توانائی کی سلامتی حکومت کا امتحان

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر ہندوستان کی توانائی کی سلامتی اور حکومتی پالیسی کی تیاری کو سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ چونکہ ہندوستان اپنی تیل کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے، اس لئے عالمی سپلائی میں کسی بھی خلل کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کا اثر ہندوستان جیسے ممالک پر فوری طور پر محسوس ہوتا ہے۔
حکومت نے گزشتہ برسوں میں تیل پر انحصار کم کرنے کے لئے ایتھنول اور بایو فیول جیسے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم معیشت کی تیز رفتار ترقی کے باعث تیل کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، اس لئے یہ اقدامات فی الحال محدود اہمیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کو اپنی توانائی کی حکمت عملی کو زیادہ مضبوط اور طویل مدتی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔
حالیہ بحران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ روس سے تیل کی سپلائی ہندوستان کے لئے کتنی اہم ہے۔ ماضی میں ایران اور وینزویلا کے تیل پر پابندیوں کے معاملے میں بھی ہندوستان نے امریکی دباؤ کو قبول کیا تھا۔ اب عالمی حالات بدلنے کے بعد روسی تیل کی ضرورت دوبارہ نمایاں ہو گئی ہے۔ اس طرح کی غیر مستقل پالیسی سے نہ صرف سفارتی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ توانائی کی منڈی میں ہندوستان کی سودے بازی کی قوت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔
اندرونِ ملک حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود فی الحال ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔ یہ فیصلہ عوامی دباؤ کے پیش نظر اہم ضرور ہے، مگر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب عالمی قیمتیں کم تھیں تو صارفین کو اس کا پورا فائدہ کیوں نہیں ملا۔
پردھان منتری اجولا یوجنا کے ذریعے گھریلو سطح پر ایل پی جی کی فراہمی میں اضافہ ایک قابلِ ذکر قدم ہے، لیکن طلب میں اس تیزی سے اضافے کے ساتھ سپلائی اور ذخائر کی بہتر منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث بعض شعبوں کو قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سب سے بڑی کمزوری حکومتی رابطہ کاری میں نظر آئی۔ غیر رسمی بریفنگ اور محدود بیانات کے باعث ایندھن کی دستیابی کے بارے میں غیر ضروری خدشات پھیل گئے۔ ایسے وقت میں شفاف اور بروقت معلومات دینا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حالیہ بین الوزارتی پریس کانفرنس بھی تاخیر سے ہوئی اور اس میں سوالات لینے سے گریز کیا گیا۔
موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہندوستان اپنی توانائی کی پالیسی کو زیادہ مستقل، متوازن اور شفاف بنائے۔ توانائی کی سلامتی صرف درآمدات کا مسئلہ نہیں بلکہ مضبوط حکمت عملی، سفارتی توازن اور مؤثر عوامی رابطے کا تقاضا بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

کشمیر کےعاقب نبی نے بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا لی

محمد عمر بٹ جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر کے لئے...

جموں کشمیر میں پانچ برس کے دوران 5908 چھوٹی کمپنیاں، 585 LLPs اور 1231 اسٹارٹ اپس رجسٹر

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور نے لوک...

کشمیر انٹرنیشنل فلم فیسٹول کیلئے زائد اَز 50 ممالک سے 1100فلموں کی انٹریاں موصول

جنگ نیوز سری نگر/ ڈائریکٹر اِنفارمیشن شریا سنگھل نے آج...

تازہ ترین خبریں

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

کشمیر کےعاقب نبی نے بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا لی

محمد عمر بٹ جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر کے لئے...

جموں کشمیر میں پانچ برس کے دوران 5908 چھوٹی کمپنیاں، 585 LLPs اور 1231 اسٹارٹ اپس رجسٹر

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ مرکزی وزارتِ کارپوریٹ امور نے لوک...

کشمیر انٹرنیشنل فلم فیسٹول کیلئے زائد اَز 50 ممالک سے 1100فلموں کی انٹریاں موصول

جنگ نیوز سری نگر/ ڈائریکٹر اِنفارمیشن شریا سنگھل نے آج...

توانائی کی سلامتی حکومت کا امتحان

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی نے ایک بار پھر ہندوستان کی توانائی کی سلامتی اور حکومتی پالیسی کی تیاری کو سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ چونکہ ہندوستان اپنی تیل کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے، اس لئے عالمی سپلائی میں کسی بھی خلل کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کی ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کا اثر ہندوستان جیسے ممالک پر فوری طور پر محسوس ہوتا ہے۔
حکومت نے گزشتہ برسوں میں تیل پر انحصار کم کرنے کے لئے ایتھنول اور بایو فیول جیسے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم معیشت کی تیز رفتار ترقی کے باعث تیل کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، اس لئے یہ اقدامات فی الحال محدود اہمیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کو اپنی توانائی کی حکمت عملی کو زیادہ مضبوط اور طویل مدتی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔
حالیہ بحران نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ روس سے تیل کی سپلائی ہندوستان کے لئے کتنی اہم ہے۔ ماضی میں ایران اور وینزویلا کے تیل پر پابندیوں کے معاملے میں بھی ہندوستان نے امریکی دباؤ کو قبول کیا تھا۔ اب عالمی حالات بدلنے کے بعد روسی تیل کی ضرورت دوبارہ نمایاں ہو گئی ہے۔ اس طرح کی غیر مستقل پالیسی سے نہ صرف سفارتی اعتماد متاثر ہوتا ہے بلکہ توانائی کی منڈی میں ہندوستان کی سودے بازی کی قوت بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔
اندرونِ ملک حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود فی الحال ایندھن کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔ یہ فیصلہ عوامی دباؤ کے پیش نظر اہم ضرور ہے، مگر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب عالمی قیمتیں کم تھیں تو صارفین کو اس کا پورا فائدہ کیوں نہیں ملا۔
پردھان منتری اجولا یوجنا کے ذریعے گھریلو سطح پر ایل پی جی کی فراہمی میں اضافہ ایک قابلِ ذکر قدم ہے، لیکن طلب میں اس تیزی سے اضافے کے ساتھ سپلائی اور ذخائر کی بہتر منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث بعض شعبوں کو قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سب سے بڑی کمزوری حکومتی رابطہ کاری میں نظر آئی۔ غیر رسمی بریفنگ اور محدود بیانات کے باعث ایندھن کی دستیابی کے بارے میں غیر ضروری خدشات پھیل گئے۔ ایسے وقت میں شفاف اور بروقت معلومات دینا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ حالیہ بین الوزارتی پریس کانفرنس بھی تاخیر سے ہوئی اور اس میں سوالات لینے سے گریز کیا گیا۔
موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہندوستان اپنی توانائی کی پالیسی کو زیادہ مستقل، متوازن اور شفاف بنائے۔ توانائی کی سلامتی صرف درآمدات کا مسئلہ نہیں بلکہ مضبوط حکمت عملی، سفارتی توازن اور مؤثر عوامی رابطے کا تقاضا بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں