لوک سبھا نے 11 مارچ کو آئین کے آرٹیکل 94(سی) کے تحت اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کی اپوزیشن کی قرارداد کو آواز کے ووٹ سے مسترد کر دیا، لیکن اس بحث نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو مزید نمایاں کر دیا۔ اصولی طور پر پارلیمنٹ نمائندہ جمہوریت کی بنیاد ہے، جہاں حکومت کو جواب دہ بنانے اور قومی مسائل پر منظم بحث کی روایت قائم رہنی چاہیے۔
تاہم حالیہ برسوں میں ایک جماعت کی بالادستی اور شدید سیاسی قطبیت کے باعث پارلیمانی روایات کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ لوک سبھا، جو مکالمے اور جمہوری مباحثے کا مرکز ہونی چاہیے، اکثر سیاسی کشمکش کا میدان بن جاتی ہے۔ اس صورت حال میں اسپیکر اور چیئرمین جیسے عہدے بھی سیاسی تنازعات میں گھسیٹے جا رہے ہیں۔
2024 میں راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کو ہٹانے کی اپوزیشن کی قرارداد بھی اسی تناؤ کی ایک مثال تھی۔ اگرچہ وہ قرارداد کامیاب نہ ہوئی، مگر اس کے بعد ان کا اچانک استعفیٰ مزید سوالات کو جنم دے گیا۔
موجودہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسپیکر نے یہ بیان دیا کہ انہیں خفیہ اطلاع ہے کہ کانگریس کی خواتین ارکان پارلیمنٹ ایوان میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کوئی اقدام کر سکتی ہیں۔ اپوزیشن نے اسے اسپیکر کی غیر جانبداری پر سوال کے طور پر دیکھا۔
حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی نظام صرف آئینی قواعد سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، تحمل اور غیر جانبداری کی روایت سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر یہ اصول کمزور پڑ جائیں تو پارلیمنٹ کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں پارلیمانی اداروں کے احترام کو مقدم رکھیں اور اسپیکر جیسے آئینی عہدوں کی غیر جانبداری کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ یہی جمہوری نظام کے استحکام کی ضمانت ہے۔
پارلیمانی غیر جانبداری کا امتحان
پارلیمانی غیر جانبداری کا امتحان
لوک سبھا نے 11 مارچ کو آئین کے آرٹیکل 94(سی) کے تحت اسپیکر اوم برلا کو عہدے سے ہٹانے کی اپوزیشن کی قرارداد کو آواز کے ووٹ سے مسترد کر دیا، لیکن اس بحث نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو مزید نمایاں کر دیا۔ اصولی طور پر پارلیمنٹ نمائندہ جمہوریت کی بنیاد ہے، جہاں حکومت کو جواب دہ بنانے اور قومی مسائل پر منظم بحث کی روایت قائم رہنی چاہیے۔
تاہم حالیہ برسوں میں ایک جماعت کی بالادستی اور شدید سیاسی قطبیت کے باعث پارلیمانی روایات کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔ لوک سبھا، جو مکالمے اور جمہوری مباحثے کا مرکز ہونی چاہیے، اکثر سیاسی کشمکش کا میدان بن جاتی ہے۔ اس صورت حال میں اسپیکر اور چیئرمین جیسے عہدے بھی سیاسی تنازعات میں گھسیٹے جا رہے ہیں۔
2024 میں راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ کو ہٹانے کی اپوزیشن کی قرارداد بھی اسی تناؤ کی ایک مثال تھی۔ اگرچہ وہ قرارداد کامیاب نہ ہوئی، مگر اس کے بعد ان کا اچانک استعفیٰ مزید سوالات کو جنم دے گیا۔
موجودہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسپیکر نے یہ بیان دیا کہ انہیں خفیہ اطلاع ہے کہ کانگریس کی خواتین ارکان پارلیمنٹ ایوان میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کوئی اقدام کر سکتی ہیں۔ اپوزیشن نے اسے اسپیکر کی غیر جانبداری پر سوال کے طور پر دیکھا۔
حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی نظام صرف آئینی قواعد سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، تحمل اور غیر جانبداری کی روایت سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر یہ اصول کمزور پڑ جائیں تو پارلیمنٹ کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں پارلیمانی اداروں کے احترام کو مقدم رکھیں اور اسپیکر جیسے آئینی عہدوں کی غیر جانبداری کو ہر حال میں برقرار رکھا جائے۔ یہی جمہوری نظام کے استحکام کی ضمانت ہے۔


