جنگ نیوز
جموں و کشمیر میں سرکاری ڈگری کالج شدید داخلہ بحران کا شکار ہیں، جہاں کئی اداروں میں طلبہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو کالجوں میں ایک بھی طالب علم داخل نہیں، جبکہ 5 کالجوں میں 20 سے کم اور 8 کالجوں میں 30 سے کم طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسی طرح 14 کالجوں میں 50 سے کم اور 24 کالجوں میں 100 سے کم طلبہ موجود ہیں، جبکہ 13 کالجوں میں داخلہ 100 سے 300 کے درمیان ہے۔
گورنمنٹ ڈگری کالج باغی دلاور خان اور چٹہ سنگھ پورہ میں داخلے نہ ہونے کے باعث انہیں بالترتیب گورنمنٹ ڈگری کالج اننت ناگ اور ایس پی کالج سرینگر کے تحت رکھا گیا ہے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ کئی کالجوں میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے، جیسے ایم اے روڈ سرینگر کالج آف ایجوکیشن میں صرف 14 طلبہ، جبکہ دیگر اداروں میں بھی تعداد 10 سے 30 کے درمیان رہی۔
حکومت کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر 143 ڈگری کالج فعال ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں داخلوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے تدارک کے لئے مرکزی داخلہ پورٹل اور نئے مضامین متعارف کرانے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کے بعد تعلیمی سال26-2025میں داخلوں میں بہتری آئی ہے، خاص طور پر ضلع اننت ناگ میں تقریباً 8.11فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اہم نکات
• 2 کالجوں میں ایک بھی طالب علم داخل نہیں
• 5 کالجوں میں 20 سے کم طلبہ
• 8 کالجوں میں 30 سے کم طلبہ
• 14 کالجوں میں 50 سے کم طلبہ
• 24 کالجوں میں 100 سے کم طلبہ
• 13 کالجوں میں 100 سے 300 طلبہ کے درمیان داخلہ
• باغی دلاور خان اور چٹہ سنگھ پورہ کالج مکمل طور پر خالی، دیگر اداروں کے تحت چل رہے ہیں
• کئی کالجوں میں داخلہ 10 سے 30 طلبہ کے درمیان ریکارڈ کیا گیا
• مجموعی طور پر 143 سرکاری کالج فعال ہیں


