جنگ نیوز
جموں و کشمیر کے تین ممتاز ادیبوں کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے، جس سے خطے کی ادبی صلاحیتوں کو قومی سطح پر ایک بار پھر سراہا گیا ہے۔
ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں خجور سنگھ ٹھاکر (کٹھوعہ) کو ان کی ڈوگری شاعری اور دوہوں کے مجموعے “ٹھاکر ستسئی” پر، پریت پال سنگھ بیتاب (پونچھ) کو اردو شعری مجموعہ “سفر جاری ہے” پر، جبکہ علی شائدا (اننت ناگ) کو کشمیری شاعری “نجدوانکٕی پوت آلاو” پر یہ اعزاز دیا گیا۔
مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھی ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات نے خطے کی لسانی تنوع اور ادبی ورثے کو فروغ دیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ان ادیبوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ڈوگری، کشمیری اور اردو زبان و ادب کی خدمت کا اعتراف ہے
خجور سنگھ ٹھاکر نے ڈوگرہ ثقافت اور ادب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جبکہ علی شائدا کی شاعری کشمیری ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جانب پریت پال سنگھ بیتاب اردو ادب کے ممتاز شاعر ہیں جن کے کئی شعری مجموعے ادبی حلقوں میں مقبول رہے ہیں۔
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے تحت اعزاز یافتگان کو ایک کندہ شدہ تمغہ، شال اور ایک لاکھ روپے نقد انعام دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ تقریب 31 مارچ 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوگی۔
ہر سال ساہتیہ اکادمی کی جانب سے 24 زبانوں میں نمایاں ادبی تخلیقات پر یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے، جس کے لیے باقاعدہ انتخابی عمل کے تحت نامزدگیاں طلب کی جاتی ہیں۔


