پلوامہ اینٹی کرپشن عدالت کادہائیوں پرانے جعلی ٹیچر تقرری کیس میں فیصلہ

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ پلوامہ کی اینٹی کرپشن عدالت نے منگل کے روز ایک دہائیوں پرانے جعلی سرکاری ٹیچر تقرری کیس میں پانچ افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں قید اور جرمانے کی سزائیں سنائیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اینٹی کرپشن کورٹ پلوامہ کے معزز خصوصی جج ڈاکٹر نور محمد میر نے ایک اہم فیصلے میں غلام محمد شیخ، بشیر احمد شاہ، سید شوقین اندرابی، محمد اشرف خان اور حمیدہ اختر کو مجرم قرار دیا۔ یہ کیس "ریاست جموں و کشمیر (اب یو ٹی) بذریعہ پی ایس وی او کے (اب اے سی بی) بنام اسد اللہ لون و دیگر”کے عنوان سے درج تھا۔
بیان کے مطابق ملزمان کو جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعات 5(2) معہ 5(1)(d) اور تعزیراتِ ہند کی دفعات 468، 471 اور 120-بی کے تحت قصوروار پایا گیا۔ ان پر ضلع پلوامہ کے گورنمنٹ ہائی اسکول گوری پورہ میں حمیدہ اختر کی جعلی تقرری میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہوا۔
ترجمان نے بتایا کہ 15 ستمبر 1998 کو پی ایس وی او کے (موجودہ اے سی بی) کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ حمیدہ اختر غیر قانونی طور پر بطور ٹیچر کام کر رہی  ہیں۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ جعلی تقرری دیگر ملزمان کی ملی بھگت سے ممکن ہوئی۔
اطلاع ملنے کے بعد ایف آئی آر نمبر 110/1998 درج کی گئی اور تفصیلی تحقیقات کے بعد 14 اکتوبر 2000 کو چارج شیٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد 31 مارچ 2026 کو عدالت نے فیصلہ سنایا۔
عدالت نے ملزمان کو انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت پانچ سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک سال قید بھگتنا ہوگی۔ اسی طرح جعلسازی اور سازش کے جرائم میں بھی پانچ سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دھوکہ دہی کے جرم میں تین سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ عوامی خدمات میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے اینٹی کرپشن بیورو کی مسلسل کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

کشمیر کےعاقب نبی نے بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا لی

محمد عمر بٹ جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر کے لئے...

جموں کشمیر میں پانچ برس کے دوران 5908 چھوٹی کمپنیاں، 585 LLPs اور 1231 اسٹارٹ اپس رجسٹر

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور نے لوک...

کشمیر انٹرنیشنل فلم فیسٹول کیلئے زائد اَز 50 ممالک سے 1100فلموں کی انٹریاں موصول

جنگ نیوز سری نگر/ ڈائریکٹر اِنفارمیشن شریا سنگھل نے آج...

تازہ ترین خبریں

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

کشمیر کےعاقب نبی نے بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا لی

محمد عمر بٹ جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر کے لئے...

جموں کشمیر میں پانچ برس کے دوران 5908 چھوٹی کمپنیاں، 585 LLPs اور 1231 اسٹارٹ اپس رجسٹر

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور نے لوک...

کشمیر انٹرنیشنل فلم فیسٹول کیلئے زائد اَز 50 ممالک سے 1100فلموں کی انٹریاں موصول

جنگ نیوز سری نگر/ ڈائریکٹر اِنفارمیشن شریا سنگھل نے آج...

پلوامہ اینٹی کرپشن عدالت کادہائیوں پرانے جعلی ٹیچر تقرری کیس میں فیصلہ

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ پلوامہ کی اینٹی کرپشن عدالت نے منگل کے روز ایک دہائیوں پرانے جعلی سرکاری ٹیچر تقرری کیس میں پانچ افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں قید اور جرمانے کی سزائیں سنائیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اینٹی کرپشن کورٹ پلوامہ کے معزز خصوصی جج ڈاکٹر نور محمد میر نے ایک اہم فیصلے میں غلام محمد شیخ، بشیر احمد شاہ، سید شوقین اندرابی، محمد اشرف خان اور حمیدہ اختر کو مجرم قرار دیا۔ یہ کیس "ریاست جموں و کشمیر (اب یو ٹی) بذریعہ پی ایس وی او کے (اب اے سی بی) بنام اسد اللہ لون و دیگر”کے عنوان سے درج تھا۔
بیان کے مطابق ملزمان کو جموں و کشمیر انسداد بدعنوانی ایکٹ کی دفعات 5(2) معہ 5(1)(d) اور تعزیراتِ ہند کی دفعات 468، 471 اور 120-بی کے تحت قصوروار پایا گیا۔ ان پر ضلع پلوامہ کے گورنمنٹ ہائی اسکول گوری پورہ میں حمیدہ اختر کی جعلی تقرری میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہوا۔
ترجمان نے بتایا کہ 15 ستمبر 1998 کو پی ایس وی او کے (موجودہ اے سی بی) کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ حمیدہ اختر غیر قانونی طور پر بطور ٹیچر کام کر رہی  ہیں۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ جعلی تقرری دیگر ملزمان کی ملی بھگت سے ممکن ہوئی۔
اطلاع ملنے کے بعد ایف آئی آر نمبر 110/1998 درج کی گئی اور تفصیلی تحقیقات کے بعد 14 اکتوبر 2000 کو چارج شیٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد 31 مارچ 2026 کو عدالت نے فیصلہ سنایا۔
عدالت نے ملزمان کو انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت پانچ سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک سال قید بھگتنا ہوگی۔ اسی طرح جعلسازی اور سازش کے جرائم میں بھی پانچ سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دھوکہ دہی کے جرم میں تین سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ عوامی خدمات میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے اینٹی کرپشن بیورو کی مسلسل کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں