سنگین وارننگ پر مبنی CAG کی رپورٹ:ڈل اور وُلر جھیل خطرے

جنگ نیوز ڈیسک

سی اے جی کی تازہ رپورٹ میں ڈل اور وُلر جھیل کی بگڑتی ماحولیاتی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈل جھیل کا کھلا رقبہ 2007 کے15.40 مربع کلومیٹر سے کم ہو کر 2020 میں91.12 مربع کلومیٹر رہ گیا، یعنی 10 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی۔ اس کی بڑی وجوہات تجاوزات، غیر صاف شدہ سیوریج اور انسانی سرگرمیوں میں اضافہ ہیں۔
وہیں وُلر جھیل بھی تجاوزات اور مٹی بھراؤ کے باعث سکڑ رہی ہے، جس سے اس کی سیلابی پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جموں و کشمیر میں 315 آبی ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر شدید متاثر ہیں۔
رپورٹ میں ناقص انتظام، تاخیر کا شکار منصوبوں اور فنڈز کے کم استعمال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، بصورت دیگر خطے میں پانی اور ماحولیاتی مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

سنگین وارننگ پر مبنی CAG کی رپورٹ:ڈل اور وُلر جھیل خطرے

جنگ نیوز ڈیسک

سی اے جی کی تازہ رپورٹ میں ڈل اور وُلر جھیل کی بگڑتی ماحولیاتی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈل جھیل کا کھلا رقبہ 2007 کے15.40 مربع کلومیٹر سے کم ہو کر 2020 میں91.12 مربع کلومیٹر رہ گیا، یعنی 10 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی۔ اس کی بڑی وجوہات تجاوزات، غیر صاف شدہ سیوریج اور انسانی سرگرمیوں میں اضافہ ہیں۔
وہیں وُلر جھیل بھی تجاوزات اور مٹی بھراؤ کے باعث سکڑ رہی ہے، جس سے اس کی سیلابی پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جموں و کشمیر میں 315 آبی ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر شدید متاثر ہیں۔
رپورٹ میں ناقص انتظام، تاخیر کا شکار منصوبوں اور فنڈز کے کم استعمال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، بصورت دیگر خطے میں پانی اور ماحولیاتی مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں