سرکاری محکموں میں خالی اسامیاں

جموں و کشمیر میں بے روزگاری ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں حالیہ جائزہ اجلاس میں چیف سیکریٹری اتل ڈلو کی جانب سے سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں کی صورتحال پر غور و خوض ایک اہم پیش رفت ہے۔ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مختلف سرکاری محکموں میں اس وقت مجموعی طور پر 40661 اسامیاں خالی ہیں، جن میں 3808 گزٹیڈ، 24507 نان گزٹیڈ اور 12351 ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف کی اسامیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد نہ صرف انتظامی ڈھانچے میں موجود خلا کو ظاہر کرتی ہے بلکہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع کی ایک بڑی گنجائش کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرکاری محکموں میں اس قدر بڑی تعداد میں خالی اسامیوں کا برقرار رہنا انتظامی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب محکمے مطلوبہ عملے کے بغیر کام کرتے ہیں تو عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور نظام میں بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے ان اسامیوں کو محض اعداد و شمار کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں فوری طور پر پُر کرنے کی عملی حکمت عملی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بھرتی کا پورا عمل مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی ہو۔ ماضی میں بھرتی کے عمل سے متعلق اٹھنے والے سوالات نے نوجوانوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ واضح ٹائم لائن طے کرے، امتحانات اور انتخاب کے مراحل کو بروقت مکمل کرے اور ہر مرحلے میں شفافیت کو یقینی بنائے تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
جموں و کشمیر کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان برسوں سے سرکاری ملازمتوں کے منتظر ہیں۔ اگر ان خالی اسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے تو اس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ معیشت کو بھی تقویت ملے گی اور انتظامی نظام زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ معاملہ محض اجلاسوں اور اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

چیتے کا معصوم بچی پر حملہ

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گاؤں دراگڑ...

پتھر کے بجائے خواب اٹھانے والے پلوامہ کے اویس کی کامیابی کا سفر

عرش مخدومی پلوامہ ، کشمیر   گزشتہ تین دہائیوں کے دوران...

سونا لازمی نہیں، آسان نکاح ہی سنت ہے

    مفتی قاضی توفیق عمر اسلام نے نکاح کو عبادت، عفت...

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو

ابرا ہیم آتش   آج ملک میں خصوصا مسلمان بہت...

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

تازہ ترین خبریں

چیتے کا معصوم بچی پر حملہ

سری نگر: جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے گاؤں دراگڑ...

پتھر کے بجائے خواب اٹھانے والے پلوامہ کے اویس کی کامیابی کا سفر

عرش مخدومی پلوامہ ، کشمیر   گزشتہ تین دہائیوں کے دوران...

سونا لازمی نہیں، آسان نکاح ہی سنت ہے

    مفتی قاضی توفیق عمر اسلام نے نکاح کو عبادت، عفت...

موجودہ حالات میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو

ابرا ہیم آتش   آج ملک میں خصوصا مسلمان بہت...

ریچھ کے حملے میں 50 سالہ خاتون شدید زخمی

سرینگر اطلاعات کے مطابق پیر کی شام وسطی کشمیر کے...

سرکاری محکموں میں خالی اسامیاں

جموں و کشمیر میں بے روزگاری ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں حالیہ جائزہ اجلاس میں چیف سیکریٹری اتل ڈلو کی جانب سے سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں کی صورتحال پر غور و خوض ایک اہم پیش رفت ہے۔ اجلاس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مختلف سرکاری محکموں میں اس وقت مجموعی طور پر 40661 اسامیاں خالی ہیں، جن میں 3808 گزٹیڈ، 24507 نان گزٹیڈ اور 12351 ملٹی ٹاسکنگ اسٹاف کی اسامیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد نہ صرف انتظامی ڈھانچے میں موجود خلا کو ظاہر کرتی ہے بلکہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع کی ایک بڑی گنجائش کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرکاری محکموں میں اس قدر بڑی تعداد میں خالی اسامیوں کا برقرار رہنا انتظامی کارکردگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب محکمے مطلوبہ عملے کے بغیر کام کرتے ہیں تو عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور نظام میں بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے ان اسامیوں کو محض اعداد و شمار کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں فوری طور پر پُر کرنے کی عملی حکمت عملی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بھرتی کا پورا عمل مکمل طور پر شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی ہو۔ ماضی میں بھرتی کے عمل سے متعلق اٹھنے والے سوالات نے نوجوانوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ واضح ٹائم لائن طے کرے، امتحانات اور انتخاب کے مراحل کو بروقت مکمل کرے اور ہر مرحلے میں شفافیت کو یقینی بنائے تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
جموں و کشمیر کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان برسوں سے سرکاری ملازمتوں کے منتظر ہیں۔ اگر ان خالی اسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے تو اس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی بلکہ معیشت کو بھی تقویت ملے گی اور انتظامی نظام زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ معاملہ محض اجلاسوں اور اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اسے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں