افواہوں سے گریز کی اپیل:LPG سپلائی مکمل طور پر محفوظ، عالمی رکاوٹوں کے باوجود نظام مستحکم

جنگ فیچر

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق پھیلنے والی خبروں کے درمیان وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں گھریلو کھانا پکانے والی گیس کی سپلائی مکمل طور پر محفوظ اور بلا تعطل جاری ہے۔ وزارت کے مطابق موجودہ چیلنجز کی اصل وجہ بین الاقوامی شپنگ روٹس میں عارضی رکاوٹیں ہیں، جبکہ ملک کے اندر پیداوار یا ترسیلی نظام میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس وقت ہندوستان میں 33 کروڑ سے زائد گھریلو ایل پی جی کنکشن فعال ہیں، جو تقریباً ہر گھر تک رسائی رکھتے ہیں۔ اس وسیع نیٹ ورک کو پچھلی دہائی میں پردھان منتری اجولا یوجنا جیسی اسکیموں کے تحت مضبوط بنایا گیا ہے۔ ملک میں 210 ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹس مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جن کی مجموعی پیداوار 22.4 ملین میٹرک ٹن سالانہ ہے۔
عالمی دباؤ کے پیش نظر حکومت نے ریفائنریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ گھریلو پیداوار میں اضافہ کریں، جس کے نتیجے میں ایل پی جی پیداوار میں 25 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اضافی درآمدات کو بھی تیز کیا گیا ہے تاکہ سپلائی چین پر کسی قسم کا دباؤ نہ پڑے۔
حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے ضروری اشیاء ایکٹ کا نفاذ بھی کیا ہے۔ دو ہندوستانی پرچم بردار ایل پی جی بردار جہاز 92,700 ٹن گیس لے کر بندرگاہوں کی جانب روانہ ہیں، جن کی آمد سے سپلائی میں مزید بہتری آئے گی۔ اس وقت ملک میں 15 سے 18 دن کا بفر اسٹاک موجود ہے، جو کسی بھی عارضی بحران سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔
حکام کے مطابق کچھ علاقوں میں نظر آنے والی قطاریں دراصل عوام کی احتیاطی بکنگ کا نتیجہ ہیں، نہ کہ حقیقی قلت کا۔ وزارت نے واضح کیا کہ ہوٹلوں اور کمرشل صارفین کے لیے علیحدہ انتظامات ہیں، جبکہ گھریلو صارفین کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔
وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف ضرورت کے مطابق سلنڈر بک کریں اور سرکاری ایپس کے ذریعے اپنی بکنگ اور سپلائی کی نگرانی کریں۔ ساتھ ہی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں سے گریز کریں کیونکہ ایل پی جی کا نظام مضبوط، مستحکم اور مکمل طور پر فعال ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

افواہوں سے گریز کی اپیل:LPG سپلائی مکمل طور پر محفوظ، عالمی رکاوٹوں کے باوجود نظام مستحکم

جنگ فیچر

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق پھیلنے والی خبروں کے درمیان وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں گھریلو کھانا پکانے والی گیس کی سپلائی مکمل طور پر محفوظ اور بلا تعطل جاری ہے۔ وزارت کے مطابق موجودہ چیلنجز کی اصل وجہ بین الاقوامی شپنگ روٹس میں عارضی رکاوٹیں ہیں، جبکہ ملک کے اندر پیداوار یا ترسیلی نظام میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔
حکام نے بتایا کہ اس وقت ہندوستان میں 33 کروڑ سے زائد گھریلو ایل پی جی کنکشن فعال ہیں، جو تقریباً ہر گھر تک رسائی رکھتے ہیں۔ اس وسیع نیٹ ورک کو پچھلی دہائی میں پردھان منتری اجولا یوجنا جیسی اسکیموں کے تحت مضبوط بنایا گیا ہے۔ ملک میں 210 ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹس مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جن کی مجموعی پیداوار 22.4 ملین میٹرک ٹن سالانہ ہے۔
عالمی دباؤ کے پیش نظر حکومت نے ریفائنریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ گھریلو پیداوار میں اضافہ کریں، جس کے نتیجے میں ایل پی جی پیداوار میں 25 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اضافی درآمدات کو بھی تیز کیا گیا ہے تاکہ سپلائی چین پر کسی قسم کا دباؤ نہ پڑے۔
حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے ضروری اشیاء ایکٹ کا نفاذ بھی کیا ہے۔ دو ہندوستانی پرچم بردار ایل پی جی بردار جہاز 92,700 ٹن گیس لے کر بندرگاہوں کی جانب روانہ ہیں، جن کی آمد سے سپلائی میں مزید بہتری آئے گی۔ اس وقت ملک میں 15 سے 18 دن کا بفر اسٹاک موجود ہے، جو کسی بھی عارضی بحران سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔
حکام کے مطابق کچھ علاقوں میں نظر آنے والی قطاریں دراصل عوام کی احتیاطی بکنگ کا نتیجہ ہیں، نہ کہ حقیقی قلت کا۔ وزارت نے واضح کیا کہ ہوٹلوں اور کمرشل صارفین کے لیے علیحدہ انتظامات ہیں، جبکہ گھریلو صارفین کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔
وزارت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف ضرورت کے مطابق سلنڈر بک کریں اور سرکاری ایپس کے ذریعے اپنی بکنگ اور سپلائی کی نگرانی کریں۔ ساتھ ہی شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں سے گریز کریں کیونکہ ایل پی جی کا نظام مضبوط، مستحکم اور مکمل طور پر فعال ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں