ایران اور کشمیر کا تقابلی منظر

جنگ کسی بھی قوم کے لیے صرف ہتھیاروں کا نہیں بلکہ اخلاق، شعور اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی امتحان ہوتی ہے۔ آج جب ایران شدید کشیدگی اور جنگی حالات سے گزر رہا ہے، وہاں سے آنے والی بعض رپورٹس ایک حیران کن مگر سبق آموز تصویر پیش کرتی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں وہی ہیں جو جنگ سے پہلے تھیں، بازاروں میں اشیائے ضروریہ دستیاب ہیں، اور دکاندار عوام کو ادھار پر سامان فراہم کر رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی افراتفری جنم نہ لے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ مشکل وقت میں ایک قوم کس طرح اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتی ہے۔
اس کے برعکس کشمیر میںجہاں کسی فوری قلت کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا، عوام کے ایک بڑے طبقے کا رویہ تشویشناک دکھائی دیتا ہے۔ گیس سلنڈروں کا غیر ضروری ذخیرہ، پیٹرول پمپوں پر طویل قطاریں، اور خوف و خدشات کے تحت ضرورت سے زیادہ خریداری ایک ایسی نفسیات کی عکاسی کرتی ہے جو بحران سے زیادہ خود پیدا کردہ بے یقینی کا نتیجہ ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ بحران کے وقت ہمارا اجتماعی کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا ہمیں افواہوں اور اندیشوں کے زیر اثر اپنی ضروریات سے بڑھ کر وسائل سمیٹ لینے چاہئیں، یا پھر ہمیں ایک ذمہ دار معاشرے کی طرح اعتدال، صبر اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟ ایران کی مثال، چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، کم از کم ایک اخلاقی معیار ضرور قائم کرتی ہے جس سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ذخیرہ اندوزی وقتی اطمینان تو دے سکتی ہے، مگر یہ اجتماعی سطح پر بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، باہمی اعتماد، صبر اور ایثار وہ اقدار ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مشکل حالات سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کے عوام اپنے رویوں پر غور کریں اور یہ طے کریں کہ وہ ایک ذمہ دار، باوقار اور باشعور معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا خوف اور خود غرضی کے اس دائرے میں قید رہنا چاہتے ہیں جو ہر بحران کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو آزمائش کے وقت اپنے کردار سے سرخرو ہوتی ہیں۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

ایران اور کشمیر کا تقابلی منظر

جنگ کسی بھی قوم کے لیے صرف ہتھیاروں کا نہیں بلکہ اخلاق، شعور اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی امتحان ہوتی ہے۔ آج جب ایران شدید کشیدگی اور جنگی حالات سے گزر رہا ہے، وہاں سے آنے والی بعض رپورٹس ایک حیران کن مگر سبق آموز تصویر پیش کرتی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں وہی ہیں جو جنگ سے پہلے تھیں، بازاروں میں اشیائے ضروریہ دستیاب ہیں، اور دکاندار عوام کو ادھار پر سامان فراہم کر رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی افراتفری جنم نہ لے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ مشکل وقت میں ایک قوم کس طرح اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیتی ہے۔
اس کے برعکس کشمیر میںجہاں کسی فوری قلت کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا، عوام کے ایک بڑے طبقے کا رویہ تشویشناک دکھائی دیتا ہے۔ گیس سلنڈروں کا غیر ضروری ذخیرہ، پیٹرول پمپوں پر طویل قطاریں، اور خوف و خدشات کے تحت ضرورت سے زیادہ خریداری ایک ایسی نفسیات کی عکاسی کرتی ہے جو بحران سے زیادہ خود پیدا کردہ بے یقینی کا نتیجہ ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ بحران کے وقت ہمارا اجتماعی کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا ہمیں افواہوں اور اندیشوں کے زیر اثر اپنی ضروریات سے بڑھ کر وسائل سمیٹ لینے چاہئیں، یا پھر ہمیں ایک ذمہ دار معاشرے کی طرح اعتدال، صبر اور باہمی تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے؟ ایران کی مثال، چاہے مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، کم از کم ایک اخلاقی معیار ضرور قائم کرتی ہے جس سے ہم سیکھ سکتے ہیں۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ذخیرہ اندوزی وقتی اطمینان تو دے سکتی ہے، مگر یہ اجتماعی سطح پر بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، باہمی اعتماد، صبر اور ایثار وہ اقدار ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مشکل حالات سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیر کے عوام اپنے رویوں پر غور کریں اور یہ طے کریں کہ وہ ایک ذمہ دار، باوقار اور باشعور معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں یا خوف اور خود غرضی کے اس دائرے میں قید رہنا چاہتے ہیں جو ہر بحران کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو آزمائش کے وقت اپنے کردار سے سرخرو ہوتی ہیں۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں