وقارِ امت کے محافظ تھے شہید سید علی خامنہ ای (رح)

مجتبیٰ شجاعی

شہید انسانیت، شہیدِ راہِ حق، علم و عمل کے پیکر، استقامت کے استعارہ، وقارِ اُمّت کے محافظ، صدائے مظلوم کے ترجمان، اور عہدِ وفا کے امین رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رح) کی شہادت کوئی معمولی خبر نہ تھی۔ یہ تاریخ کے سینے پر لکھی گئی ایک سرخ سطر تھی۔ یہ کسی ایک فرد کی جدائی نہیں، ایک عہد کی تکمیل اور ایک نئے عزم کی ابتدا تھی۔ ایک ایسی آواز خاموش ہوئی جو کمزوروں کا حوصلہ تھی، مظلوموں کی ڈھارس تھی اور طاقت کے ایوانوں میں ضمیر کی صدا تھی۔ ان کی زندگی بھی پیغام تھی اور ان کی شہادت بھی پیغام، پیغامِ انکارِ ظلم، پیغامِ استقامت، اور پیغامِ انسانی وقار کی حفاظت کا۔
وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہ تھے۔ وہ فکر کا استعارہ، مزاحمت کا عنوان اور اخلاقی قیادت کا نمونہ تھے۔ اقتدار ان کے لیے تخت نہیں، ذمہ داری تھا۔ طاقت ان کے نزدیک برتری نہیں، امانت تھی اور قیادت حکمرانی نہیں، رہنمائی تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت خالص ہو تو سیاست بھی عبادت بن جاتی ہے اور اگر مقصد بلند ہو تو جدوجہد بھی عبادت کا درجہ پا لیتی ہے۔
ابتدائی زندگی علم، ریاضت اور شعوری بیداری سے عبارت تھی۔ دینی علوم میں مہارت، فقہی بصیرت اور فکری وسعت نے انہیں زمانے کے پیچیدہ سوالات کا سامنا کرنے کے قابل بنایا۔ مدرسے کی خاموش فضا سے نکل کر معاشرے کے ہنگاموں تک کا سفر اس یقین کے ساتھ طے کیا کہ دین صرف محراب و منبر تک محدود نہیں، بلکہ بازار، عدالت اور ایوانِ اقتدار تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ کتاب اللہ سے تعلق نے انہیں گہرائی دی اور زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے نے انہیں تاثیر بخشی۔
ان کی گفتگو میں دلیل کی قوت تھی، لہجے میں اعتماد کی حرارت اور فکر میں وسعت کا آسمان۔ وہ نوجوانوں سے مکالمہ کرتے تو امید کے چراغ روشن ہوتے۔ وہ علما سے خطاب کرتے تو اتحاد کی لہر دوڑ جاتی۔ وہ عوام سے بات کرتے تو نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور بیدار ہوتا۔ انہوں نے نئی نسل کو بتایا کہ نظریہ اندھی تقلید سے نہیں، شعوری وابستگی سے زندہ رہتا ہے۔ انہوں نے سکھایا کہ سائنسی پیش رفت اور روحانی بالیدگی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔
نجی زندگی سادگی اور تقویٰ کی درخشاں مثال تھی۔ اقتدار کے ایوانوں میں رہتے ہوئے بھی ان کا طرزِ زیست عام انسانوں جیسا تھا۔ رہائش میں سادگی، لباس میں اعتدال اور گفتگو میں انکسار۔یہ سب اس بات کا اعلان تھے کہ اصل عظمت کردار میں ہے، جاہ و جلال میں نہیں۔ جب رہنما خود سادہ اور دیانت دار ہو تو قوم میں بھی احتساب اور امانت کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ ان کی سادگی نے انہیں عوام کے دلوں کے قریب رکھا، اور یہی قربت ان کی اصل طاقت تھی۔
عالمی سیاست کے ہنگاموں میں انہوں نے بے لگام طاقت کے استعمال کو کھلے لفظوں میں چیلنج کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عالمی نظام انصاف سے خالی ہو جائے تو امن صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ پائیدار امن کو عدل کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا۔ خودمختاری اور قومی وقار کو بنیادی حق سمجھا گیا۔ اتحاد بین الانسانیت، اتحاد بین المذاہب اور اتحاد بین المسلمین کو عملی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا گیا۔ فرقہ واریت اور نسلی تعصب کو بیرونی مداخلت کا دروازہ قرار دے کر اس کے خلاف فکری جہاد کیا گیا۔
داخلی اور خارجی دباؤ کے باوجود توازن برقرار رکھنا ان کی قیادت کا امتیاز تھا۔ معاشی مشکلات ہوں یا سفارتی چیلنجز، علاقائی کشیدگی ہو یا عالمی دباؤ، فیصلے جذبات کی رو میں نہیں بلکہ تدبر کی روشنی میں کیے گئے۔ قوم کو مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑنے کے بجائے امید کا چراغ تھمایا گیا۔ عمر رسیدگی کے باوجود ذہنی تازگی اور فکری چستی نے یہ ثابت کیا کہ قیادت جسمانی طاقت سے نہیں، ارادے کی مضبوطی سے زندہ رہتی ہے۔
ان کی شجاعت محض الفاظ میں نہیں، عمل میں تھی۔ دباؤ کے لمحات میں بھی اصولوں سے انحراف نہ کیا گیا۔ اس پہلو میں ہمیں امام حسین کی سیرت کی جھلک نظر آتی ہے،حق پر قائم رہنا اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانا۔ سر دیا، دست نہ دیا،ان کے کردار کی عملی تفسیر تھی۔ انہوں نے وقتی مفادات کے عوض نظریاتی استقلال کو قربان کرنے سے انکار کیا۔ یہی انکار تاریخ میں امر ہو جاتا ہے۔
ثقافتی خود اعتمادی کو انہوں نے قومی بقا کی شرط قرار دیا۔ تعلیم، تحقیق اور سائنسی ترقی کو طاقت کا ستون بنایا۔ نوجوانوں کو خود انحصاری کا سبق دیا۔صرف معاشی نہیں بلکہ فکری خود مختاری کا۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ جو قوم اپنی تہذیب پر یقین رکھتی ہو، اسے کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔
عالمی منظرنامے میں جب بعض شیطانی اور درندہ صفت رہنماؤں جیسے ٹرمپ اور جنگی مجرم نتین یاہو کی پالیسیوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوا، تب بھی وقار اور استقلال کا راستہ ترک نہ کیا گیا۔ خوف کے سائے میں پسپائی اختیار کرنے کے بجائے اصولوں کی روشنی میں کھڑے رہنا ان کی پہچان رہا۔ انہوں نے دکھایا کہ نظریات کو دبایا جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
پھر وہ لمحہ آیا جب شہادت نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہ ایک عظیم آزمائش تھی۔ ایک رہنما کا فقدان تھا، مگر ایک نظریے کی نئی زندگی بھی۔ خونِ شہید نے پیغام کو مزید گہرا کر دیا۔ شہادت نے ثابت کیا کہ طاقت کی گھن گرج وقتی ہوتی ہے، مگر اصولوں کی صدا صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔ یہ قربانی تاریخ کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آج اگر آنکھیں اشکبار ہیں تو دل بھی عزم سے سرشار ہیں۔ یہ سانحہ صدمہ ضرور ہے، مگر بیداری کی صدا بھی ہے۔ انصاف، اتحاد اور انسانی وقار کی جدوجہد کو نئی توانائی ملی ہے۔ ان کی یاد صرف تعزیت کا عنوان نہیں، تحریک کا پیغام ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اس مشن کو شعوری طور پر آگے بڑھایا جائے ،اتحاد کو شعار بنایا جائے، اور انصاف کو عملی صورت دی جائے۔ یہی حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو عزت کے ساتھ جینے اور اصولوں کے ساتھ مرنے کا راستہ ہے۔
آج ہم سر جھکا کر سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ چراغ بجھا نہیں،یہ دلوں میں منتقل ہو کر مزید روشن ہو چکا ہے۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ سر دیا جا سکتا ہے، مگر دستِ اصول کبھی نہیں چھوڑا جاتا۔ خدا درجات بلند فرمائے اور ہمیں اس راستے پر ثابت قدم رکھے جس کی بنیاد انسانیت، عدل اور اتحاد پر رکھی گئی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

خواتین کے T20 ورلڈ کپ میں بھارت کی پاکستان پر بڑی فتح

جنگ نیوز بھارت نے خواتین کے T20 ورلڈ کپ کے...

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

تازہ ترین خبریں

خواتین کے T20 ورلڈ کپ میں بھارت کی پاکستان پر بڑی فتح

جنگ نیوز بھارت نے خواتین کے T20 ورلڈ کپ کے...

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

وقارِ امت کے محافظ تھے شہید سید علی خامنہ ای (رح)

مجتبیٰ شجاعی

شہید انسانیت، شہیدِ راہِ حق، علم و عمل کے پیکر، استقامت کے استعارہ، وقارِ اُمّت کے محافظ، صدائے مظلوم کے ترجمان، اور عہدِ وفا کے امین رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رح) کی شہادت کوئی معمولی خبر نہ تھی۔ یہ تاریخ کے سینے پر لکھی گئی ایک سرخ سطر تھی۔ یہ کسی ایک فرد کی جدائی نہیں، ایک عہد کی تکمیل اور ایک نئے عزم کی ابتدا تھی۔ ایک ایسی آواز خاموش ہوئی جو کمزوروں کا حوصلہ تھی، مظلوموں کی ڈھارس تھی اور طاقت کے ایوانوں میں ضمیر کی صدا تھی۔ ان کی زندگی بھی پیغام تھی اور ان کی شہادت بھی پیغام، پیغامِ انکارِ ظلم، پیغامِ استقامت، اور پیغامِ انسانی وقار کی حفاظت کا۔
وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہ تھے۔ وہ فکر کا استعارہ، مزاحمت کا عنوان اور اخلاقی قیادت کا نمونہ تھے۔ اقتدار ان کے لیے تخت نہیں، ذمہ داری تھا۔ طاقت ان کے نزدیک برتری نہیں، امانت تھی اور قیادت حکمرانی نہیں، رہنمائی تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت خالص ہو تو سیاست بھی عبادت بن جاتی ہے اور اگر مقصد بلند ہو تو جدوجہد بھی عبادت کا درجہ پا لیتی ہے۔
ابتدائی زندگی علم، ریاضت اور شعوری بیداری سے عبارت تھی۔ دینی علوم میں مہارت، فقہی بصیرت اور فکری وسعت نے انہیں زمانے کے پیچیدہ سوالات کا سامنا کرنے کے قابل بنایا۔ مدرسے کی خاموش فضا سے نکل کر معاشرے کے ہنگاموں تک کا سفر اس یقین کے ساتھ طے کیا کہ دین صرف محراب و منبر تک محدود نہیں، بلکہ بازار، عدالت اور ایوانِ اقتدار تک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ کتاب اللہ سے تعلق نے انہیں گہرائی دی اور زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے نے انہیں تاثیر بخشی۔
ان کی گفتگو میں دلیل کی قوت تھی، لہجے میں اعتماد کی حرارت اور فکر میں وسعت کا آسمان۔ وہ نوجوانوں سے مکالمہ کرتے تو امید کے چراغ روشن ہوتے۔ وہ علما سے خطاب کرتے تو اتحاد کی لہر دوڑ جاتی۔ وہ عوام سے بات کرتے تو نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور بیدار ہوتا۔ انہوں نے نئی نسل کو بتایا کہ نظریہ اندھی تقلید سے نہیں، شعوری وابستگی سے زندہ رہتا ہے۔ انہوں نے سکھایا کہ سائنسی پیش رفت اور روحانی بالیدگی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔
نجی زندگی سادگی اور تقویٰ کی درخشاں مثال تھی۔ اقتدار کے ایوانوں میں رہتے ہوئے بھی ان کا طرزِ زیست عام انسانوں جیسا تھا۔ رہائش میں سادگی، لباس میں اعتدال اور گفتگو میں انکسار۔یہ سب اس بات کا اعلان تھے کہ اصل عظمت کردار میں ہے، جاہ و جلال میں نہیں۔ جب رہنما خود سادہ اور دیانت دار ہو تو قوم میں بھی احتساب اور امانت کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ ان کی سادگی نے انہیں عوام کے دلوں کے قریب رکھا، اور یہی قربت ان کی اصل طاقت تھی۔
عالمی سیاست کے ہنگاموں میں انہوں نے بے لگام طاقت کے استعمال کو کھلے لفظوں میں چیلنج کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر عالمی نظام انصاف سے خالی ہو جائے تو امن صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔ پائیدار امن کو عدل کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا۔ خودمختاری اور قومی وقار کو بنیادی حق سمجھا گیا۔ اتحاد بین الانسانیت، اتحاد بین المذاہب اور اتحاد بین المسلمین کو عملی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا گیا۔ فرقہ واریت اور نسلی تعصب کو بیرونی مداخلت کا دروازہ قرار دے کر اس کے خلاف فکری جہاد کیا گیا۔
داخلی اور خارجی دباؤ کے باوجود توازن برقرار رکھنا ان کی قیادت کا امتیاز تھا۔ معاشی مشکلات ہوں یا سفارتی چیلنجز، علاقائی کشیدگی ہو یا عالمی دباؤ، فیصلے جذبات کی رو میں نہیں بلکہ تدبر کی روشنی میں کیے گئے۔ قوم کو مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑنے کے بجائے امید کا چراغ تھمایا گیا۔ عمر رسیدگی کے باوجود ذہنی تازگی اور فکری چستی نے یہ ثابت کیا کہ قیادت جسمانی طاقت سے نہیں، ارادے کی مضبوطی سے زندہ رہتی ہے۔
ان کی شجاعت محض الفاظ میں نہیں، عمل میں تھی۔ دباؤ کے لمحات میں بھی اصولوں سے انحراف نہ کیا گیا۔ اس پہلو میں ہمیں امام حسین کی سیرت کی جھلک نظر آتی ہے،حق پر قائم رہنا اور باطل کے سامنے سر نہ جھکانا۔ سر دیا، دست نہ دیا،ان کے کردار کی عملی تفسیر تھی۔ انہوں نے وقتی مفادات کے عوض نظریاتی استقلال کو قربان کرنے سے انکار کیا۔ یہی انکار تاریخ میں امر ہو جاتا ہے۔
ثقافتی خود اعتمادی کو انہوں نے قومی بقا کی شرط قرار دیا۔ تعلیم، تحقیق اور سائنسی ترقی کو طاقت کا ستون بنایا۔ نوجوانوں کو خود انحصاری کا سبق دیا۔صرف معاشی نہیں بلکہ فکری خود مختاری کا۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ جو قوم اپنی تہذیب پر یقین رکھتی ہو، اسے کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔
عالمی منظرنامے میں جب بعض شیطانی اور درندہ صفت رہنماؤں جیسے ٹرمپ اور جنگی مجرم نتین یاہو کی پالیسیوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوا، تب بھی وقار اور استقلال کا راستہ ترک نہ کیا گیا۔ خوف کے سائے میں پسپائی اختیار کرنے کے بجائے اصولوں کی روشنی میں کھڑے رہنا ان کی پہچان رہا۔ انہوں نے دکھایا کہ نظریات کو دبایا جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
پھر وہ لمحہ آیا جب شہادت نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہ ایک عظیم آزمائش تھی۔ ایک رہنما کا فقدان تھا، مگر ایک نظریے کی نئی زندگی بھی۔ خونِ شہید نے پیغام کو مزید گہرا کر دیا۔ شہادت نے ثابت کیا کہ طاقت کی گھن گرج وقتی ہوتی ہے، مگر اصولوں کی صدا صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔ یہ قربانی تاریخ کے حافظے میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آج اگر آنکھیں اشکبار ہیں تو دل بھی عزم سے سرشار ہیں۔ یہ سانحہ صدمہ ضرور ہے، مگر بیداری کی صدا بھی ہے۔ انصاف، اتحاد اور انسانی وقار کی جدوجہد کو نئی توانائی ملی ہے۔ ان کی یاد صرف تعزیت کا عنوان نہیں، تحریک کا پیغام ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اس مشن کو شعوری طور پر آگے بڑھایا جائے ،اتحاد کو شعار بنایا جائے، اور انصاف کو عملی صورت دی جائے۔ یہی حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو عزت کے ساتھ جینے اور اصولوں کے ساتھ مرنے کا راستہ ہے۔
آج ہم سر جھکا کر سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ چراغ بجھا نہیں،یہ دلوں میں منتقل ہو کر مزید روشن ہو چکا ہے۔ تاریخ گواہ رہے گی کہ سر دیا جا سکتا ہے، مگر دستِ اصول کبھی نہیں چھوڑا جاتا۔ خدا درجات بلند فرمائے اور ہمیں اس راستے پر ثابت قدم رکھے جس کی بنیاد انسانیت، عدل اور اتحاد پر رکھی گئی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں