مشرق وسطیٰ میں بحران دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو اب چھ دن گزر چکے ہیں اور خطہ تیزی سے ایک وسیع علاقائی تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ کا آغاز کیا اور ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد افراد اور شہری ہلاک ہوئے، تو اس کے ساتھ ہی ایرانی عوام سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل بھی کی گئی۔ لیکن زمینی حقیقت اس اندازے کے بالکل برعکس سامنے آئی۔
ایران نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی فوج کے کئی مراکز پر مواصلاتی اور ریڈار ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کر کے جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ اسی طرح عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں نے اربیل سمیت مختلف علاقوں میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اس جنگ کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق کویت میں ایک واقعے کے دوران امریکی فوج کے کئی اہلکار ہلاک اور جنگی طیارے تباہ ہوئے، جسے “فرینڈلی فائر” قرار دیا گیا۔ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جنگ کے ماحول میں غلط اندازے اور حادثات کس طرح صورت حال کو مزید خطرناک بنا سکتے ہیں۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ جنگ کا دائرہ اب خطے سے باہر تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی کارروائی میں ایرانی بحری جہاز IRIS Dena کو بحرِ ہند میں سری لنکا کے قریب نشانہ بنایا گیا، جس میں درجنوں ایرانی اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ جہاز مبینہ طور پر بھارت کے شہر وشاکھاپٹنم میں ہونے والی ایک بین الاقوامی بحری تقریب میں شرکت کے بعد اس علاقے میں موجود تھا۔ اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ یہ تنازع اب وسیع جغرافیائی حدود تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر بینجمن نیتن یاہو اور امریکی قیادت کا خیال یہ تھا کہ ایرانی قیادت کو ختم کرنے سے ایران کی حکومت کمزور پڑ جائے گی یا اندرونی بغاوت شروع ہو جائے گی، تو اب تک کے حالات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کی ریاستی مشینری بدستور قائم ہے اور اس حملے نے نہ صرف ایران کو متحد کیا بلکہ اس کے علاقائی اتحادیوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔
یہ صورت حال صرف ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کی توانائی کی فراہمی، سمندری تجارت اور جغرافیائی سیاست کا اہم مرکز ہے۔ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایک چنگاری، پورا خطہ آگ میں!
ایک چنگاری، پورا خطہ آگ میں!
مشرق وسطیٰ میں بحران دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو اب چھ دن گزر چکے ہیں اور خطہ تیزی سے ایک وسیع علاقائی تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ کا آغاز کیا اور ایران کی قیادت کو نشانہ بنایا، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد افراد اور شہری ہلاک ہوئے، تو اس کے ساتھ ہی ایرانی عوام سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل بھی کی گئی۔ لیکن زمینی حقیقت اس اندازے کے بالکل برعکس سامنے آئی۔
ایران نے فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی فوج کے کئی مراکز پر مواصلاتی اور ریڈار ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کر کے جنگ کے دائرے کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ اسی طرح عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں نے اربیل سمیت مختلف علاقوں میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
اس جنگ کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق کویت میں ایک واقعے کے دوران امریکی فوج کے کئی اہلکار ہلاک اور جنگی طیارے تباہ ہوئے، جسے “فرینڈلی فائر” قرار دیا گیا۔ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جنگ کے ماحول میں غلط اندازے اور حادثات کس طرح صورت حال کو مزید خطرناک بنا سکتے ہیں۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ جنگ کا دائرہ اب خطے سے باہر تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی کارروائی میں ایرانی بحری جہاز IRIS Dena کو بحرِ ہند میں سری لنکا کے قریب نشانہ بنایا گیا، جس میں درجنوں ایرانی اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ جہاز مبینہ طور پر بھارت کے شہر وشاکھاپٹنم میں ہونے والی ایک بین الاقوامی بحری تقریب میں شرکت کے بعد اس علاقے میں موجود تھا۔ اس واقعے نے واضح کر دیا ہے کہ یہ تنازع اب وسیع جغرافیائی حدود تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر بینجمن نیتن یاہو اور امریکی قیادت کا خیال یہ تھا کہ ایرانی قیادت کو ختم کرنے سے ایران کی حکومت کمزور پڑ جائے گی یا اندرونی بغاوت شروع ہو جائے گی، تو اب تک کے حالات اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ایران کی ریاستی مشینری بدستور قائم ہے اور اس حملے نے نہ صرف ایران کو متحد کیا بلکہ اس کے علاقائی اتحادیوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔
یہ صورت حال صرف ایک علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا کی توانائی کی فراہمی، سمندری تجارت اور جغرافیائی سیاست کا اہم مرکز ہے۔ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔


