واشنگٹن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ نئے مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے یہ فیصلہ اسلامی جمہوریہ (ایران) پر حملے روکنے کے بعد کیا ہے تاکہ چھٹے مہینے میں داخل ہونے والی اس جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
ٹرمپ نے اتوار کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ‘ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی شامل ہوگا جو کہ عالمی توانائی کی سپلائی کا ایک اہم ترین راستہ ہے اور اس تنازع میں ایک بڑا رکاوٹ بنا ہوا ہے—اور بالآخر اس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنا ہے۔’
دوسری جانب، ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے ایک نئے راستے کے سلسلے میں عمان کے ساتھ معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ واضح رہے کہ اتوار کو اسی علاقے میں ایک آئل ٹینکر کے قریب دھماکے کی اطلاع ملی تھی، جو اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کی مسلسل غیر یقینی صورت حال کو ظاہر کرتی ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ کی جانب سے نئے مذاکرات کے اعلان کے بعد پیر کو ایشیائی مارکیٹ کے آغاز پر تیل کی قیمتیں گر گئیں، جس سے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 4.7 فیصد کمی کے ساتھ 80.72 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
واضح رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں کے بعد سے جنگ جاری ہے، اگرچہ مہینوں پر محیط اتار چڑھاؤ والی سفارت کاری کے باعث بیچ میں نسبتاً پرسکون دورانیے بھی آئے۔گذشتہ ماہ حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد، یہ خدشات بڑھ گئے تھے کہ لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتی ہے۔ اس دوران ٹرمپ نے ایران پر "انتہائی سخت” وار کرنے کی دھمکی دی اور مبینہ طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر شہری ڈھانچوں پر نئے حملوں پر غور کر رہے تھے، جس کے بعد خطے بھر میں امریکی سفارت خانے ہائی الرٹ پر تھے۔ تاہم، سنیچر کے روز ٹرمپ اس دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ ایک معاہدے کی "حدود اور خدوخال” موجود ہیں۔


