائے گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عوامی تحریک ہے اور محض سرکاری حکم نہیں، جس میں بزرگ، اساتذہ اور سماج کے دوسرے افراد خود آگے بڑھ رہے ہیں۔
اس میں کیا شک ہے کہ جب سرکار اور حکومتیں کسی چیز یا کسی مافیا کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو ایسا ہونا کوئی ناممکن اور مشکل بات نہیں، لیکن اس کے پیچھے عزائم، مقاصد اور اہداف وہی ہوں جو بظاہر عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ بہت دیر ہو چکی ہے، کیونکہ ڈرگ مافیا ایسا نہیں کہ حال ہی میں یا چند برس پہلے وجود میں آیا ہو، بلکہ سرکار نے کئی کمیشن برسوں پہلے بھی بٹھائے تھے۔ پورے بھارت میں ایک سروے کے مطابق عادی ڈرگس لینے والوں کی تعداد ۲۰۲۱ میں ۵ فیصد سے بڑھ کر تیز رفتاری کے ساتھ ۲۰۲۲ تک ۱۴ فیصد تک ہو چکی تھی۔ یہ اعداد و شمار اگر صحیح ہیں تو آپ خود حساب لگا سکتے ہیں کہ یہ آبادی کا کتنا بڑا حصہ ہے۔ اور اگر اس عفریت نے اپنی یہ رفتار قائم رکھی تو آپ یہ بھی جان جائیں گے کہ یہ عظیم ماضی والا ملک مکمل طور پر بھنگیوں اور چرسیوں کی آرام گاہ میں کتنی مدت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف و عطائے اختیار نے پچھلے سال لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں ڈرگس سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔ یہ مرکزی قائمہ کمیٹی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ۲۷ افراد پر مشتمل ہے، اور اس کمیٹی نے محتاط طریقے سے جموں و کشمیر میں ڈرگس پر سروے کے بعد اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے کر پیش کیا ہے۔ اس رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر شاید کرپشن میں جہاں سرفہرست اپنا مقام بنا چکا ہے، اسی طرح منشیات کے استعمال میں بھی اسی مقام پر آ چکا ہے۔
اس سے پہلے کہ ان کے ہوشربا اور لرزہ خیز اعداد و شمار کا ذکر کیا جائے، ہم اپنی طرف سے یہ رائے بھی ظاہر کر سکتے ہیں کہ شاید یہ اعداد و شمار نامکمل ہوں اور اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو، کیونکہ اکثر والدین کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کی اس تباہی اور بربادی کو سماج اور خاندان سے چھپائے رکھیں۔ اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اعداد و شمار یقیناً زیادہ ہوں گے۔
یہ رپورٹ نہ صرف لرزہ خیز ہے بلکہ ہیبتناک اور اسی قدر اذیت ناک بھی ہے۔ مجموعی طور پر اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں ۱۳ لاکھ ۵۰ ہزار ۷۰۰ ڈرگ ایڈکٹس ہیں، جو ۱۸ سال سے لے کر ۷۵ سال کی عمر کے درمیان ہیں، لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد ۱۸ سے ۲۷ سال تک کے نوجوانوں کی ہے، جس میں ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی شامل ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ ۲۰۱۸ میں متوقع آبادی پر مبنی اعداد و شمار ہیں، اور ۲۰۱۸ سے لے کر اب تک زمینی سطح پر اس اناکونڈا نے کتنی بڑی تعداد کو نگل لیا ہوگا، اس کا ہم صرف اندازہ ہی کر سکتے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس عمر کے بچے مڈل اسکولوں، ہائی یا ہائر سیکنڈری اسکولوں میں زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ منشیات کا یہ نیٹ ورک اور مافیا انہی اسکولوں میں سرگرم اور شدت کے ساتھ کام کر رہا ہے، جس کی وجوہات کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔
یہ عمر بچے کی معصومیت اور بے نیازی کی ہوتی ہے، اور اس عمر میں بچوں سے بہت سے کام غیر شعوری طور پر بھی آسانی سے کرائے جا سکتے ہیں۔ انہیں کسی بھی کام کے لئے اکسایا جا سکتا ہے، اور معمولی لالچ دے کر غلط راستوں پر ڈالنا بھی آسان ہوتا ہے۔ بس دوستی ہی کے نام پر کم عمر بچوں سے یہ کام کرائے جاتے ہیں، جو ان کے لئے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
منشیات میں مبتلا بچوں اور بچیوں کی یہ تعداد ہوشربا بھی ہے اور ہمارے پیروں تلے زمین کھسکا دینے کے لئے کافی ہے۔ ڈرگس کی یہ فراوانی اور اسے استعمال کرنے والوں کی یہ تعداد اپنے اندر شاید اتنی سادہ نہیں جتنی ہم سمجھتے ہیں۔ اس سنگین مسئلے کے بہت سے پہلو ہیں، جن کی گرہیں کھولنا آسان نہیں۔
یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ مافیا، جو ڈرگس کو بڑی آسانی اور اعتماد کے ساتھ چلا رہا ہے، کن بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہے؟ پیڈلرز جو ڈرگ سپلائی کرتے ہیں، ڈسٹری بیوٹرز جو تقسیم کاری کرتے ہیں، اور اس کے بعد وہ معصوم بچے جو ان کے نشانے پر ہوتے ہیں،ہم ان دو اہم مراحل کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو اصل مجرموں کی فہرست میں شامل ہونے چاہئیں۔
یہ لوگ کس طرح بلا خوف و خطر سماج کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں؟ یہ کوئی ناقابلِ فہم معمّا نہیں، لیکن اس مافیا کا جو ایک تناور درخت بن چکا ہے، اس کی جڑیں کاٹنے میں ہم بری طرح ناکام ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکار یا وہ ادارے جو اس مافیا کے خاتمے کے ذمہ دار ہیں، اس کا حل کہاں تلاش کرتے ہیں؟
جب کسی ریاست میں دہشت گردی یا ملیٹنسی کو ختم کیا جا سکتا ہے تو ایک چھوٹے سے مافیا کو ختم کرنا کیوں ممکن نہیں؟ بہرحال یہ وہ گورکھ دھندے ہیں جو ہم جیسے لوگ پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔
ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ پچھلے پچیس تیس برسوں کے دوران درسگاہوں، کالجوں، اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم و تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار کے بجائے یہ عفریت کیسے پروان چڑھ رہا ہے؟ کچھ تو ہے جو اس مافیا کے لئے سہولتیں پیدا کر رہا ہے۔ کون لوگ ہیں جن کی رسائی ان اداروں تک ہے؟ کیا اساتذہ بھی اس میں ذمہ دار ہیں یا وہ خوف کے باعث خاموش ہیں؟
ہماری ایک مکمل نوجوان نسل ماضی قریب میں کھو چکی ہے، اور اب دوسری نسل اس عفریت کی زد میں ہے۔ یہ صورت حال تاریخ کے کئی المیوں سے بھی زیادہ سنگین، اذیت ناک اور المناک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی قوم کو تباہ کرنا مقصود ہو تو اسے تلوار سے نہیں بلکہ ایسے راستوں پر ڈال دیا جاتا ہے جہاں وہ خود اپنی تباہی کا سبب بن جائے۔
یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ آئے روز اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہوتی ہیں کہ والدین اپنے نوجوان بیٹوں کی لاشیں کھیتوں، باغوں یا سنسان مقامات سے اٹھا کر خاموشی سے دفن کر دیتے ہیں۔ ان کا دکھ ناقابلِ برداشت، ناقابلِ فراموش اور ناقابلِ بیان ہے۔
کئی بار عوامی تنظیموں نے ڈرگ مافیا کی نشاندہی کی اور مساجد، کالجوں اور اسکولوں میں سیمینار بھی منعقد کیے، لیکن مثبت نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وہ خوف ہے جو والدین اور سماجی تنظیمیں اس مافیا سے محسوس کرتی ہیں۔
اگر یہ خوف ختم ہو جائے اور پولیس و دیگر ادارے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، اور نشاندہی کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں، تو اس مافیا کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔ اس عفریت کا تدارک سخت سزاؤں، خلوص اور دیانت داری کے ساتھ ہی ممکن ہے، اور تمام پیڈلرز کو،چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں،قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ محکمہ پولیس اپنے ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے ان ڈرگس کے اصل سر چشموں کا پتہ لگائے تاکہ انہیں خشک کیا جا سکے۔ جب یہ سوتے ہی بند ہو جائیں گے تو اس مافیا کو بڑی حد تک قابو کیا جا سکتا ہے۔
بہر حال، یہ مہم پوری قوت کے ساتھ، بغیر کسی توقف کے جاری رہنی چاہیے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں