انشا وارثی
فرانکوفون اور جرنلزم اسٹڈیز
جامعہ ملیہ اسلامیہ
ہر سال یونین پبلک سروس کمیشن کے سول سروسز امتحان کے نتائج جدوجہد، استقامت اور امید کی نئی داستانیں رقم کرتے ہیں۔ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی کامیابی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ محنت اور لگن بے شمار رکاوٹوں کو عبور کر سکتی ہے۔ ان کامیابیوں کے درمیان مسلم امیدواروں کی نمایاں کارکردگی ایک خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے جو سماجی و معاشی چیلنجز کے باوجود قومی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کے خواب سے دستبردار نہیں ہوتا۔
بھارت میں سول سروسز محض معزز سرکاری ملازمتوں کا نام نہیں بلکہ یہ نظم و نسق میں شمولیت، عوامی خدمت اور ایسے پالیسی سازی کے مواقع کی علامت ہیں جو کروڑوں افراد کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جب نوجوان مسلمان اس امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنی ذاتی منزل حاصل کرتے ہیں بلکہ پوری نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تعلیم اور عزم وہ دروازے کھول سکتے ہیں جو کبھی ناقابلِ رسائی محسوس ہوتے تھے۔
سول سروسز کی تیاری کا سفر آسان نہیں ہوتا۔ امیدوار برسوں تاریخ، معاشیات، اخلاقیات اور پبلک ایڈمنسٹریشن جیسے مضامین کی گہری تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ اپنی آسائشوں، سماجی مصروفیات بلکہ اکثر مالی استحکام تک کو قربان کر دیتے ہیں۔ ایسے سخت مقابلے میں مسلم امیدواروں کی کامیابی ان کی ثابت قدمی، نظم و ضبط اور تعلیم کی طاقت پر یقین کا واضح اظہار ہے۔
تاہم ان کامیابیوں کا سبق صرف جشن تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ چند افراد کا اعلیٰ سرکاری خدمات میں داخل ہونا قابلِ فخر ہے، لیکن اصل چیلنج وسیع تر معاشی خودمختاری کا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف اعلیٰ عہدوں تک رسائی نہیں بلکہ روزگار کے وسیع مواقع، مہارتوں کی ترقی اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ سے بھی وابستہ ہونا چاہیے۔
ملک کے کئی حصوں میں مسلم معاشرہ بے روزگاری اور محدود معاشی مواقع کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ صورتحال صرف سرکاری ملازمتوں یا نمایاں عہدوں کے انتظار سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔ حقیقی بااختیاری کے لئے ایسی ثقافت کی ضرورت ہے جہاں ہر جائز پیشہ باوقار سمجھا جائے، خواہ وہ سرکاری افسر ہو یا ٹیکنیشن، مکینک، ڈرائیور، بڑھئی یا کسی فیکٹری کا ماہر کارکن۔
اسلام بھی محنت اور خود انحصاری کی بھرپور تاکید کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اس ضمن میں روشن مثال پیش کرتی ہے۔ نبوت سے قبل آپ ﷺ تجارت سے وابستہ رہے اور اپنی دیانت و امانت کے باعث معروف ہوئے۔ یہ طرزِ حیات اس بات کی دلیل ہے کہ حلال ذریعۂ معاش عزت کا باعث ہے اور معاشی خودمختاری فرد اور معاشرے دونوں کو مضبوط بناتی ہے۔ ایک معروف حدیث میں آتا ہے کہ انسان نے اس سے بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا جو اس نے اپنے ہاتھوں کی محنت سے کمایا ہو۔ یہ پیغام نہایت سادہ مگر گہرا ہے کہ اصل عزت دیانت دار محنت میں ہے، نہ کہ محض سماجی حیثیت میں۔
تعلیم کو صرف دفتری یا سفید پوش پیشوں تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ تعلیم کا مفہوم مہارت، نظم، تنقیدی سوچ اور حالات کو بہتر بنانے کی صلاحیت بھی ہے۔ ایک انجینئر اگر بطور ہنرمند ٹیکنیشن کام کرتا ہے تو وہ بھی معاشرے میں بامعنی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح کوئی گریجویٹ اگر چھوٹا کاروبار شروع کرے یا کسی فنی ہنر میں مہارت حاصل کرے تو وہ بھی معاشی بنیاد کو مضبوط بنا رہا ہوتا ہے۔
کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی عنصر معاشی شرکت ہے۔ جب خاندانوں کی آمدنی مستحکم ہوتی ہے تو بچوں کی تعلیم بہتر ہوتی ہے، صحت کے حالات سدھرتے ہیں اور سماجی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ روزگار استحصال، مایوسی اور سماجی حاشیہ نشینی کے خطرات کو بھی کم کرتا ہے۔
اسی لئے سول سروسز میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کو دو متوازی راستوں کی ترغیب بننا چاہیے۔ پہلا راستہ تعلیمی برتری کا ہے، جہاں نوجوانوں کو سول سروسز، قانون، طب، تحقیق اور ٹیکنالوجی جیسے میدانوں میں اعلیٰ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ فیصلہ سازی کے مراکز میں اپنی نمائندگی قائم کر سکیں۔
دوسرا راستہ مہارت پر مبنی بااختیاری کا ہے۔ فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور محنت کش شعبوں کو باوقار اور ناگزیر سمجھ کر اپنانا ضروری ہے۔ حکومتیں اور تعلیمی ادارے پہلے ہی مہارتوں کے فروغ کے لئے مختلف پروگرام چلا رہے ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلامی تعلیمات اس متوازن نقطۂ نظر کی مکمل تائید کرتی ہیں۔ قرآن مجید بار بار علم، غور و فکر اور تدبر کی تلقین کرتا ہے۔ پہلی وحی "اقرأ” علم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ اسلامی روایت عمل اور پیداواریت کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ محض علم، اگر عمل میں نہ ڈھلے، تو معاشرے کے لئے سودمند ثابت نہیں ہوتا۔ تعلیم کو خدمت، روزگار اور فلاحِ عامہ سے جڑنا چاہیے۔
نئی نسل کے لئے پیغام نہایت واضح ہے: علم حاصل کرو، دیانت دار محنت کو اختیار کرو اور اخلاص کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرو۔ جب تعلیم روزگار میں ڈھلتی ہے اور روزگار بااختیاری کا ذریعہ بنتا ہے تو ایک قوم اعتماد اور وقار حاصل کرتی ہے۔ مزید برآں جب وقار کے ساتھ ایمان، صبر اور محنت شامل ہو جائیں تو اجتماعی ترقی کی راہ خود بخود روشن ہو جاتی ہے۔
ززز


