سرینگر اپنی قدرتی خوبصورتی، جھیلوں اور باغات کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، لیکن اس شہر کی ایک تلخ حقیقت آچھن لینڈ فل سائٹ بھی ہے، جہاں سے اٹھنے والا تعفن، آلودگی اور زہریلی گیسیں برسوں سے شہریوں کی زندگی اور ماحول کو متاثر کر رہی ہیں۔ موسم گرما میں یہ بدبو شہر کے مختلف علاقوں تک پھیل جاتی ہے، جو صرف ایک ناخوشگوار کیفیت نہیں بلکہ ناقص فضلہ انتظام کی واضح علامت ہے۔نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے سامنے یہ معاملہ دوبارہ اٹھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ وقتی نہیں بلکہ مستقل نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
اگر واقعی سرینگر میونسپل کارپوریشن سائنسی بنیادوں پر کچرے کے انتظام کے اپنے دعوؤں پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ شہریوں کے صاف ماحول اور صحت کے حق سے انحراف ہے۔
ایک جدید شہر کی پہچان صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ اس کے فضلہ انتظام کے نظام سے بھی ہوتی ہے۔ جب کچرا علیحدہ نہ کیا جائے، ری سائیکلنگ محدود ہو اور لینڈ فل ہی واحد حل بن جائے تو تعفن، آلودگی اور بیماری ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ آچھن آج اسی ناکام حکمتِ عملی کی علامت بن چکا ہے۔یہ مسئلہ سیاسی بیانات یا کاغذی منصوبوں سے حل نہیں ہوگا۔
ضرورت شفاف جوابدہی، جدید ویسٹ مینجمنٹ، سائنسی لینڈ فل، ری سائیکلنگ اور شہری شعور کو یکجا کرنے کی ہے۔ این جی ٹی کی مداخلت کو محض قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ انتباہ سمجھنا چاہیے۔سرینگر کے شہری صاف فضا، صحت مند ماحول اور باوقار زندگی کے مستحق ہیں۔ اگر آج بھی آچھن کے بحران کو نظر انداز کیا گیا تو آنے والے برسوں میں اس کی قیمت صرف ماحول نہیں بلکہ عوامی صحت اور شہر کی شناخت کو بھی چکانی پڑے گی۔


