عامر گلزار
چکورہ شوپیان
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہر قوم کی تقدیر اس کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ نوجوان نسل کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی، امیدوں کا مرکز اور آنے والے کل کی معمار ہوتی ہے۔ اگر یہ نسل فکری انتشار، اخلاقی زوال اور مقصدِ حیات سے بے خبری کا شکار ہو جائے تو قومیں صرف زمین پر زندہ رہتی ہیں، تاریخ میں نہیں۔ آج کے تیز رفتار اور ہنگامہ خیز دور میں نوجوان نسل بے شمار چیلنجز سے دوچار ہے، اور ایسے میں قرآن مجید ایک ایسا ابدی چراغ ہے جو انہیں زندگی کی تاریکیوں میں راستہ دکھاتا ہے۔
عصرِ حاضر کا نوجوان بظاہر ترقی کی بلندیوں پر کھڑا ہے، مگر اندر سے فکری بے سمتی، روحانی خلا اور اخلاقی اضطراب کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا کی یلغار، مادہ پرستی کا غلبہ، اور جھوٹی آزادی کے خوش نما نعرے نوجوان ذہنوں کو اصل منزل سے دور لے جا رہے ہیں۔ ایسے میں قرآن صرف ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات بن کر نوجوانوں کی فکری و عملی رہنمائی کرتا ہے۔
قرآن نوجوانوں کو سب سے پہلے مقصدِ حیات سے روشناس کراتا ہے۔ وہ انہیں یہ شعور دیتا ہے کہ انسان محض خواہشات کی تکمیل کے لیے نہیں بلکہ ایک بلند ذمہ داری کے ساتھ اس دنیا میں آیا ہے۔ قرآن عقل کو بیدار کرتا ہے، فکر کو وسعت دیتا ہے اور دلوں کو یقین کی دولت عطا کرتا ہے۔ نوجوان جب قرآن سے رشتہ جوڑتا ہے تو اس کے اندر خود اعتمادی، صبر اور استقامت جنم لیتی ہے۔
قرآن نوجوانوں کو علم کی جستجو کا درس دیتا ہے۔ وہ سوال کرنے، سوچنے اور کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے درخشاں ادوار میں مسلم نوجوان علم، تحقیق اور تہذیب کے علمبردار رہے۔ قرآن انہیں سکھاتا ہے کہ طاقت کردار میں ہے، بلندی اخلاق میں ہے اور کامیابی دیانت و محنت میں پوشیدہ ہے۔
اخلاقی تربیت کے باب میں قرآن نوجوانوں کو جھوٹ، فریب، ناانصافی اور غرور سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ وہ انہیں سچائی، عدل، عفو و درگزر اور حلم کا پیکر بناتا ہے۔ آج جب نوجوان جذبات کے طوفان میں بہہ کر غلط فیصلے کر بیٹھتا ہے، قرآن اسے ضبطِ نفس اور توازن کا سبق دیتا ہے۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
یہ شعر نوجوانوں کے لیے امید، جدوجہد اور یقین کا پیغام ہے، اور قرآن اسی امید کو ایمان کی طاقت سے جوڑ دیتا ہے۔
قرآن نوجوانوں کو محض عبادات تک محدود نہیں رکھتا بلکہ انہیں معاشرتی ذمہ داریوں کا شعور بھی دیتا ہے۔ وہ انہیں والدین کے احترام، معاشرے کی اصلاح اور انسانیت کی خدمت کی طرف مائل کرتا ہے۔ قرآن کا پیغام نوجوان کو خود غرضی سے نکال کر اجتماعیت، ہمدردی اور قربانی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
مزید برآں، قرآن نوجوانوں کے اندر قیادت کی صلاحیت بیدار کرتا ہے۔ وہ انہیں حق گوئی، جراتِ اظہار اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب نوجوانوں نے قرآن کو اپنا رہبر بنایا تو وہ ظلم کے ایوانوں کو ہلا دینے والی طاقت بن گئے۔ قرآن نوجوان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ محض حالات کا شکار نہیں بلکہ حالات کا معمار بھی بن سکتا ہے۔ اگر اس کی سوچ قرآن کی روشنی میں ڈھل جائے تو وہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے کی تقدیر بھی بدل سکتا ہے۔ یہی شعور اسے بے عملی سے نکال کر مثبت جدوجہد کی طرف لے جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر نوجوان نسل قرآن کو محض تلاوت کی حد تک نہیں بلکہ فہم، تدبر اور عمل کی کتاب بنا لے تو انفرادی زندگی بھی سنور سکتی ہے اور اجتماعی تقدیر بھی بدل سکتی ہے۔ قرآن نوجوانوں کے ہاتھ میں ہو تو مایوسی امید میں، بے سمتی مقصد میں اور زوال عروج میں بدل سکتا ہے۔ یہی وہ رہنمائی ہے جس کی آج کی نوجوان نسل کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ززز


