کسی نے سوشل میڈیا پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر اعلان ہو جائے کہ کل قیامت آنے والی ہے تو کشمیر میں سب سے پہلے لوگ پٹرول پمپوں کی طرف دوڑیں گے تاکہ گاڑیوں کے ٹینک بھر سکیں۔ بظاہر یہ ایک مذاق ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طنز میں ہمارے اجتماعی رویّے کی ایک تلخ حقیقت بھی پوشیدہ ہے۔
کشمیر میں یہ ایک عام منظر بن چکا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بڑا واقعہ پیش آئے، کوئی جنگ چھڑ جائے یا کسی بحران کی خبر گردش کرنے لگے تو یہاں فوراً پٹرول پمپوں اور گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس وقت بھی جب ایران اور صہیونی قوتوں کے درمیان جاری کشیدگی کی خبریں پھیلیں، وادی میں ایک غیر ضروری گھبراہٹ دیکھنے کو ملی۔ اچانک پٹرول پمپوں پر رش بڑھ گیا اور گیس سلنڈروں کی مانگ غیر معمولی طور پر بڑھنے لگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عمل کی ابتدا اکثر چند افراد سے ہوتی ہے۔ کوئی شخص کسی افواہ یا خدشے کی بنیاد پر پٹرول پمپ پر گاڑی کا ٹینک بھرنے پہنچتا ہے۔ وہاں موجود لوگ یہ منظر دیکھتے ہیں اور فوراً اسے ایک ممکنہ بحران کی علامت سمجھ لیتے ہیں۔ پھر وہی شخص اپنے گھر والوں، دوستوں اور ساتھیوں کو فون کر کے خبردار کرتا ہے۔ چند گھنٹوں کے اندر اندر افواہ ایک سماجی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔
اس کے بعد جو منظر سامنے آتا ہے وہ کسی فلمی منظر سے کم نہیں ہوتا۔ ہر مسافر قریبی پٹرول پمپ کی طرف دوڑتا ہے، گیس ایجنسیوں کے باہر قطاریں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگ گاڑیوں کے ٹینک ہی نہیں بلکہ کینوں اور بالٹیوں تک میں پٹرول بھرنے لگتے ہیں۔ جن گھروں میں پہلے سے چار پانچ گیس سلنڈر موجود ہوتے ہیں وہ بھی مزید ذخیرہ کرنے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تو محض تجسس کے لئے ، یہاں تک کہ سائیکل والے بھی، پٹرول پمپوں کا رخ کر لیتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر پٹرول پمپ اور گیس ایجنسیاں خالی نظر آنے لگتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں پٹرول ڈپو اور گیس کے ذخائر اپنی جگہ بھرے ہوتے ہیں۔ یعنی کمی دراصل وسائل کی نہیں بلکہ اعتماد کی ہوتی ہے۔
لوگوں کے ذہن میں یہ اندیشہ بیٹھ گیا ہے کہ کسی بھی لمحے حالات بگڑ سکتے ہیں اور رسد کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لئے لوگ پہلے سے ذخیرہ کرنے کو ہی عقل مندی سمجھتے ہیں۔ آخرکار ایک مہذب اور باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جو خوف کے بجائے عقل اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کرے۔ اگر ہم ہر افواہ کو حقیقت سمجھ کر قطاروں میں کھڑے ہو جائیں گے تو بحران خود ہم ہی پیدا کریں گے۔ بصورت دیگر شاید وہ طنز، جو سوشل میڈیا پر مذاق کے طور پر لکھا گیا تھا، ہماری اجتماعی نفسیات کی مستقل پہچان بن جائے گا۔
پٹرول پمپ اور کشمیر کی مہذب عوام
پٹرول پمپ اور کشمیر کی مہذب عوام
کسی نے سوشل میڈیا پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر اعلان ہو جائے کہ کل قیامت آنے والی ہے تو کشمیر میں سب سے پہلے لوگ پٹرول پمپوں کی طرف دوڑیں گے تاکہ گاڑیوں کے ٹینک بھر سکیں۔ بظاہر یہ ایک مذاق ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طنز میں ہمارے اجتماعی رویّے کی ایک تلخ حقیقت بھی پوشیدہ ہے۔
کشمیر میں یہ ایک عام منظر بن چکا ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بڑا واقعہ پیش آئے، کوئی جنگ چھڑ جائے یا کسی بحران کی خبر گردش کرنے لگے تو یہاں فوراً پٹرول پمپوں اور گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس وقت بھی جب ایران اور صہیونی قوتوں کے درمیان جاری کشیدگی کی خبریں پھیلیں، وادی میں ایک غیر ضروری گھبراہٹ دیکھنے کو ملی۔ اچانک پٹرول پمپوں پر رش بڑھ گیا اور گیس سلنڈروں کی مانگ غیر معمولی طور پر بڑھنے لگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عمل کی ابتدا اکثر چند افراد سے ہوتی ہے۔ کوئی شخص کسی افواہ یا خدشے کی بنیاد پر پٹرول پمپ پر گاڑی کا ٹینک بھرنے پہنچتا ہے۔ وہاں موجود لوگ یہ منظر دیکھتے ہیں اور فوراً اسے ایک ممکنہ بحران کی علامت سمجھ لیتے ہیں۔ پھر وہی شخص اپنے گھر والوں، دوستوں اور ساتھیوں کو فون کر کے خبردار کرتا ہے۔ چند گھنٹوں کے اندر اندر افواہ ایک سماجی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے۔
اس کے بعد جو منظر سامنے آتا ہے وہ کسی فلمی منظر سے کم نہیں ہوتا۔ ہر مسافر قریبی پٹرول پمپ کی طرف دوڑتا ہے، گیس ایجنسیوں کے باہر قطاریں لگ جاتی ہیں۔ بعض لوگ گاڑیوں کے ٹینک ہی نہیں بلکہ کینوں اور بالٹیوں تک میں پٹرول بھرنے لگتے ہیں۔ جن گھروں میں پہلے سے چار پانچ گیس سلنڈر موجود ہوتے ہیں وہ بھی مزید ذخیرہ کرنے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ تو محض تجسس کے لئے ، یہاں تک کہ سائیکل والے بھی، پٹرول پمپوں کا رخ کر لیتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر پٹرول پمپ اور گیس ایجنسیاں خالی نظر آنے لگتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں پٹرول ڈپو اور گیس کے ذخائر اپنی جگہ بھرے ہوتے ہیں۔ یعنی کمی دراصل وسائل کی نہیں بلکہ اعتماد کی ہوتی ہے۔
لوگوں کے ذہن میں یہ اندیشہ بیٹھ گیا ہے کہ کسی بھی لمحے حالات بگڑ سکتے ہیں اور رسد کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لئے لوگ پہلے سے ذخیرہ کرنے کو ہی عقل مندی سمجھتے ہیں۔ آخرکار ایک مہذب اور باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جو خوف کے بجائے عقل اور ذمہ داری کے ساتھ فیصلے کرے۔ اگر ہم ہر افواہ کو حقیقت سمجھ کر قطاروں میں کھڑے ہو جائیں گے تو بحران خود ہم ہی پیدا کریں گے۔ بصورت دیگر شاید وہ طنز، جو سوشل میڈیا پر مذاق کے طور پر لکھا گیا تھا، ہماری اجتماعی نفسیات کی مستقل پہچان بن جائے گا۔


