انشائیہ: حمایتی کی گھوڑی عراقی کے لات مارے

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

داناؤں کا قول ہے کہ بڑے آدمی کے آگے سے اور گھوڑے کے پیچھے سے ہرگز نہیں گزرنا چاہیے، اس لیے کہ بڑے آدمی کو دوسرے لوگ ایک آنکھ نہیں بھاتے جبکہ گھوڑے کو اپنے پیچھے سے گزرنے والے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے اور اسی لیے دیکھتے ہی لات مارتا ہے تاکہ خود اس کے شر سے محفوظ رہے۔ لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے، حمایتی کی گھوڑی ہر وقت اس طاق میں رہتی ہے کہ کب اور کہاں دوسروں کو لات مار کر خود آگے بڑھے۔ اس گھوڑی کا ایک اور نام سفارش ہے اور اس کا چلن اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب یہ ہمارے سماج کی پہچان بن چکی ہے۔ یہاں ایک ایسا طبقہ وجود میں آ چکا ہے جو اس حمایتی کی گھوڑی کے بغیر آگے بڑھنا تو دور، سانس بھی نہیں لے سکتا۔ بچے کو سکول میں داخلہ دلوانا ہو تو اسی گھوڑی کی حمایت، داخلہ ملا تو پڑھائی میں آگے رکھنے کے لیے، نہ کہ رہنے کے لیے، اس کی ضرورت۔ استاد جو اب تک بلا کسی امتیاز بچوں کو یکساں طور پر تعلیم و تربیت دیتا تھا، جب سے یہ حمایتی کی گھوڑی بے لگام ہو چکی ہے، استاد نے بھی موقع غنیمت جان کر اس کی سواری کا مزہ لینا شروع کیا۔ وہ بھی آگے بڑھنا چاہتا ہے، آخر اس کے بھی بال بچے اور کچھ ادھورے ارمان ہوتے ہیں جنہیں وہ اس گھوڑی کے ذریعے پورا کرنا چاہتا ہے۔ پڑھائی ختم تو سرکاری نوکری، جو اب عنقا کے برابر ہے، اس کے لیے کئی گھوڑیوں کی دوڑ لگتی ہے۔ کچھ لوگ صرف حمایت یا سفارش کو آگے کرتے ہیں اور کچھ گھوڑی کو تیز دوڑانے کے لیے نقد رقم بھی پیش کرتے ہیں، اس لیے کہ money makes a mare go۔ وہ قابلیت اور صلاحیت جس کو کسی زمانے میں merit کہتے تھے، اس کو بالائے طاق رکھ کر گھوڑی چاروں ٹانگوں سے لات مار کر دوسروں کو صدیوں تک سنبھلنے نہیں دیتی۔ نوکری مل گئی تو میکے کے بغل میں posting تاکہ دوپہر کا کھانا اور ساس ماں کی غیبت کرنے کے لیے وہاں جا سکے۔ اس کے بعد out of turn promotion کے لیے حمایتی کی گھوڑی کی ضرورت۔ بھلا وہ eligibility اور کارکردگی کس نے دیکھی؟ ارے اس میں رکھا ہی کیا ہے، گھوڑی اسے ایک لات میں چت کر دیتی ہے۔
غور طلب بات ہے کہ حمایتی گھوڑی اور رشوت دونوں ایک ہی سکے کے دو چہرے ہیں۔ فرق صرف اتنا کہ ایک میں بالواسطہ اور دوسرے میں بلاواسطہ رشوت دینا پڑتا ہے۔ ایک میں نقد و جنس دے کر حساب برابر کیا جاتا ہے اور دوسرے میں عمر بھر گھوڑی بن کر رہنا پڑتا ہے۔ اس حمایتی کی گھوڑی نے ہمارے پورے نظام حیات کو بگاڑ دیا ہے۔ آپ کہیں بھی جائیں، جب تک نہ آپ کے پاس حمایتی کی گھوڑی ہو، کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی دفتر میں جائیں، کوئی آپ کی نہیں سنے گا۔ آپ کے ہاں بجلی کا استعمال کیے بغیر ہزاروں کا بل آیا ہو، آپ لاکھ جتن کریں کہ حضور یہ غلط بل ہے، ہم روز اندھیرے میں کھانا کھا کر سرِ شام سو جاتے ہیں، کوئی ماننے والا نہیں۔ اور جوں ہی حمایتی کی گھوڑی آپ کی طرف قدم بڑھاتی ہے، کام فوراً ہو جاتا ہے، وہ دفتری طوالت بھی ختم اور بجلی کا بل بھی معاف۔
یہ حمایتی کی گھوڑی جو عراقی کو لات مارتی ہے، اتنی خوبصورت ہے کہ اس نے زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ لوگوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں تو بہرحال دوسرے محکموں کی طرح یہ گھوڑی پہلے سے گھس چکی تھی لیکن اب تو یہ ہمارے ڈاکٹر صاحبان کے نجی کلینکس میں بھی داخل ہو چکی ہے۔ چالیس بیمار، کچھ اپنی بیماری اور کچھ ملاوٹی دوائیوں کا رونا روتے ہوئے، اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں کہ اچانک ایک آدمی آتے ہی کسی اور سے ڈاکٹر صاحب کو فون کراتا ہے اور سب کو دیکھتا چھوڑ کر اندر چلا جاتا ہے۔ دوسرے بیمار اور تیماردار پریشان کہ صاحب ہم نے تو دو مہینے پہلے نمبر بک کرکے فیس بھی وقت پر ادا کی ہے تو بھلا یہ کیا ماجرا کہ آتے ہی اندر چلا گیا؟ ارے صاحب، یہی تو حمایتی کی گھوڑی ہے جو عراقی کو چھوڑ کر سب کو لات مار کر چلی جاتی ہے۔
دیکھا جائے تو یہ حمایتی کی گھوڑی حق تلفی اور ظلم کا ذریعہ بن چکی ہے۔ رشوت لینا یا کسی کا حق مارنا تو ہماری نظروں میں غلط ہے لیکن سفارش کراکے دوسروں کے حقوق پر شب خون مارنا لوگوں کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ اثر و رسوخ کا “صحیح استعمال” ہے۔ حقیقت میں اس حمایتی کی گھوڑی نے حق تلفی، بددیانتی، ظلم اور ناانصافی کو جنم دیا ہے، اس لیے کہ یہ گھوڑی ہر وقت غلط کام کروانے کے لیے ہی میدان میں اتر جاتی ہے۔ مانا کہ گاڑی چلانے کے دوران آپ اپنا driving licence گھر میں بھول گئے اور ٹریفک پولیس کے پکڑے جانے پر آپ کسی حمایتی گھوڑی کا سہارا لیتے ہیں، لیکن حد تو یہ ہے کہ جو آدمی صرف گاڑی خرید کر اس میں صحیح ڈھنگ سے بیٹھ بھی نہیں سکتا، اس کو بھی حمایتی کی گھوڑی کے سائے میں گاڑی چلانے کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز سڑکوں پر کئی قیمتی جانیں تلف ہو جاتی ہیں۔
اس حمایتی کی گھوڑی نے اس قدر ہمارے دل و دماغ مفلوج کر دیے ہیں کہ دنیاوی کام چھوڑ اب تو لوگ اللہ میاں کے گھر جانے کے لیے بھی اسی گھوڑی پر سوار ہوتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ کہیں میں نے کسی کا حق تو نہیں مارا۔ کسی کی زمین و جائیداد اپنے نام کرانی ہو یا دفنانے کے لیے لحد خریدنی ہو، اسی گھوڑی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اب تو اوپر والے کے ہاں بھی حمایتی ڈھونڈ نکالتے ہیں، کہیں درویش نما ٹھگ اور کہیں بددیانت پیر بابا۔ اور وہ لوگ بھی بڑے سیانے کہ اپنے آپ کو اللہ میاں کے نزدیک ثابت کرنے میں ماہر، اصلی حمایتی اور سفارش کرنے والے کے احکامات سے کوسوں دور، اسے بھول کر دوسروں کی حمایت حاصل کرنے میں مگن۔
شامتِ اعمال دیکھیے، اب یہ حمایتی کی گھوڑی عراقی کو لات مارنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اگر کہیں دو ملکوں کے درمیان فساد ہو تو تیسرا گھوڑی بن کر ان کے درمیان صلح کرنے کی کوشش کرتا ہے، (وہ اور بات ہے کہ اسے خاطر میں نہیں لایا جاتا) اور اگر اللہ نہ کرے اس میں کامیاب ہو گیا تو اس کے لیے بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کہیں عزت و آبرو اور کہیں قومی وقار داؤ پر لگانا پڑتا ہے۔
دیکھا جائے تو یہ حمایتی کی گھوڑی گھاس چرنے کے بجائے ہماری سماجی اور معاشرتی اقدار کو دیمک کی طرح دن رات چاٹ رہی ہے اور ہم خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ بڑی خطرناک ہے، اس کے لیے کبھی ننگ و ناموس بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اصل میں یہ غلامی کی علامت ہی نہیں بلکہ دین بن چکی ہے۔ آدمی سر اٹھا کر چل نہیں سکتا، عمر بھر احساسِ کمتری کا شکار رہتا ہے، ہر وقت اس ڈر میں مبتلا کہ کہیں حمایتی کی گھوڑی بے لگام ہو کر عراقی کے بجائے مجھے ہی لات نہ مار دے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس گھوڑی سے دور رہ کر منزل کی طرف خود اپنی ٹانگوں کے سہارے چلا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

تازہ ترین خبریں

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

میں رکشہ والا

شبیر احمد میر میں سڑک کے اس طرف جہونپڑیوں...

انشائیہ: حمایتی کی گھوڑی عراقی کے لات مارے

عبدالرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

داناؤں کا قول ہے کہ بڑے آدمی کے آگے سے اور گھوڑے کے پیچھے سے ہرگز نہیں گزرنا چاہیے، اس لیے کہ بڑے آدمی کو دوسرے لوگ ایک آنکھ نہیں بھاتے جبکہ گھوڑے کو اپنے پیچھے سے گزرنے والے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے اور اسی لیے دیکھتے ہی لات مارتا ہے تاکہ خود اس کے شر سے محفوظ رہے۔ لیکن یہاں معاملہ الٹا ہے، حمایتی کی گھوڑی ہر وقت اس طاق میں رہتی ہے کہ کب اور کہاں دوسروں کو لات مار کر خود آگے بڑھے۔ اس گھوڑی کا ایک اور نام سفارش ہے اور اس کا چلن اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب یہ ہمارے سماج کی پہچان بن چکی ہے۔ یہاں ایک ایسا طبقہ وجود میں آ چکا ہے جو اس حمایتی کی گھوڑی کے بغیر آگے بڑھنا تو دور، سانس بھی نہیں لے سکتا۔ بچے کو سکول میں داخلہ دلوانا ہو تو اسی گھوڑی کی حمایت، داخلہ ملا تو پڑھائی میں آگے رکھنے کے لیے، نہ کہ رہنے کے لیے، اس کی ضرورت۔ استاد جو اب تک بلا کسی امتیاز بچوں کو یکساں طور پر تعلیم و تربیت دیتا تھا، جب سے یہ حمایتی کی گھوڑی بے لگام ہو چکی ہے، استاد نے بھی موقع غنیمت جان کر اس کی سواری کا مزہ لینا شروع کیا۔ وہ بھی آگے بڑھنا چاہتا ہے، آخر اس کے بھی بال بچے اور کچھ ادھورے ارمان ہوتے ہیں جنہیں وہ اس گھوڑی کے ذریعے پورا کرنا چاہتا ہے۔ پڑھائی ختم تو سرکاری نوکری، جو اب عنقا کے برابر ہے، اس کے لیے کئی گھوڑیوں کی دوڑ لگتی ہے۔ کچھ لوگ صرف حمایت یا سفارش کو آگے کرتے ہیں اور کچھ گھوڑی کو تیز دوڑانے کے لیے نقد رقم بھی پیش کرتے ہیں، اس لیے کہ money makes a mare go۔ وہ قابلیت اور صلاحیت جس کو کسی زمانے میں merit کہتے تھے، اس کو بالائے طاق رکھ کر گھوڑی چاروں ٹانگوں سے لات مار کر دوسروں کو صدیوں تک سنبھلنے نہیں دیتی۔ نوکری مل گئی تو میکے کے بغل میں posting تاکہ دوپہر کا کھانا اور ساس ماں کی غیبت کرنے کے لیے وہاں جا سکے۔ اس کے بعد out of turn promotion کے لیے حمایتی کی گھوڑی کی ضرورت۔ بھلا وہ eligibility اور کارکردگی کس نے دیکھی؟ ارے اس میں رکھا ہی کیا ہے، گھوڑی اسے ایک لات میں چت کر دیتی ہے۔
غور طلب بات ہے کہ حمایتی گھوڑی اور رشوت دونوں ایک ہی سکے کے دو چہرے ہیں۔ فرق صرف اتنا کہ ایک میں بالواسطہ اور دوسرے میں بلاواسطہ رشوت دینا پڑتا ہے۔ ایک میں نقد و جنس دے کر حساب برابر کیا جاتا ہے اور دوسرے میں عمر بھر گھوڑی بن کر رہنا پڑتا ہے۔ اس حمایتی کی گھوڑی نے ہمارے پورے نظام حیات کو بگاڑ دیا ہے۔ آپ کہیں بھی جائیں، جب تک نہ آپ کے پاس حمایتی کی گھوڑی ہو، کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی دفتر میں جائیں، کوئی آپ کی نہیں سنے گا۔ آپ کے ہاں بجلی کا استعمال کیے بغیر ہزاروں کا بل آیا ہو، آپ لاکھ جتن کریں کہ حضور یہ غلط بل ہے، ہم روز اندھیرے میں کھانا کھا کر سرِ شام سو جاتے ہیں، کوئی ماننے والا نہیں۔ اور جوں ہی حمایتی کی گھوڑی آپ کی طرف قدم بڑھاتی ہے، کام فوراً ہو جاتا ہے، وہ دفتری طوالت بھی ختم اور بجلی کا بل بھی معاف۔
یہ حمایتی کی گھوڑی جو عراقی کو لات مارتی ہے، اتنی خوبصورت ہے کہ اس نے زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ لوگوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں تو بہرحال دوسرے محکموں کی طرح یہ گھوڑی پہلے سے گھس چکی تھی لیکن اب تو یہ ہمارے ڈاکٹر صاحبان کے نجی کلینکس میں بھی داخل ہو چکی ہے۔ چالیس بیمار، کچھ اپنی بیماری اور کچھ ملاوٹی دوائیوں کا رونا روتے ہوئے، اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں کہ اچانک ایک آدمی آتے ہی کسی اور سے ڈاکٹر صاحب کو فون کراتا ہے اور سب کو دیکھتا چھوڑ کر اندر چلا جاتا ہے۔ دوسرے بیمار اور تیماردار پریشان کہ صاحب ہم نے تو دو مہینے پہلے نمبر بک کرکے فیس بھی وقت پر ادا کی ہے تو بھلا یہ کیا ماجرا کہ آتے ہی اندر چلا گیا؟ ارے صاحب، یہی تو حمایتی کی گھوڑی ہے جو عراقی کو چھوڑ کر سب کو لات مار کر چلی جاتی ہے۔
دیکھا جائے تو یہ حمایتی کی گھوڑی حق تلفی اور ظلم کا ذریعہ بن چکی ہے۔ رشوت لینا یا کسی کا حق مارنا تو ہماری نظروں میں غلط ہے لیکن سفارش کراکے دوسروں کے حقوق پر شب خون مارنا لوگوں کے نزدیک گناہ نہیں بلکہ اثر و رسوخ کا “صحیح استعمال” ہے۔ حقیقت میں اس حمایتی کی گھوڑی نے حق تلفی، بددیانتی، ظلم اور ناانصافی کو جنم دیا ہے، اس لیے کہ یہ گھوڑی ہر وقت غلط کام کروانے کے لیے ہی میدان میں اتر جاتی ہے۔ مانا کہ گاڑی چلانے کے دوران آپ اپنا driving licence گھر میں بھول گئے اور ٹریفک پولیس کے پکڑے جانے پر آپ کسی حمایتی گھوڑی کا سہارا لیتے ہیں، لیکن حد تو یہ ہے کہ جو آدمی صرف گاڑی خرید کر اس میں صحیح ڈھنگ سے بیٹھ بھی نہیں سکتا، اس کو بھی حمایتی کی گھوڑی کے سائے میں گاڑی چلانے کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز سڑکوں پر کئی قیمتی جانیں تلف ہو جاتی ہیں۔
اس حمایتی کی گھوڑی نے اس قدر ہمارے دل و دماغ مفلوج کر دیے ہیں کہ دنیاوی کام چھوڑ اب تو لوگ اللہ میاں کے گھر جانے کے لیے بھی اسی گھوڑی پر سوار ہوتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ کہیں میں نے کسی کا حق تو نہیں مارا۔ کسی کی زمین و جائیداد اپنے نام کرانی ہو یا دفنانے کے لیے لحد خریدنی ہو، اسی گھوڑی کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اب تو اوپر والے کے ہاں بھی حمایتی ڈھونڈ نکالتے ہیں، کہیں درویش نما ٹھگ اور کہیں بددیانت پیر بابا۔ اور وہ لوگ بھی بڑے سیانے کہ اپنے آپ کو اللہ میاں کے نزدیک ثابت کرنے میں ماہر، اصلی حمایتی اور سفارش کرنے والے کے احکامات سے کوسوں دور، اسے بھول کر دوسروں کی حمایت حاصل کرنے میں مگن۔
شامتِ اعمال دیکھیے، اب یہ حمایتی کی گھوڑی عراقی کو لات مارنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اگر کہیں دو ملکوں کے درمیان فساد ہو تو تیسرا گھوڑی بن کر ان کے درمیان صلح کرنے کی کوشش کرتا ہے، (وہ اور بات ہے کہ اسے خاطر میں نہیں لایا جاتا) اور اگر اللہ نہ کرے اس میں کامیاب ہو گیا تو اس کے لیے بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کہیں عزت و آبرو اور کہیں قومی وقار داؤ پر لگانا پڑتا ہے۔
دیکھا جائے تو یہ حمایتی کی گھوڑی گھاس چرنے کے بجائے ہماری سماجی اور معاشرتی اقدار کو دیمک کی طرح دن رات چاٹ رہی ہے اور ہم خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ بڑی خطرناک ہے، اس کے لیے کبھی ننگ و ناموس بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اصل میں یہ غلامی کی علامت ہی نہیں بلکہ دین بن چکی ہے۔ آدمی سر اٹھا کر چل نہیں سکتا، عمر بھر احساسِ کمتری کا شکار رہتا ہے، ہر وقت اس ڈر میں مبتلا کہ کہیں حمایتی کی گھوڑی بے لگام ہو کر عراقی کے بجائے مجھے ہی لات نہ مار دے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس گھوڑی سے دور رہ کر منزل کی طرف خود اپنی ٹانگوں کے سہارے چلا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں