من و سلویٰ

 

 

جعفر حسین ماپکر

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم (بنی اسرائیل) کی زندگی کا یہ باب انسانی نفسیات، اللہ کی بے پناہ رحمت اور پھر انسان کی ناشکری کی ایک عجیب داستان ہے۔
اس واقعے کا پس منظر اور انجام درج ذیل ہے:
​ پس من
ظر: صحرائے سینا کی تپتی دھوپ میں ، جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ( یہ قافلہ اریب قریب چھ لاکھ تھا) فرعون کے ظلم سے نجات دی اور سمندر پار کرایا، تو وہ ایک ایسے ریگستان (صحرائے سینا) میں پہنچے، جہاں دور دور تک نہ کوئی سایہ تھا، نہ اناج اور نہ ہی پانی
​بادلوں کا سایہ: اس شدید گرمی میں اللہ نے ان کی پہلی پکار سنی اور آسمان پر بادلوں کو حکم دیا کہ وہ ان پر چھتری بن کر سایہ فگن رہیں۔
آسمانی دسترخوان: جب بھوک نے ستایا تو اللہ نے زمین کے اسباب کے بجائے آسمان سے پکا پکایا کھانا نازل فرمایا۔ صبح کے وقت اوس کی طرح میٹھا "مَن” گرتا اور شام کے وقت پکے ہوئے کبابوں کی صورت میں "سلویٰ” (بٹیر پرندے) خود چل کر ان کے پاس آ جاتے۔
​شرط یہ تھی: "آج کا کھاؤ اور کل کے لیے ذخیرہ نہ کرو، کیونکہ تمہارا رب کل پھر دے گا۔” یہ محض کھانا نہیں، بلکہ ان کے توکل (بھروسے) کا امتحان تھا۔
​2 ناشکری کا آغاز: "ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے”
انسان کی فطرت ہے کہ وہ بہت جلد نعمتوں کا عادی ہو کر ان کی قدر کھو دیتا ہے۔ بنی اسرائیل نے بھی یہی کیا۔
ذخیرہ اندوزی: انہوں نے اللہ کے وعدے پر یقین کرنے کے بجائے کل کے ڈر سے کھانا چھپانا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ کھانا سڑنے لگا۔
​ادنیٰ کا مطالبہ: آخر کار انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے کہا: "اے موسیٰ! ہم ایک ہی طرح کے کھانے سے اکتا گئے ہیں۔ اپنے رب سے کہو کہ وہ زمین سے ہمارے لیے ساگ، ککڑی، لہسن، مسور اور پیاز اُگائے۔”
حضرت موسیٰؑ یہ سن کر حیران رہ گئے اور فرمایا: "کیا تم ایک بہتر چیز (آسمانی رزق) کے بدلے ادنیٰ چیز (زمین کی ترکاریاں) لینا چاہتے ہو؟”
​3 انجام: نعمت کی محرومی اور مشقت
جب کسی قوم کو بن مانگے اور بغیر مشقت کے بہترین رزق ملے اور وہ اس کی قدر نہ کرے، تو قانونِ قدرت حرکت میں آتا ہے۔
​نعمت کا چھن جانا: ان کی مسلسل ضد اور ناشکری کی وجہ سے وہ آسمانی دسترخوان (من و سلویٰ) بند کر دیا گیا۔
​ذلت اور مشقت: اللہ نے انہیں حکم دیا کہ اب شہروں میں جاؤ، وہاں تمہیں وہی ملے گا جو تم مانگ رہے ہو۔ اب انہیں اپنی مرضی کا کھانا حاصل کرنے کے لیے زمین کھودنی پڑی، ہل چلانا پڑا اور پسینہ بہانا پڑا۔
عبرت: قرآن بتاتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا تھا کیونکہ انہوں نے "اعلیٰ” کو چھوڑ کر "ادنیٰ” کو ترجیح دی۔
​حاصلِ کلام
من و سلویٰ کا قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب اللہ کی نعمتیں میسر ہوں تو "مزید” کی ہوس میں موجودہ نعمت کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے، ورنہ انسان آسانیوں سے نکل کر مشکلات کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

من و سلویٰ

 

 

جعفر حسین ماپکر

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم (بنی اسرائیل) کی زندگی کا یہ باب انسانی نفسیات، اللہ کی بے پناہ رحمت اور پھر انسان کی ناشکری کی ایک عجیب داستان ہے۔
اس واقعے کا پس منظر اور انجام درج ذیل ہے:
​ پس من
ظر: صحرائے سینا کی تپتی دھوپ میں ، جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ( یہ قافلہ اریب قریب چھ لاکھ تھا) فرعون کے ظلم سے نجات دی اور سمندر پار کرایا، تو وہ ایک ایسے ریگستان (صحرائے سینا) میں پہنچے، جہاں دور دور تک نہ کوئی سایہ تھا، نہ اناج اور نہ ہی پانی
​بادلوں کا سایہ: اس شدید گرمی میں اللہ نے ان کی پہلی پکار سنی اور آسمان پر بادلوں کو حکم دیا کہ وہ ان پر چھتری بن کر سایہ فگن رہیں۔
آسمانی دسترخوان: جب بھوک نے ستایا تو اللہ نے زمین کے اسباب کے بجائے آسمان سے پکا پکایا کھانا نازل فرمایا۔ صبح کے وقت اوس کی طرح میٹھا "مَن” گرتا اور شام کے وقت پکے ہوئے کبابوں کی صورت میں "سلویٰ” (بٹیر پرندے) خود چل کر ان کے پاس آ جاتے۔
​شرط یہ تھی: "آج کا کھاؤ اور کل کے لیے ذخیرہ نہ کرو، کیونکہ تمہارا رب کل پھر دے گا۔” یہ محض کھانا نہیں، بلکہ ان کے توکل (بھروسے) کا امتحان تھا۔
​2 ناشکری کا آغاز: "ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے”
انسان کی فطرت ہے کہ وہ بہت جلد نعمتوں کا عادی ہو کر ان کی قدر کھو دیتا ہے۔ بنی اسرائیل نے بھی یہی کیا۔
ذخیرہ اندوزی: انہوں نے اللہ کے وعدے پر یقین کرنے کے بجائے کل کے ڈر سے کھانا چھپانا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ کھانا سڑنے لگا۔
​ادنیٰ کا مطالبہ: آخر کار انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے کہا: "اے موسیٰ! ہم ایک ہی طرح کے کھانے سے اکتا گئے ہیں۔ اپنے رب سے کہو کہ وہ زمین سے ہمارے لیے ساگ، ککڑی، لہسن، مسور اور پیاز اُگائے۔”
حضرت موسیٰؑ یہ سن کر حیران رہ گئے اور فرمایا: "کیا تم ایک بہتر چیز (آسمانی رزق) کے بدلے ادنیٰ چیز (زمین کی ترکاریاں) لینا چاہتے ہو؟”
​3 انجام: نعمت کی محرومی اور مشقت
جب کسی قوم کو بن مانگے اور بغیر مشقت کے بہترین رزق ملے اور وہ اس کی قدر نہ کرے، تو قانونِ قدرت حرکت میں آتا ہے۔
​نعمت کا چھن جانا: ان کی مسلسل ضد اور ناشکری کی وجہ سے وہ آسمانی دسترخوان (من و سلویٰ) بند کر دیا گیا۔
​ذلت اور مشقت: اللہ نے انہیں حکم دیا کہ اب شہروں میں جاؤ، وہاں تمہیں وہی ملے گا جو تم مانگ رہے ہو۔ اب انہیں اپنی مرضی کا کھانا حاصل کرنے کے لیے زمین کھودنی پڑی، ہل چلانا پڑا اور پسینہ بہانا پڑا۔
عبرت: قرآن بتاتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ان پر ظلم نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا تھا کیونکہ انہوں نے "اعلیٰ” کو چھوڑ کر "ادنیٰ” کو ترجیح دی۔
​حاصلِ کلام
من و سلویٰ کا قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب اللہ کی نعمتیں میسر ہوں تو "مزید” کی ہوس میں موجودہ نعمت کی ناقدری نہیں کرنی چاہیے، ورنہ انسان آسانیوں سے نکل کر مشکلات کی دلدل میں پھنس جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں