جنگ نیوز
عالمی یومِ صحت کے موقع پر سامنے آنے والے اعداد و شمار نے جموں و کشمیر میں ایک بڑھتے ہوئے خاموش صحت بحران کی نشاندہی کی ہے، جہاں ذیابیطس، کینسر اور دل کے امراض میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق یہ غیر متعدی امراض بڑی حد تک غلط طرزِ زندگی، تمباکو نوشی، ناقص غذائی عادات، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور بعض ماحولیاتی خطرات کا نتیجہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق دل کے امراض خطے میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جبکہ ذیابیطس خصوصاً شہری علاقوں میں تشویشناک حد تک پھیل چکی ہے۔
اسی طرح کینسر کے کیسز میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر کشمیر ڈویژن میں معدہ، بڑی آنت اور دماغی کینسر کے مریضوں کی تعداد ماہرین کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بعض تحقیقات میں کیڑے مار ادویات کے طویل استعمال کو بھی اس اضافے سے جوڑا گیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اسکریننگ، آگاہی مہمات اور طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو یہ صورتحال آئندہ برسوں میں ایک بڑے عوامی صحت بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔


