جنگ نیوز+ کے این ٹی
سرینگر/ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی حالیہ آڈٹ رپورٹس میں جموں و کشمیر میں 100 کروڑ روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں اور سنجیدہ انتظامی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے مالی نظم و ضبط اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
آڈٹ کے مطابق 104.51کروڑ روپے مشکوک وصولیوں،6.88کروڑ روپے قابلِ اجتناب سود اور65.2کروڑ روپے غیر استعمال شدہ فنڈز کی صورت میں سامنے آئے، جبکہ فنڈز کے بروقت استعمال میں ناکامی نے ترقیاتی اخراجات کو غیر مؤثر بنا دیا اور منصوبہ بندی کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا کہ متعدد محکمے آڈٹ اعتراضات پر عملدرآمد، بروقت جوابات اور ایکشن ٹیکن رپورٹس جمع کرانے میں ناکام رہے، جس کے باعث احتسابی نظام کمزور پڑ گیا اور بے ضابطگیوں کے تسلسل کو تقویت ملی۔
آڈٹ مشاہدات کے مطابق موثر نگرانی اور فالو اپ کے فقدان نے نہ صرف اصلاحی اقدامات کو محدود کیا بلکہ حکمرانی کی شفافیت پر بھی منفی اثر ڈالا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی مسلسل کوتاہیاں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اہداف کی تکمیل میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔
سیلابی بحالی اور دیہی ترقیاتی اسکیموں میں بغیر منظوری منصوبوں کے نفاذ، ناقص نگرانی اور کمزور عملدرآمد کی نشاندہی کی گئی، جس سے متاثرہ آبادی تک امداد اور وسائل کی مؤثر ترسیل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
رپورٹ کے تناظر میں توقع کی جا رہی ہے کہ حکام مالیاتی نظم و نسق، نگرانی کے نظام اور احتسابی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں گے تاکہ عوامی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے اور ترقیاتی عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔


