بہار کی سیاست ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سربراہ نتیش کمار نے عہدہ چھوڑنے اور عملی سیاست سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے بعد وزیر اعلیٰ کے طور پر BJP کا کوئی نامزد رہنما سامنے آ سکتا ہے۔ بظاہر یہ پیش رفت اچانک محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ کئی برسوں سے جاری سیاسی عمل کا منطقی نتیجہ ہے۔
نتیش کمار طویل عرصے تک بہار کی سیاست کے مرکزی کردار رہے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے مطابق اپنے اتحاد بھی تبدیل کیے۔ کبھی وہ بھاجپا کے ساتھ حکومت میں رہے اور کبھی کانگریس کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنے۔ اس سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود ریاست میں دیگر پسماندہ طبقات کے ایک بڑے حصے کی حمایت ان کے ساتھ رہی، جو ان کی سیاسی طاقت کا اہم ستون تھا۔
گزشتہ کچھ برسوں سے ان کی عمر اور صحت کے اثرات نمایاں ہونے لگے تھے۔ پچھتر برس کی عمر میں ان کا سیاست سے پیچھے ہٹنا ایک فطری مرحلہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہار میں قیادت کی نئی صف بندی کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میںبھاجپا کے وزیر اعلیٰ کے عہدے تک پہنچنے کا امکان اس وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کے ذریعے پارٹی ملک کے مختلف علاقوں اور سماجی طبقات میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔
نتیش کمار کی رخصتی کے ساتھ بہار کی سیاست میں ایک طویل دور کا اختتام ہو رہا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئی قیادت ریاست کے پیچیدہ سماجی اور سیاسی توازن کو کس طرح برقرار رکھتی ہے اور ترقی و حکمرانی کے عمل کو کس سمت لے جاتی ہے۔
آخر میں ہلکے پھلکے انداز میں ایک آئینی حقیقت کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بھارت میں وزیر اعظم بننے کے لئے کسی شخص کا پارلیمنٹ کا رکن ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اگر کوئی فرد وزیر اعظم مقرر ہو جائے اور اس وقت پارلیمنٹ کا رکن نہ ہو تو اسے چھ ماہ کے اندر اندر پارلیمنٹ کے کسی ایک ایوان کا رکن بننا پڑتا ہے۔ یہی اصول بھارتی جمہوریت میں پارلیمانی نمائندگی کی اہمیت کو برقرار رکھتا ہے۔
نتیش کمار کی رخصتی یا آمد؟
نتیش کمار کی رخصتی یا آمد؟
بہار کی سیاست ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سربراہ نتیش کمار نے عہدہ چھوڑنے اور عملی سیاست سے کنارہ کش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے بعد وزیر اعلیٰ کے طور پر BJP کا کوئی نامزد رہنما سامنے آ سکتا ہے۔ بظاہر یہ پیش رفت اچانک محسوس ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ کئی برسوں سے جاری سیاسی عمل کا منطقی نتیجہ ہے۔
نتیش کمار طویل عرصے تک بہار کی سیاست کے مرکزی کردار رہے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے مطابق اپنے اتحاد بھی تبدیل کیے۔ کبھی وہ بھاجپا کے ساتھ حکومت میں رہے اور کبھی کانگریس کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد کا حصہ بنے۔ اس سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود ریاست میں دیگر پسماندہ طبقات کے ایک بڑے حصے کی حمایت ان کے ساتھ رہی، جو ان کی سیاسی طاقت کا اہم ستون تھا۔
گزشتہ کچھ برسوں سے ان کی عمر اور صحت کے اثرات نمایاں ہونے لگے تھے۔ پچھتر برس کی عمر میں ان کا سیاست سے پیچھے ہٹنا ایک فطری مرحلہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بہار میں قیادت کی نئی صف بندی کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میںبھاجپا کے وزیر اعلیٰ کے عہدے تک پہنچنے کا امکان اس وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کے ذریعے پارٹی ملک کے مختلف علاقوں اور سماجی طبقات میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔
نتیش کمار کی رخصتی کے ساتھ بہار کی سیاست میں ایک طویل دور کا اختتام ہو رہا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ نئی قیادت ریاست کے پیچیدہ سماجی اور سیاسی توازن کو کس طرح برقرار رکھتی ہے اور ترقی و حکمرانی کے عمل کو کس سمت لے جاتی ہے۔
آخر میں ہلکے پھلکے انداز میں ایک آئینی حقیقت کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بھارت میں وزیر اعظم بننے کے لئے کسی شخص کا پارلیمنٹ کا رکن ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اگر کوئی فرد وزیر اعظم مقرر ہو جائے اور اس وقت پارلیمنٹ کا رکن نہ ہو تو اسے چھ ماہ کے اندر اندر پارلیمنٹ کے کسی ایک ایوان کا رکن بننا پڑتا ہے۔ یہی اصول بھارتی جمہوریت میں پارلیمانی نمائندگی کی اہمیت کو برقرار رکھتا ہے۔


