ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی

ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں ایک اور صنف قصیدہ کی شکل میں ملتی ہے۔ اس کے وہی اجزائے ترکیبی ہیں: (1) تشبیب، (2) گریز، (3) مدح، اور (4) دعا، جیسے موجودہ دور میں قصیدہ گو شعرا اپنی قصیدہ گوئی میں بیان کرتے ہیں۔

مثلاً تشبیب میں قصیدے کا پہلا شعر مطلع ہوتا ہے، پھر شاعر اپنے کمالِ فن کے ساتھ عاشقانہ اور دلبرانہ مضامین شامل کرتا ہے۔ گریز میں شاعر کسی مناسبت یا تقریب سے ممدوح کا ذکر چھیڑتا ہے۔ مدح میں شاعر ممدوح کے اوصاف اور تعریف پہلے غائبانہ انداز میں بیان کرتا ہے، پھر براہِ راست ممدوح کو مخاطب کرکے اس کی تعریف کرتا ہے۔ دعا میں مدح کے بعد شاعر اپنے ذاتی خیالات، اغراض و مطالب بیان کرتا ہے، پھر ممدوح یا اس کے دوستوں کے لیے دعا دے کر قصیدہ ختم کر دیتا ہے، اور اس کے دشمنوں کے لیے بددعا بھی شامل ہوتی ہے۔
بہرحال، جس دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم میں دعوتِ اسلام کا آغاز فرمایا، اس دور میں اہلِ عرب کی زبان دانی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی پسندیدہ اشیاء کے ہزاروں نام رکھ دیتے تھے۔ گھوڑے، اونٹ، شیر اور تلوار کے لیے ہزاروں نہیں بلکہ لاتعداد الفاظ استعمال میں لاتے تھے۔ الغرض، کسی بھی شے کو اس کی ادا، صفت یا کیفیت کے اعتبار سے نیا نام دے دیتے تھے۔ گھوڑے کے لیے آئے روز نئے نئے نام رکھتے تھے، کیونکہ گھوڑا ان کی محبوب شے سمجھی جاتی تھی۔ قرآنِ حکیم میں بھی گھوڑوں کی صفات بیان کی گئی ہیں (سورۂ العادیات، آیات 1 تا 5)۔

شعر و شاعری کے ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ سالانہ مقابلے منعقد ہوا کرتے تھے۔ شاعری کے ان مقابلوں میں سال کے سب سے بڑے شاعر کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ شعراء اپنے اپنے قصیدے لکھ کر لاتے، پھر مقابلہ ہوتا اور فیصلہ کیا جاتا کہ کس کا قصیدہ سب پر بازی لے گیا۔ اس کے بعد تمام شعراء اس کی عظمت کے اعتراف میں اسے سجدہ کرتے تھے۔ پھر وہ قصیدہ خانۂ کعبہ کی دیوار پر لٹکا دیا جاتا تھا کہ یہ اس سال کا بہترین قصیدہ ہے۔
اسی طرح کے سات قصیدے خانۂ کعبہ میں آویزاں کیے گئے تھے، جنہیں سبعۃ المعلقات کہا جاتا تھا۔ سبعۃ المعلقات کے آخری شاعر حضرت لبید رضی اللہ عنہ تھے، جو ایمان لے آئے۔ اس کے بعد انہوں نے شعر کہنا چھوڑ دیا۔
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: "اے لبید رضی اللہ عنہ! اب آپ شعر کیوں نہیں کہتے؟” تو جواب میں انہوں نے بڑا پیارا اور دلکش جملہ کہا: "أبعد القرآن؟” یعنی "کیا قرآن کے نزول کے بعد بھی؟” کیا اب کسی کے لیے کچھ کہنے کا موقع باقی ہے؟ یعنی قرآن کے آجانے کے بعد کیا کوئی اپنی فصاحت و بلاغت کے اظہار کی کوشش کر سکتا ہے؟ گویا زبانیں بند ہو گئیں اور ملک الشعراء نے شعر کہنا چھوڑ دیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات...

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیراصول یا دوہرا معیار؟

  مسعود محبوب خان دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس...

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

تازہ ترین خبریں

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات...

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیراصول یا دوہرا معیار؟

  مسعود محبوب خان دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس...

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی

ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں ایک اور صنف قصیدہ کی شکل میں ملتی ہے۔ اس کے وہی اجزائے ترکیبی ہیں: (1) تشبیب، (2) گریز، (3) مدح، اور (4) دعا، جیسے موجودہ دور میں قصیدہ گو شعرا اپنی قصیدہ گوئی میں بیان کرتے ہیں۔

مثلاً تشبیب میں قصیدے کا پہلا شعر مطلع ہوتا ہے، پھر شاعر اپنے کمالِ فن کے ساتھ عاشقانہ اور دلبرانہ مضامین شامل کرتا ہے۔ گریز میں شاعر کسی مناسبت یا تقریب سے ممدوح کا ذکر چھیڑتا ہے۔ مدح میں شاعر ممدوح کے اوصاف اور تعریف پہلے غائبانہ انداز میں بیان کرتا ہے، پھر براہِ راست ممدوح کو مخاطب کرکے اس کی تعریف کرتا ہے۔ دعا میں مدح کے بعد شاعر اپنے ذاتی خیالات، اغراض و مطالب بیان کرتا ہے، پھر ممدوح یا اس کے دوستوں کے لیے دعا دے کر قصیدہ ختم کر دیتا ہے، اور اس کے دشمنوں کے لیے بددعا بھی شامل ہوتی ہے۔
بہرحال، جس دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم میں دعوتِ اسلام کا آغاز فرمایا، اس دور میں اہلِ عرب کی زبان دانی کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی پسندیدہ اشیاء کے ہزاروں نام رکھ دیتے تھے۔ گھوڑے، اونٹ، شیر اور تلوار کے لیے ہزاروں نہیں بلکہ لاتعداد الفاظ استعمال میں لاتے تھے۔ الغرض، کسی بھی شے کو اس کی ادا، صفت یا کیفیت کے اعتبار سے نیا نام دے دیتے تھے۔ گھوڑے کے لیے آئے روز نئے نئے نام رکھتے تھے، کیونکہ گھوڑا ان کی محبوب شے سمجھی جاتی تھی۔ قرآنِ حکیم میں بھی گھوڑوں کی صفات بیان کی گئی ہیں (سورۂ العادیات، آیات 1 تا 5)۔

شعر و شاعری کے ذوق و شوق کا یہ عالم تھا کہ سالانہ مقابلے منعقد ہوا کرتے تھے۔ شاعری کے ان مقابلوں میں سال کے سب سے بڑے شاعر کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ شعراء اپنے اپنے قصیدے لکھ کر لاتے، پھر مقابلہ ہوتا اور فیصلہ کیا جاتا کہ کس کا قصیدہ سب پر بازی لے گیا۔ اس کے بعد تمام شعراء اس کی عظمت کے اعتراف میں اسے سجدہ کرتے تھے۔ پھر وہ قصیدہ خانۂ کعبہ کی دیوار پر لٹکا دیا جاتا تھا کہ یہ اس سال کا بہترین قصیدہ ہے۔
اسی طرح کے سات قصیدے خانۂ کعبہ میں آویزاں کیے گئے تھے، جنہیں سبعۃ المعلقات کہا جاتا تھا۔ سبعۃ المعلقات کے آخری شاعر حضرت لبید رضی اللہ عنہ تھے، جو ایمان لے آئے۔ اس کے بعد انہوں نے شعر کہنا چھوڑ دیا۔
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: "اے لبید رضی اللہ عنہ! اب آپ شعر کیوں نہیں کہتے؟” تو جواب میں انہوں نے بڑا پیارا اور دلکش جملہ کہا: "أبعد القرآن؟” یعنی "کیا قرآن کے نزول کے بعد بھی؟” کیا اب کسی کے لیے کچھ کہنے کا موقع باقی ہے؟ یعنی قرآن کے آجانے کے بعد کیا کوئی اپنی فصاحت و بلاغت کے اظہار کی کوشش کر سکتا ہے؟ گویا زبانیں بند ہو گئیں اور ملک الشعراء نے شعر کہنا چھوڑ دیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں