جنگ نیوز ڈیسک
شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (SKUAST-K) کے سائنسدانوں نے دنیا کے مہنگے ترین جنگلی مشروم گُچھی (مورچیلا) کی کاشت کا کامیاب طریقہ وضع کرکے زرعی تحقیق میں ایک بڑی پیش رفت حاصل کی ہے۔
یہ قیمتی مشروم اپنی مخصوص خوشبو، ذائقے اور طبی خصوصیات کے باعث دنیا بھر میں نہایت مہنگا فروخت ہوتا ہے، تاہم اب تک یہ صرف جنگلاتی علاقوں میں قدرتی طور پر محدود مقدار میں دستیاب تھا۔
یونیورسٹی کے مطابق، یہ کامیابی دو الگ تحقیقی ٹیموں کی کاوشوں سے حاصل ہوئی، جن میں ڈاکٹر طارق اے صوفی اور ان کے پی ایچ ڈی اسکالر کامران منیر نے گرین ہاؤس ماحول میں جبکہ ڈاکٹر وکاس گپتا نے کھلے میدان میں اس کی کامیاب کاشت ممکن بنائی۔
وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے اس کامیابی کو ایک انقلابی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے گُچھی مشروم جنگلاتی انحصار سے نکل کر ایک منافع بخش زرعی پیداوار بن سکے گا، جس سے کسانوں، دیہی نوجوانوں اور جنگلات پر منحصر طبقوں کو روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔
یونیورسٹی اب اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر متعارف کرانے، کسانوں کی تربیت اور عملی مظاہروں کے ذریعے جموں و کشمیر کو گُچھی مشروم کی عالمی پیداوار کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ دینے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔


