غلط اندازہ، الجھتی حکمت عملی

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ مؤخر کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جنگ اس کی توقعات کے مطابق نہیں چل رہی۔ ابتدائی دعوؤں کے برعکس کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نےایران کی دفاعی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، تہران مسلسل جوابی کارروائیاں کر رہا ہے اور میدانِ عمل میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ہر حملے کے جواب میں ایران نے مؤثر ردِعمل دیا۔ امریکی یا اتحادی اہداف پر حملوں کے بعد خطے میں امریکی اڈے اور توانائی کے مراکز نشانہ بنے۔ اس حکمتِ عملی نے واضح کر دیا کہ ایران محض دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ فعال مزاحمت کر رہا ہے۔
اس کشمکش کا مرکز Strait of Hormuz ہے، جو اب بھی ایران کے اثر میں ہے۔ اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول برقرار رکھ کر ایران نے نہ صرف عالمی معیشت پر دباؤ بڑھایا بلکہ امریکہ کی حکمتِ عملی کو بھی محدود کر دیا۔
ٹرمپ کا 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم اور اس کے بعد پسپائی دراصل اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ طاقت کے باوجود امریکہ اس جنگ کی سمت طے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بغیر واضح حکمتِ عملی کے شروع کی جانے والی جنگیں اکثر طویل اور پیچیدہ بحران میں بدل جاتی ہیں۔
یہ صورتحال عالمی معیشت کے لئے بھی شدید خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ Strait of Hormuz کی بندش یا عدم استحکام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی اقتصادی نظام کو ہلا کر رکھ سکتا ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں معیشتوں پر یکساں پڑتے ہیں۔
دوسری جانب، یہ تنازع امریکہ کے لئے ایک سیاسی آزمائش بھی بنتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے لئے اس جنگ سے باعزت واپسی ایک مشکل مرحلہ بن چکی ہے، کیونکہ نہ مکمل فتح حاصل ہو سکی ہے اور نہ ہی پسپائی آسان ہے۔ ایسے میں سفارتی راستے کی تلاش ہی واحد قابلِ عمل حل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ طویل جنگ نہ صرف خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کرے گی بلکہ عالمی امن کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا کرے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

غلط اندازہ، الجھتی حکمت عملی

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ مؤخر کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جنگ اس کی توقعات کے مطابق نہیں چل رہی۔ ابتدائی دعوؤں کے برعکس کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نےایران کی دفاعی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، تہران مسلسل جوابی کارروائیاں کر رہا ہے اور میدانِ عمل میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ہر حملے کے جواب میں ایران نے مؤثر ردِعمل دیا۔ امریکی یا اتحادی اہداف پر حملوں کے بعد خطے میں امریکی اڈے اور توانائی کے مراکز نشانہ بنے۔ اس حکمتِ عملی نے واضح کر دیا کہ ایران محض دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ فعال مزاحمت کر رہا ہے۔
اس کشمکش کا مرکز Strait of Hormuz ہے، جو اب بھی ایران کے اثر میں ہے۔ اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول برقرار رکھ کر ایران نے نہ صرف عالمی معیشت پر دباؤ بڑھایا بلکہ امریکہ کی حکمتِ عملی کو بھی محدود کر دیا۔
ٹرمپ کا 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم اور اس کے بعد پسپائی دراصل اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ طاقت کے باوجود امریکہ اس جنگ کی سمت طے کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بغیر واضح حکمتِ عملی کے شروع کی جانے والی جنگیں اکثر طویل اور پیچیدہ بحران میں بدل جاتی ہیں۔
یہ صورتحال عالمی معیشت کے لئے بھی شدید خطرات کا باعث بن رہی ہے۔ خلیجی خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ Strait of Hormuz کی بندش یا عدم استحکام نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی اقتصادی نظام کو ہلا کر رکھ سکتا ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں معیشتوں پر یکساں پڑتے ہیں۔
دوسری جانب، یہ تنازع امریکہ کے لئے ایک سیاسی آزمائش بھی بنتا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کے لئے اس جنگ سے باعزت واپسی ایک مشکل مرحلہ بن چکی ہے، کیونکہ نہ مکمل فتح حاصل ہو سکی ہے اور نہ ہی پسپائی آسان ہے۔ ایسے میں سفارتی راستے کی تلاش ہی واحد قابلِ عمل حل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ طویل جنگ نہ صرف خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کرے گی بلکہ عالمی امن کے لئے بھی سنگین خطرات پیدا کرے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں