رشید پروین
سوپور، کشمیر
سامنے حدِ نگاہ تک گھاس کے میدان ہیں، پیچھے ہرا بھرا، گھنا اور بلند و بالا جنگل ہے جس میں تناور دیودار آسمان کی طرف سر اٹھائے اللہ کی وحدانیت کو یاد دلاتے ہیں۔ اس جنگل میں کائرو، بدلو اور دوسرے اقسام کے درخت بھی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان فضاؤں میں سوندھی سوندھی سی خوشبو بسی رہتی ہے اور ہم ان خوشبوؤں سے بچپن ہی سے مانوس ہو جاتے ہیں۔
جنگل کے دامن میں ایک چھوٹی سی صاف و شفاف ندی ہے جو نغمے گاتی، اٹھلاتی اور کسی الھڑ دوشیزہ کی طرح لہراتی ہوئی نامعلوم منزلوں کی جانب رواں دواں ہے۔ جنگل کے دامن میں ہی میرا یہ چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں اب پچیس چھوٹے چھوٹے کوٹھے ہیں، کیونکہ پچھلے سال ہی صمد الدین کے دو بیٹے اور محمد الدین کے تین بیٹے اپنے باپ سے الگ ہوئے تھے اور انہوں نے بھی اپنے اپنے کوٹھے بنا لیے تھے۔ اس طرح ان ناہنجار اولاد کی وجہ سے تعداد پچیس ہو گئی، نہیں تو میں نے بچپن سے یہاں بیس ہی کوٹھے پائے تھے۔
میرے والد صاحب بھی ان وسیع و عریض گھاس کے میدانوں میں دوسرے گاؤں والوں کی طرح بھیڑ بکریاں پالا کرتے تھے اور ان کے بعد اب یہ کام میں ہی سنبھال رہا ہوں۔ لیکن میں اپنے والدین کا نافرمان بیٹا نہیں تھا۔ میں نے جو بھی مجھ سے ہو سکا والدین کی خدمت کی اور میری ماں آخری لمحے تک مجھے دعائیں دیتی رہی۔
قصبوں کے قصائی تو ہر مہینے آ کر یہاں سے مال خریدتے ہیں، لیکن شہروں سے بھی کئی کوٹھے دار عیدوں کے مواقع پر خود اپنے ملازموں کے ساتھ آ کر بھیڑ بکریوں کے ریوڑ خرید کر لے جاتے ہیں۔ پچھلے برس میرے مال میں کافی برکت ہوئی اور امسال بھی میں نے کافی پیسے کمائے۔
میری ہانڈی لبالب بھر گئی تو میں ایک گھڑے میں نوٹ ڈالتا رہا۔ پچھلے مہینے یہ گھڑا بھی لبالب بھر گیا اور اب اس گھڑے میں مزید نوٹ ٹھونسے نہیں جا سکتے تھے۔ پھر یہ پریشانی بھی تھی کہ نوٹوں کو ہر ہفتے دھوپ میں بھی رکھنا پڑتا تھا اور دوسری پریشانی یہ کہ کہیں دور قصبے یا شہر سے کوئی چور اچکا بھی آ گیا تو سارا کچھ آسانی سے لوٹ کر لے جائے گا۔
میری پریشانی بڑھتی گئی۔ راتوں کی نیندیں بھی حرام ہو گئیں۔ بیوی پریشان اور میں کئی ہفتوں سے اپنی بانسری بجانا بھی بھول گیا، جسے سننے کے لیے سارا گاؤں میرے صحن میں جمع ہو جایا کرتا تھا۔ اس لیے گاؤں میں یہ باتیں بھی ہونے لگیں کہ غل الدین کو کوئی روگ لگ گیا ہے اور بوڑھے مجھے ہسپتال لے جانے کا مشورہ بھی دینے لگے تھے۔
سیانے لوگوں کا خیال تھا کہ مجھ پر کسی نے جادو ٹونا کیا ہے، لیکن میں اپنی کیفیت جانتا تھا اور سمجھتا تھا کہ مجھے اپنی جمع پونجی نے بے قرار اور اضطراب میں مبتلا کیا ہے۔ میں اب اپنے رشتہ داروں سے بھی دور دور رہنے لگا تھا، تنہا اور اداس۔ صرف اپنے گھڑے اور ہانڈی کو دن میں کئی بار دیکھنے اوپر جاتا، جہاں چھت کے نیچے میں نے انہیں چھپا رکھا تھا۔ بیوی سے بھی تاکید کی تھی کہ کبھی میری غیر موجودگی میں باہر نہ آیا کرے۔
اسی دوران شہر سے کمال صاحب آ گئے۔ یہ صاحب میرے باپ سے بھی مال خریدا کرتے تھے اور آج بھی پہلے میرے پاس آ کر میرے ہی مال کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ میری بکریوں کے غول سے انتخاب کے بعد لین دین کی بات ہوئی اور میرے دل میں چھپا ہوا سوال لبوں تک آ ہی گیا۔
میں نے کہا:
“میں نے سنا ہے کہ آپ لوگ کسی بڑی عمارت میں اپنا روپیہ پیسہ جمع رکھتے ہیں، کیا نام ہے اس کا؟ کچھ ایسا…”
“ارے گل الدین، تم بینک کی بات کرتے ہو؟ ہاں، سبھی لین دین تو بینک سے ہی چلتا ہے۔ کوئی پیسہ ہم نہ تو گھر میں رکھتے ہیں اور نہ ساتھ لیے پھرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔”
کمال صاحب نے میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی کہا۔
“کیوں بے گلا، پیسہ جمع ہوا ہے؟ آ جانا شہر میں، تمہارا اکاؤنٹ کھلوا دوں گا۔”
کمال کوٹھے دار نے ہنس کر کہا۔
“نہیں نہیں، بس یوں ہی پوچھا تھا۔ دراصل میں نے کہیں سے ایسا کچھ سنا تھا۔”
میں نے جلدی سے صفائی دیتے ہوئے کہا۔
اسی رات جب بچے سو گئے تو میں نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا۔ وہ بھی میری ہی طرح پریشان تھی، اس لیے فوراً اس بات پر اتفاق ہوا کہ میں شہر کی طرف روانہ ہو جاؤں اور کمال کوٹھیدار کے ساتھ جا کر اکاؤنٹ کھلوا لوں۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ اتنے سارے پیسے کیسے لے جاؤں؟
میری بیوی اگرچہ میرے ہی قبیلے کی تھی لیکن پھر بھی پانچ جماعتیں پاس کر چکی تھی۔ اس نے بڑا اچھا مشورہ دیا کہ ایک بڑے تھیلے کے اندر سارے نوٹ ٹھونس ٹھونس کر بھرے جائیں اور نوٹوں کے اوپر ساگ سبزی ڈال دی جائے تاکہ دیکھنے والے سمجھیں کہ سبزی کا تھیلا ہے۔
اس طرح ایک روز پو پھٹنے سے پہلے ہی میں نے شہر کی طرف اپنا سفر شروع کیا۔ یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ میں کسی سواری پر نہ بیٹھوں، بس جو بھی ہو پیدل ہی شہر پہنچنا ہے۔
میری شام ایک بڑے سے گاؤں میں ہوئی اور رات کے اندھیرے گہرے ہوئے تو میں ایک ایسی جگہ تھا جہاں دور دور تک مجھے آبادی کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔ بس وحشت زدہ سی آوازیں ہر طرف سناٹوں میں گونج رہی تھیں۔ میرے دائیں بائیں درختوں کے جھنڈ تھے اور دور کہیں ان ویران فضاؤں میں کبھی کبھی کتے کے بھونکنے کی آوازیں مجھے خوف میں مبتلا کر رہی تھیں۔
اب آگے مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں ایک درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ جیب سے ماچس نکالی۔ ابھی جلانے ہی لگا تھا کہ اچانک عجیب سی روشنی درخت کے پاس پھیلنے لگی اور اس سبز سی روشنی کا دائرہ تقریباً چار گز تک پھیل کر رک گیا۔
میں ڈر اور خوف سے کانپنے لگا۔ بے اختیار بھاگنے ہی والا تھا کہ کسی ٹھنڈے ہاتھ نے میری کلائی پکڑ لی۔ میں نے محسوس کیا جیسے مجھے ہتھکڑی لگا دی گئی ہو۔
میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو صم بکم رہ گیا، کیونکہ میرے سامنے ایک نورانی چہرہ تھا، سر تا پا سفید کپڑوں میں ملبوس، اور روشنی درخت سے نہیں بلکہ اس نورانی چہرے سے منعکس ہو رہی تھی۔
“مجھ سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے گل الدین۔ میں اللہ کا فرشتہ ہوں اور تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچاؤں گا۔”
نورانی بزرگ کے لہجے میں ایسا اثر تھا کہ میری تھرتھری فوراً رک گئی اور مجھ میں عجیب سی ہمت آ گئی۔
میں نے پوچھا:
“اے اللہ کے فرشتے، آپ یہاں کیا کر رہے ہیں اور کیوں آئے ہیں؟”
فرشتہ بولا:
“گل الدین، تم نے اپنے ماں باپ کی جو خدمت کی ہے وہ اللہ کو پسند آئی ہے۔ اس کے بدلے میں تمہارے لیے جنت میں بہت سے مکانات اور باغات تیار ہیں۔ مجھے حکم ہوا ہے کہ آج تمہیں ان باغات اور مکانات کی سیر کراؤں تاکہ تم دنیا میں اور زیادہ نیکی اور عبادت کی طرف مائل ہو جاؤ۔ کیونکہ آخر ہر شخص کو ساری دنیا چھوڑ کر خالی ہاتھ ہی وہاں جانا ہے۔”
آہ… جنت!
میں فوراً فرشتے کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گیا۔
“چلو اے اللہ کے نیک بندے، لیکن یہ جو تمہارے ہاتھ میں تھیلا ہے اسے یہیں چھوڑ جاؤ، کیونکہ جنت میں ان دنیاوی چیزوں کا کوئی مول نہیں۔”
مجھے اچانک یاد آیا کہ مجھے بینک پہنچنا ہے۔
میں نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا اور چیخ کر بولا:
“نہیں! نہیں! مجھے اس وقت فرصت نہیں۔ اے اللہ کے فرشتے، مجھے بینک پہنچنا ہے اور یہ سارا روپیہ وہاں جمع کرنا ہے۔ مجھے معاف کریں!”
فرشتہ بولا:
“اے نادان آدم زاد! تم نہیں سمجھتے جنت کیا چیز ہے؟ دنیا محض چند دنوں کی چاندنی ہے۔ کیوں اس تھیلے کے لیے جنت کے نظارے سے محروم ہو رہے ہو؟”
میں فوراً فرشتے کے قدموں پر گر کر گڑگڑانے لگا:
“اے اللہ کے فرشتے، مجھے جانے دو… خدا کے لیے مجھے جانے دو… مجھے بینک پہنچنا ہے اور ابھی مجھے جنت کے نظارے کی فرصت نہیں۔”
اچانک روشنی غائب ہو گئی۔
گھپ اندھیرے میں میں نے اپنی تھیلی سینے سے لگا کر اندھا دھند شہر کی طرف دوڑنا شروع کیا تاکہ جلد از جلد بینک پہنچ سکوں۔


