کچہریوں کا چکر

بشیر اؔطہر

میں اس روز گھر میں بیٹھا ایک پُرانا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اس دن اخبار والا لڑکا ابھی تک اخبار لے کر نہیں آیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آخر آج وہ کیوں نہیں آیا۔اسی اثنا میں میری چھوٹی بیٹی شبروزہ چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔
“ابو، چائے…”
“ہاں ہاں، رکھ دو۔”
میں نے پیالی ہاتھ میں لی، دو گھونٹ پیے اور بے اختیار منہ سے نکل پڑا“آہ! یہ دنیا بھی…!”
“کیا ہوا ابو؟” شبروزہ نے چونک کر پوچھا۔
“کچھ نہیں۔”
“نہیں ابو، کچھ تو ہے۔”
میں جواب دینے ہی والا تھا کہ باہر سے آواز آئی“اخبار…!”
شبروزہ لپک کر گئی اور اخبار لے آئی۔میں نے اخبار ایک طرف رکھا اور پوچھا“ندیم کہاں ہے؟ کل رات سے وہ نظر نہیں آ رہاہے۔”
“ابو، وہ کل اپنے دوست بلال کے گھر گیا تھا، ابھی تک واپس نہیں آیا۔”
“کس بلال کے گھر؟”
“صمد کاکا کے!”
میری زمین پاؤں تلے کھسک گئی۔ میں بلال کو جانتا تھا…. بدچلن، آوارہ، اور شریر لڑکا۔ غصہ مجھ پر اس طرح سوار ہوا کہ میں ہوش کھو بیٹھا۔ میں نے شبروزہ کو زور سے ایک تھپڑ رسید کر دیا۔
“مجھے کیوں نہیں بتایا؟”
شبروزہ چیخ مار کر کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ اسی لمحے میری بیگم دوڑتی ہوئی آئیں۔
“کیا ہوا؟ بچی کیوں رو رہی ہے؟”
“ممی، پاپا نے مجھے تھپڑ مارا…”
بیگم کا دل بھر آیا۔ وہ شبروزہ سے بے حد پیار کرتی تھیں۔ ان سے بھی ضبط نہ ہو سکا۔
“آخر اس نے کیا کیا تھا جو آپ نے اس پر ہاتھ اٹھایا؟ یہ تھپڑ اسے نہیں، تجھے مارنا چاہیے تھا!”ندیم کہاں ہے؟ میرا غصہ اور بھڑک اٹھا، مگر میری بیگم نے دھیمی آواز میں بات کاٹ دی….
“ندیم….. ہاں!!! ہے“اوپر، اپنے کمرے میں ہوگا۔”
“اسے فوراً بلاؤ!”
“وہ… وہ گھر پر نہیں ہے۔”
“کہاں ہے؟”
“صمد کاکا کے گھر گیا ہے۔”
انہوں نے تلخ لہجے میں کہا“آپ کے لاڈ پیار نے اسے برباد کر دیا ہے۔ بلال اس کا دوست ہے، اور میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس کے ساتھ نہ جانے دیا کریں۔ اس کے تیور ٹھیک نہیں…”
ابھی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔
“شاید ندیم آ گیا…” بیگم نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھیں۔
مگر باہر سے سخت آواز آئی“دروازہ کھولو!”
“یہ بلال کی آواز نہیں ہے…” بیگم نے چونک کر کہا۔
دروازہ کھلا تو سامنے پولیس انسپکٹر کھڑا تھا۔
“مسٹر رشید کہاں ہے؟”
“ج… جی، کیا ہوا جناب؟”
“اسی سے بات کرنی ہے۔”
وہ میرے کمرے میں آیا۔ میں نے سلام کیا، مگر اس نے جواب دینا بھی گوارا نہ کیا۔
“اچھا، تم ہی مسٹر رشید ہو؟”
اس نے سپاہیوں کو حکم دیا“پورے گھر کی تلاشی لو!”
وہ میرے کمرے میں لاٹھی گھماتا ہوا ٹہل رہا تھا، مجھے یوں گھور رہا تھا جیسے میں مجرم ہوں۔ میرا دل چاہا کہ اس کا گلا دبا دوں، مگر میں اپنے ہی گھر میں بے بس تھا۔
“صاحب، کچھ نہیں ملا۔”سپاہیوں نے کہا۔
انسپکٹر نے میری طرف دیکھا“تمہارا بیٹا اور اس کا دوست… کیا نام ہے؟”
“بلال…”
“کل رات چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں!”
“نہیں جناب! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرا بیٹا…”
“یہ تو ہر باپ کہتا ہے!” اس نے بات کاٹ دی۔اور ہاں!!! تھانے پر آنا وہیں پر بات کریں گے…
میں نے تھانے جا کر اپنے بیٹے سے پوچھا۔کہ کس چیز کی چوری کی ہے؟….
“بابا، میں نے کوئی چوری نہیں کی۔
اور جب دیکھا ان کا دوست بلال ہی سرکاری گواہ ہے!”
میں تذبذب میں تھا کہ کیا کروں۔ تھانے سے باہر نکل رہا تھا کہ ایک سپاہی نے پیچھے سے آواز دی۔
“صاحب!”
“ہاں؟”
وہ آہستہ بولا“آپ کا بیٹا چور نہیں ہے۔ اسے انسپکٹر کی بیٹی سے محبت ہو گئی تھی، اسی لیے اسے اندر کیا گیا ہے۔ مگر صاحب… انسپکٹر کو میرا نام مت بتانا، ورنہ…”
“نہیں، نہیں… میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔”
اسی دن سے میں نے کچہریوں کے چکر لگانا شروع کیے۔کبھی تاریخ، کبھی پیشی، کبھی وکیل، کبھی فیس۔انصاف کہیں نہ ملا۔
بلال نے جھوٹا الزام میرے بیٹے پر تھوپ دیا، اور میرا بیٹا اس جرم کی سزا کاٹتا رہا جو اس نے کیا ہی نہیں تھا۔اسی غم میں میری بیگم دنیا سے رخصت ہو گئیں۔بیٹیوں کی شادیاں ہو گئیں۔
اور میں اکیلا رہ گیا…. عدالتوں کے برآمدوں، فائلوں اور تاریخوں کے درمیان۔
آج برسوں بعد بھی میں روز صبح کچہری کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہوں۔ہاتھ میں ایک پرانی فائل، آنکھوں میں ایک ہی سوال۔
کبھی کبھی لگتا ہے کہ میرا بیٹا جیل میں نہیں،بلکہ میں خود ان کچہریوں میں قید ہوں۔شام کو جب سورج عدالت کی عمارت کے پیچھے ڈوبتا ہے،تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہےجیسے انصاف بھی فائلوں کے نیچے دب کر خاموشی سے مر جاتا ہو۔اور میں…میں اب بھی اسی انتظار میں ہوں کہ شاید کسی دن کسی کمرۂ عدالت میں میرے بیٹے کا نام مجرموں کی فہرست سے
خاموشی سے کاٹ دیا جائے اور انہیں باعزت بھری کیا جائے…

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

کچہریوں کا چکر

بشیر اؔطہر

میں اس روز گھر میں بیٹھا ایک پُرانا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اس دن اخبار والا لڑکا ابھی تک اخبار لے کر نہیں آیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ آخر آج وہ کیوں نہیں آیا۔اسی اثنا میں میری چھوٹی بیٹی شبروزہ چائے لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔
“ابو، چائے…”
“ہاں ہاں، رکھ دو۔”
میں نے پیالی ہاتھ میں لی، دو گھونٹ پیے اور بے اختیار منہ سے نکل پڑا“آہ! یہ دنیا بھی…!”
“کیا ہوا ابو؟” شبروزہ نے چونک کر پوچھا۔
“کچھ نہیں۔”
“نہیں ابو، کچھ تو ہے۔”
میں جواب دینے ہی والا تھا کہ باہر سے آواز آئی“اخبار…!”
شبروزہ لپک کر گئی اور اخبار لے آئی۔میں نے اخبار ایک طرف رکھا اور پوچھا“ندیم کہاں ہے؟ کل رات سے وہ نظر نہیں آ رہاہے۔”
“ابو، وہ کل اپنے دوست بلال کے گھر گیا تھا، ابھی تک واپس نہیں آیا۔”
“کس بلال کے گھر؟”
“صمد کاکا کے!”
میری زمین پاؤں تلے کھسک گئی۔ میں بلال کو جانتا تھا…. بدچلن، آوارہ، اور شریر لڑکا۔ غصہ مجھ پر اس طرح سوار ہوا کہ میں ہوش کھو بیٹھا۔ میں نے شبروزہ کو زور سے ایک تھپڑ رسید کر دیا۔
“مجھے کیوں نہیں بتایا؟”
شبروزہ چیخ مار کر کمرے سے باہر بھاگ گئی۔ اسی لمحے میری بیگم دوڑتی ہوئی آئیں۔
“کیا ہوا؟ بچی کیوں رو رہی ہے؟”
“ممی، پاپا نے مجھے تھپڑ مارا…”
بیگم کا دل بھر آیا۔ وہ شبروزہ سے بے حد پیار کرتی تھیں۔ ان سے بھی ضبط نہ ہو سکا۔
“آخر اس نے کیا کیا تھا جو آپ نے اس پر ہاتھ اٹھایا؟ یہ تھپڑ اسے نہیں، تجھے مارنا چاہیے تھا!”ندیم کہاں ہے؟ میرا غصہ اور بھڑک اٹھا، مگر میری بیگم نے دھیمی آواز میں بات کاٹ دی….
“ندیم….. ہاں!!! ہے“اوپر، اپنے کمرے میں ہوگا۔”
“اسے فوراً بلاؤ!”
“وہ… وہ گھر پر نہیں ہے۔”
“کہاں ہے؟”
“صمد کاکا کے گھر گیا ہے۔”
انہوں نے تلخ لہجے میں کہا“آپ کے لاڈ پیار نے اسے برباد کر دیا ہے۔ بلال اس کا دوست ہے، اور میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس کے ساتھ نہ جانے دیا کریں۔ اس کے تیور ٹھیک نہیں…”
ابھی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔
“شاید ندیم آ گیا…” بیگم نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھیں۔
مگر باہر سے سخت آواز آئی“دروازہ کھولو!”
“یہ بلال کی آواز نہیں ہے…” بیگم نے چونک کر کہا۔
دروازہ کھلا تو سامنے پولیس انسپکٹر کھڑا تھا۔
“مسٹر رشید کہاں ہے؟”
“ج… جی، کیا ہوا جناب؟”
“اسی سے بات کرنی ہے۔”
وہ میرے کمرے میں آیا۔ میں نے سلام کیا، مگر اس نے جواب دینا بھی گوارا نہ کیا۔
“اچھا، تم ہی مسٹر رشید ہو؟”
اس نے سپاہیوں کو حکم دیا“پورے گھر کی تلاشی لو!”
وہ میرے کمرے میں لاٹھی گھماتا ہوا ٹہل رہا تھا، مجھے یوں گھور رہا تھا جیسے میں مجرم ہوں۔ میرا دل چاہا کہ اس کا گلا دبا دوں، مگر میں اپنے ہی گھر میں بے بس تھا۔
“صاحب، کچھ نہیں ملا۔”سپاہیوں نے کہا۔
انسپکٹر نے میری طرف دیکھا“تمہارا بیٹا اور اس کا دوست… کیا نام ہے؟”
“بلال…”
“کل رات چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں!”
“نہیں جناب! آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرا بیٹا…”
“یہ تو ہر باپ کہتا ہے!” اس نے بات کاٹ دی۔اور ہاں!!! تھانے پر آنا وہیں پر بات کریں گے…
میں نے تھانے جا کر اپنے بیٹے سے پوچھا۔کہ کس چیز کی چوری کی ہے؟….
“بابا، میں نے کوئی چوری نہیں کی۔
اور جب دیکھا ان کا دوست بلال ہی سرکاری گواہ ہے!”
میں تذبذب میں تھا کہ کیا کروں۔ تھانے سے باہر نکل رہا تھا کہ ایک سپاہی نے پیچھے سے آواز دی۔
“صاحب!”
“ہاں؟”
وہ آہستہ بولا“آپ کا بیٹا چور نہیں ہے۔ اسے انسپکٹر کی بیٹی سے محبت ہو گئی تھی، اسی لیے اسے اندر کیا گیا ہے۔ مگر صاحب… انسپکٹر کو میرا نام مت بتانا، ورنہ…”
“نہیں، نہیں… میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔”
اسی دن سے میں نے کچہریوں کے چکر لگانا شروع کیے۔کبھی تاریخ، کبھی پیشی، کبھی وکیل، کبھی فیس۔انصاف کہیں نہ ملا۔
بلال نے جھوٹا الزام میرے بیٹے پر تھوپ دیا، اور میرا بیٹا اس جرم کی سزا کاٹتا رہا جو اس نے کیا ہی نہیں تھا۔اسی غم میں میری بیگم دنیا سے رخصت ہو گئیں۔بیٹیوں کی شادیاں ہو گئیں۔
اور میں اکیلا رہ گیا…. عدالتوں کے برآمدوں، فائلوں اور تاریخوں کے درمیان۔
آج برسوں بعد بھی میں روز صبح کچہری کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہوں۔ہاتھ میں ایک پرانی فائل، آنکھوں میں ایک ہی سوال۔
کبھی کبھی لگتا ہے کہ میرا بیٹا جیل میں نہیں،بلکہ میں خود ان کچہریوں میں قید ہوں۔شام کو جب سورج عدالت کی عمارت کے پیچھے ڈوبتا ہے،تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہےجیسے انصاف بھی فائلوں کے نیچے دب کر خاموشی سے مر جاتا ہو۔اور میں…میں اب بھی اسی انتظار میں ہوں کہ شاید کسی دن کسی کمرۂ عدالت میں میرے بیٹے کا نام مجرموں کی فہرست سے
خاموشی سے کاٹ دیا جائے اور انہیں باعزت بھری کیا جائے…

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں