ایٹمی ہتھیار ہی اب بقا کی ضمانت؟

امریکہ کی حالیہ خارجہ پالیسی نے عالمی سیاست میں ایک نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ وینزویلا میں مداخلت اور وہاں کی قیادت کو ہٹانے کی کارروائی، جسے مبینہ طور پر تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے نے دنیا بھر میں یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا طاقتور ممالک اب کھلے عام وسائل کے حصول کے لئے حکومتیں بدلنے پر آمادہ ہیں۔ اس کے ساتھ ایران پر حملہ اور اس کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت نے اس خدشے کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ خودمختاری اب کمزور ریاستوں کے لئے کافی دفاع نہیں رہی۔
امریکہ برسوں سے اپنی بیرونی مداخلتوں کو جمہوریت، انسداد دہشت گردی یا علاقائی استحکام کے نام پر جائز قرار دیتا آیا ہے۔ لیکن جب ایسے اقدامات تیل سے مالا مال ممالک یا اہم جغرافیائی حیثیت رکھنے والی ریاستوں میں ہوتے ہیں تو دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں ان دعووں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں تاثر ہی پالیسی کی سمت طے کرتا ہے، اور اس وقت تاثر یہی ہے کہ طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔
اگر یہ پیغام عام ہو جائے کہ غیر ایٹمی ممالک بیرونی مداخلت کے سامنے بے بس ہیں تو پھر ہر ریاست اپنی سلامتی کی نئی تعریف کرے گی۔ روایتی فوجی طاقت، سفارتی تعلقات اور عالمی اداروں کی یقین دہانیاں شاید اب کافی نہ سمجھی جائیں۔ ایسے میں ایٹمی صلاحیت ایک آخری دفاعی دیوار کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
دنیا کی مثالیں سامنے ہیں۔ شمالی کوریا نے کھل کر یہ مؤقف اپنایا کہ اس کا ایٹمی پروگرام اس کی حکومت کی بقا کی ضمانت ہے۔ بڑی طاقتیں جیسے روس اور چین بھی ایٹمی توازن کو براہ راست جنگ سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ اگر ایران کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو ایک مثال کے طور پر لیا جائے تو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت ہی اصل باز deterrence ہے۔
ایسے حالات میں جوہری عدم پھیلاؤ کا عالمی نظام بھی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ International Atomic Energy Agency اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے اسی وقت مؤثر رہ سکتے ہیں جب ریاستوں کو یقین ہو کہ قوانین کی پاسداری انہیں محفوظ بناتی ہے، نہ کہ کمزور۔
لیکن اس سوچ کا دوسرا رخ نہایت خطرناک ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ میں ایٹمی دوڑ شروع ہوتی ہے تو معمولی غلطی بھی تباہ کن تصادم میں بدل سکتی ہے۔ زیادہ ایٹمی ریاستوں کا مطلب زیادہ خطرہ، زیادہ غیر یقینی اور زیادہ تباہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

ایٹمی ہتھیار ہی اب بقا کی ضمانت؟

امریکہ کی حالیہ خارجہ پالیسی نے عالمی سیاست میں ایک نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ وینزویلا میں مداخلت اور وہاں کی قیادت کو ہٹانے کی کارروائی، جسے مبینہ طور پر تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے نے دنیا بھر میں یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا طاقتور ممالک اب کھلے عام وسائل کے حصول کے لئے حکومتیں بدلنے پر آمادہ ہیں۔ اس کے ساتھ ایران پر حملہ اور اس کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت نے اس خدشے کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ خودمختاری اب کمزور ریاستوں کے لئے کافی دفاع نہیں رہی۔
امریکہ برسوں سے اپنی بیرونی مداخلتوں کو جمہوریت، انسداد دہشت گردی یا علاقائی استحکام کے نام پر جائز قرار دیتا آیا ہے۔ لیکن جب ایسے اقدامات تیل سے مالا مال ممالک یا اہم جغرافیائی حیثیت رکھنے والی ریاستوں میں ہوتے ہیں تو دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں ان دعووں کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں تاثر ہی پالیسی کی سمت طے کرتا ہے، اور اس وقت تاثر یہی ہے کہ طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔
اگر یہ پیغام عام ہو جائے کہ غیر ایٹمی ممالک بیرونی مداخلت کے سامنے بے بس ہیں تو پھر ہر ریاست اپنی سلامتی کی نئی تعریف کرے گی۔ روایتی فوجی طاقت، سفارتی تعلقات اور عالمی اداروں کی یقین دہانیاں شاید اب کافی نہ سمجھی جائیں۔ ایسے میں ایٹمی صلاحیت ایک آخری دفاعی دیوار کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
دنیا کی مثالیں سامنے ہیں۔ شمالی کوریا نے کھل کر یہ مؤقف اپنایا کہ اس کا ایٹمی پروگرام اس کی حکومت کی بقا کی ضمانت ہے۔ بڑی طاقتیں جیسے روس اور چین بھی ایٹمی توازن کو براہ راست جنگ سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔ اگر ایران کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو ایک مثال کے طور پر لیا جائے تو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ایٹمی صلاحیت ہی اصل باز deterrence ہے۔
ایسے حالات میں جوہری عدم پھیلاؤ کا عالمی نظام بھی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ International Atomic Energy Agency اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے اسی وقت مؤثر رہ سکتے ہیں جب ریاستوں کو یقین ہو کہ قوانین کی پاسداری انہیں محفوظ بناتی ہے، نہ کہ کمزور۔
لیکن اس سوچ کا دوسرا رخ نہایت خطرناک ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ میں ایٹمی دوڑ شروع ہوتی ہے تو معمولی غلطی بھی تباہ کن تصادم میں بدل سکتی ہے۔ زیادہ ایٹمی ریاستوں کا مطلب زیادہ خطرہ، زیادہ غیر یقینی اور زیادہ تباہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں