طار ق رحمان جلاوطن سے وزیر اعظم تک

 

افضال انصای

تقدیر کا بھی کیا نرالا کھیل ہے۔کل را ہی آج راجہ ۔کہاںتوطارق رحمان گمنا می کی زندگی گذار رہے تھے اور آج سر پر حکو مت کا تا ج ہے ۔وہ 17 برس سے لندن میں جلاوطن تھے اور دیڑھ مہینہ پہلے 25 دسمبر 2025میں ڈھاکہ لو ٹے ۔اُن کی قسمت کھل اُٹھی ۔آئے اور وزیر اعظم بن گئے ۔نصیب ہو تو ایسا ۔ بنگلہ دیش کے 12 فروری کے انتخا ب میں ان کی پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کودو تہا ئی اکثریت حا صل ہوئی ہے ۔وہ بھی لڑے تھے ۔وہ دو سیٹ ڈھاکہ – 17 اوربوگرا -6 انتخا بی حلقوں سے کھڑے ہو ئے تھے اور دونوں میں جیت گئے ۔یہ طے ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے پر ان کو فا یز کیا جا ئے گا ۔اُن کی والدہ بیگم خالدہ ضیا حیا ت سے ہو تیں تونظریں اُدھر اُٹھتیں ۔ وہ نہیں رہیں تو ان کے بیٹے طارق رحمان کو ہی حکومت کی ذمہ داری ملے گی ۔انقلا بی ہنگا مے میں جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت گری تو وہ لندن میںجلا وطن تھے ۔وہ خالدہ ضیا کے انتقال سے صرف 5دن قبل لو ٹے تھے ۔پارٹی کے سکریٹری جنرل، مرزا فخرالاسلام کا کہنا ہے کہ دیر نہ کرتے ہو ئے حکو مت کی حلف برداری کی رسم اتوار 15 فروری کو ادا کی جا ئے گی ۔اس روز سے ایک نیا سیاسی سفر شروع ہوگا ۔عوامی لیگ مُکت بنگلہ دیش۔
بنگلہ دیش کی 55 سال کی سیاسی تاریخ میں اس کے قومی پارلیمنٹ جا تیو سنسد کا یہ 13 واں انتخاب تھا۔ملک 1971 میں بنا اوراس کا پہلا الیکشن 7 مارچ 1973 کو ہوا تھا ۔عوامی لیگ تمام انتخا بوںمیںحصہ لی مگراس بار شامل نہیں ہو ئی ۔ شیخ حسینہ واجد کی حکو مت کا 5 اگست 2024کو تختہ اُلٹا اور وہ فرار ہو گئیںتو اس پر پا بندی لگ گئی ۔محمد یو نس کی عبوری حکومت کا یہ غیر جمہوری فیصلہ ہے۔ اس کا مستقبل میںنتیجہ اچھا نہیں ہو گا ۔تاریخ کی اس سچائی کو کیسے جھٹلا یا جائے کہ عوامی لیگ کی قیادت میں ہی بنگلہ دیش آزاد ہوا تھا ۔اس پر پا بندی نہیں لگتی تو اچھا تھا۔حسینہ واجد کو جب من مانی کی سزا مل چکی تھی تو پھر یہ عتاب کیوں ؟ ۔برسوں سے قایم ایک پارٹی نظام (Party System) کومٹا دینا جمہوریت کیلئے تباہ کن ہے ۔رنج و غم کی چنگاریاں دل میں سلگتی رہتی ہیں۔کسی دن تو بھڑکیں گی ۔
بنگلہ دیش میں اگست 2024سے عبوری حکومت تھی ۔نوبل انعام یا فتہ اورما ہر معاشیات محمد یو نس اس کے نگراں اور آئینی صلاح کار تھے ۔انہوں نے حکومت کی ذمہ داریوں کو اچھے ڈھنگ سے نبھایا ۔اس میں قومی انتخا ب بھی شا مل ہے ۔وہ اپنی کا ر کر دگی سے بہت مطمئن ہیں ۔پولنگ کے اختتام کے بعد ان کا یہ تبصرہ سا منے آیا کہ رات کا ڈھل گیا اور ِ اُمید کی سحر شروع ہو ئی ۔
بنگلہ دیش میں ووٹ مشین (EVM) کے بجا ئے کاغذکے بیلٹ (Ballot Paper) سے ہو تا ہے ۔ووٹر کی تعداد تقریبا ً 13 کروڑ ہے ۔ووٹ کی گنتی ایک مرکزی مقام کے بجائے اسی بو تھ میں ہو تی ہے جہاں پولنگ کی کا روائی مکمل کی جا تی ہے ۔ پولنگ ختم اور گنتی شروع ۔بوتھ کائونٹنگ (Booth Counting) کے مکمل ہونے کے بعد ایک حلقے کے اعداد و شمارریٹرننگ آفیسر Returning Officer) ( کے دفتر میں جو ڑے (Compile) جا تے ہیں اور پھرنتیجے کا اعلا ن ہو تا ہے ۔
بنگلہ دیش کی انتخابی کاروایاں بہت تیز رفتار ہیں۔جمعرات 12 فروری کو الیکشن ہوا اور دوسرے ہی دن جمعہ 13 فروری کو نتیجے نکل آئے ۔ طارق رحمان کی قیادت میںبنگلہ دیش نیشنلست پارٹی BNP) ( نے شاندار کامیا بی حا صل کی ہے ۔اس کو 297میں سے 209 سیٹ ملیں جودو تہائی سے 11 زیادہ ہیں۔ جب کہ جماعت اسلا می بنگلہ دیش(JIB) کو 68، نیشنل سیٹی ز ن پارٹی(NCP) کو 6 اور دیگرچھوٹی پارٹیوں کو 14 سیٹ حا صل ہو ئی ہیں۔اکثریت 151میں ہے ۔نیشنل سیٹی ز ن پارٹی طا لب علموں کی سیاسی تنظیم ہے ۔حسینہ واجد کی حکومت کو گرا نے میں وہ پیش پیش تھے ۔اُن کی پکار پر ہی عوام لڑا ئی میں شا مل ہو ئے ۔ وہ آگے نہ ہو تے تو تختہ نہ پلٹتا۔ محمد یو نس کی عبوری حکومت میں ان کے لیڈر نا ہید اسلام اپنی تنظیم کی نمایندگی کر رہے تھے ۔ وہ بھی جیت گئے ہیں ۔بنگلہ دیش کے انقلاب پرست طلبا ٔ سیاست کا دامن پکڑ کر کامیا ب ہوئے لیکن جمہوری لڑائی میںا ن کی کا ر کردگی اطمینا ن بخش نہیں تھی ۔وہ جماعت اسلامی کی اتحادی پارٹی بن کر 14 سیٹ پر لڑے اور صرف 6 میں منتخب ہو ئے ۔
بنگلہ دیش کے جاتیو سنسد کے انتخابات کل 300 میں سے 297 سیٹ میں ہوئے ۔ایک پارلیمانی حلقہ میںاُمیدوار کے فوت ہو نے کی وجہ سے الیکشن ملتوی ہوگیا اور 2 کے نتیجے کو عدالت کے حکم پر رو ک دیا گیا ۔ووٹ کے ساتھ جولائی چارٹر (July Charter) پر ریفرنڈم بھی ہوا ۔بیلٹ پر انتخابی نشان میں مہر لگا نا تھا اور اس کے ساتھ ہاں(Yes) یا نہیں (NO) پر ٹِک کر نا تھا ۔ بی این پی کا انتخابی نشان دھان کی بالی ہے ۔عوامی لیگ گرچہ مقابلے میں نہیں تھی مگر دہندوں نے اپنے ووٹ کے حق کا بڑھ چڑھ کر استعما ل کیا ۔بتایا جا رہاہے کہ 55.88فیصدووٹ ڈالے گئے ۔ مجموعی طو ر پر انتخاب پر امن گذرا ۔ پولنگ بوتھ پر سیکوریٹی کا سخت پہرہ تھا ۔ہا ںتشدد کے ایک واقعہ کی خبر ہے جس میںایک شخص ہلاک ہو گیا ۔ لیکن بین الا قوامی انتخابی مشاہدین (Observers) گشت میں تھے اور کا روایوں کا جا ئزہ لے رہے تھے ۔ محمد یونس مبار ک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے الیکشن کی مشکل اور پیچیدہ کاروایوں کو پر امن طریقے سے انجام دیا ۔فوج اور پولیس کا اعتماد حا صل کیا اور عوام کو بھروسہ دلایا کہ اقتدار کی منتقلی میں دشواری نہیں ہو گی ۔
طارق رحمان کو ان کی شاندار کا میا بی پر ہر طرف سے مبارک باد مل رہے ہیں ۔ہندوستان کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بھی پیغام بھیجا ۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی صاحبہ ٹوئٹر X پر دلی خوشی کا اظہار کرتے ہو ئے طارق بھائی کہہ کر مخا طب ہو ئیں اور انہیں مبار با ددیں ۔اس مختصر حدیث ِ دل کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجیں کہ بنگلہ دیش کے تما م بھا ئیوں اور بہنوں کو رمضان کی پیشگی مبارک باد۔ سر حد کے دونوں جا نب کے پیار و الفت دیکھ کر دل جھوم اٹھتا ہے ۔طارق رحمان ایک تجربہ کا ر اور روشن خیال سیا ست داں ہیں ۔ان کے سا منے اپنے والد بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاالرحمان اور والدہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی مثا لیں ہیں۔وہ ملک کو بہتر طریقے سے چلائیں گے ۔ فضارابندر ناتھ ٹیگور کالکھا قومی ترانہ آمارسونار بنگلہ Amar Sonar Bangla) (سے گونج اٹھے گی ۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

طار ق رحمان جلاوطن سے وزیر اعظم تک

 

افضال انصای

تقدیر کا بھی کیا نرالا کھیل ہے۔کل را ہی آج راجہ ۔کہاںتوطارق رحمان گمنا می کی زندگی گذار رہے تھے اور آج سر پر حکو مت کا تا ج ہے ۔وہ 17 برس سے لندن میں جلاوطن تھے اور دیڑھ مہینہ پہلے 25 دسمبر 2025میں ڈھاکہ لو ٹے ۔اُن کی قسمت کھل اُٹھی ۔آئے اور وزیر اعظم بن گئے ۔نصیب ہو تو ایسا ۔ بنگلہ دیش کے 12 فروری کے انتخا ب میں ان کی پارٹی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کودو تہا ئی اکثریت حا صل ہوئی ہے ۔وہ بھی لڑے تھے ۔وہ دو سیٹ ڈھاکہ – 17 اوربوگرا -6 انتخا بی حلقوں سے کھڑے ہو ئے تھے اور دونوں میں جیت گئے ۔یہ طے ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے پر ان کو فا یز کیا جا ئے گا ۔اُن کی والدہ بیگم خالدہ ضیا حیا ت سے ہو تیں تونظریں اُدھر اُٹھتیں ۔ وہ نہیں رہیں تو ان کے بیٹے طارق رحمان کو ہی حکومت کی ذمہ داری ملے گی ۔انقلا بی ہنگا مے میں جب سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت گری تو وہ لندن میںجلا وطن تھے ۔وہ خالدہ ضیا کے انتقال سے صرف 5دن قبل لو ٹے تھے ۔پارٹی کے سکریٹری جنرل، مرزا فخرالاسلام کا کہنا ہے کہ دیر نہ کرتے ہو ئے حکو مت کی حلف برداری کی رسم اتوار 15 فروری کو ادا کی جا ئے گی ۔اس روز سے ایک نیا سیاسی سفر شروع ہوگا ۔عوامی لیگ مُکت بنگلہ دیش۔
بنگلہ دیش کی 55 سال کی سیاسی تاریخ میں اس کے قومی پارلیمنٹ جا تیو سنسد کا یہ 13 واں انتخاب تھا۔ملک 1971 میں بنا اوراس کا پہلا الیکشن 7 مارچ 1973 کو ہوا تھا ۔عوامی لیگ تمام انتخا بوںمیںحصہ لی مگراس بار شامل نہیں ہو ئی ۔ شیخ حسینہ واجد کی حکو مت کا 5 اگست 2024کو تختہ اُلٹا اور وہ فرار ہو گئیںتو اس پر پا بندی لگ گئی ۔محمد یو نس کی عبوری حکومت کا یہ غیر جمہوری فیصلہ ہے۔ اس کا مستقبل میںنتیجہ اچھا نہیں ہو گا ۔تاریخ کی اس سچائی کو کیسے جھٹلا یا جائے کہ عوامی لیگ کی قیادت میں ہی بنگلہ دیش آزاد ہوا تھا ۔اس پر پا بندی نہیں لگتی تو اچھا تھا۔حسینہ واجد کو جب من مانی کی سزا مل چکی تھی تو پھر یہ عتاب کیوں ؟ ۔برسوں سے قایم ایک پارٹی نظام (Party System) کومٹا دینا جمہوریت کیلئے تباہ کن ہے ۔رنج و غم کی چنگاریاں دل میں سلگتی رہتی ہیں۔کسی دن تو بھڑکیں گی ۔
بنگلہ دیش میں اگست 2024سے عبوری حکومت تھی ۔نوبل انعام یا فتہ اورما ہر معاشیات محمد یو نس اس کے نگراں اور آئینی صلاح کار تھے ۔انہوں نے حکومت کی ذمہ داریوں کو اچھے ڈھنگ سے نبھایا ۔اس میں قومی انتخا ب بھی شا مل ہے ۔وہ اپنی کا ر کر دگی سے بہت مطمئن ہیں ۔پولنگ کے اختتام کے بعد ان کا یہ تبصرہ سا منے آیا کہ رات کا ڈھل گیا اور ِ اُمید کی سحر شروع ہو ئی ۔
بنگلہ دیش میں ووٹ مشین (EVM) کے بجا ئے کاغذکے بیلٹ (Ballot Paper) سے ہو تا ہے ۔ووٹر کی تعداد تقریبا ً 13 کروڑ ہے ۔ووٹ کی گنتی ایک مرکزی مقام کے بجائے اسی بو تھ میں ہو تی ہے جہاں پولنگ کی کا روائی مکمل کی جا تی ہے ۔ پولنگ ختم اور گنتی شروع ۔بوتھ کائونٹنگ (Booth Counting) کے مکمل ہونے کے بعد ایک حلقے کے اعداد و شمارریٹرننگ آفیسر Returning Officer) ( کے دفتر میں جو ڑے (Compile) جا تے ہیں اور پھرنتیجے کا اعلا ن ہو تا ہے ۔
بنگلہ دیش کی انتخابی کاروایاں بہت تیز رفتار ہیں۔جمعرات 12 فروری کو الیکشن ہوا اور دوسرے ہی دن جمعہ 13 فروری کو نتیجے نکل آئے ۔ طارق رحمان کی قیادت میںبنگلہ دیش نیشنلست پارٹی BNP) ( نے شاندار کامیا بی حا صل کی ہے ۔اس کو 297میں سے 209 سیٹ ملیں جودو تہائی سے 11 زیادہ ہیں۔ جب کہ جماعت اسلا می بنگلہ دیش(JIB) کو 68، نیشنل سیٹی ز ن پارٹی(NCP) کو 6 اور دیگرچھوٹی پارٹیوں کو 14 سیٹ حا صل ہو ئی ہیں۔اکثریت 151میں ہے ۔نیشنل سیٹی ز ن پارٹی طا لب علموں کی سیاسی تنظیم ہے ۔حسینہ واجد کی حکومت کو گرا نے میں وہ پیش پیش تھے ۔اُن کی پکار پر ہی عوام لڑا ئی میں شا مل ہو ئے ۔ وہ آگے نہ ہو تے تو تختہ نہ پلٹتا۔ محمد یو نس کی عبوری حکومت میں ان کے لیڈر نا ہید اسلام اپنی تنظیم کی نمایندگی کر رہے تھے ۔ وہ بھی جیت گئے ہیں ۔بنگلہ دیش کے انقلاب پرست طلبا ٔ سیاست کا دامن پکڑ کر کامیا ب ہوئے لیکن جمہوری لڑائی میںا ن کی کا ر کردگی اطمینا ن بخش نہیں تھی ۔وہ جماعت اسلامی کی اتحادی پارٹی بن کر 14 سیٹ پر لڑے اور صرف 6 میں منتخب ہو ئے ۔
بنگلہ دیش کے جاتیو سنسد کے انتخابات کل 300 میں سے 297 سیٹ میں ہوئے ۔ایک پارلیمانی حلقہ میںاُمیدوار کے فوت ہو نے کی وجہ سے الیکشن ملتوی ہوگیا اور 2 کے نتیجے کو عدالت کے حکم پر رو ک دیا گیا ۔ووٹ کے ساتھ جولائی چارٹر (July Charter) پر ریفرنڈم بھی ہوا ۔بیلٹ پر انتخابی نشان میں مہر لگا نا تھا اور اس کے ساتھ ہاں(Yes) یا نہیں (NO) پر ٹِک کر نا تھا ۔ بی این پی کا انتخابی نشان دھان کی بالی ہے ۔عوامی لیگ گرچہ مقابلے میں نہیں تھی مگر دہندوں نے اپنے ووٹ کے حق کا بڑھ چڑھ کر استعما ل کیا ۔بتایا جا رہاہے کہ 55.88فیصدووٹ ڈالے گئے ۔ مجموعی طو ر پر انتخاب پر امن گذرا ۔ پولنگ بوتھ پر سیکوریٹی کا سخت پہرہ تھا ۔ہا ںتشدد کے ایک واقعہ کی خبر ہے جس میںایک شخص ہلاک ہو گیا ۔ لیکن بین الا قوامی انتخابی مشاہدین (Observers) گشت میں تھے اور کا روایوں کا جا ئزہ لے رہے تھے ۔ محمد یونس مبار ک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے الیکشن کی مشکل اور پیچیدہ کاروایوں کو پر امن طریقے سے انجام دیا ۔فوج اور پولیس کا اعتماد حا صل کیا اور عوام کو بھروسہ دلایا کہ اقتدار کی منتقلی میں دشواری نہیں ہو گی ۔
طارق رحمان کو ان کی شاندار کا میا بی پر ہر طرف سے مبارک باد مل رہے ہیں ۔ہندوستان کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بھی پیغام بھیجا ۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی صاحبہ ٹوئٹر X پر دلی خوشی کا اظہار کرتے ہو ئے طارق بھائی کہہ کر مخا طب ہو ئیں اور انہیں مبار با ددیں ۔اس مختصر حدیث ِ دل کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجیں کہ بنگلہ دیش کے تما م بھا ئیوں اور بہنوں کو رمضان کی پیشگی مبارک باد۔ سر حد کے دونوں جا نب کے پیار و الفت دیکھ کر دل جھوم اٹھتا ہے ۔طارق رحمان ایک تجربہ کا ر اور روشن خیال سیا ست داں ہیں ۔ان کے سا منے اپنے والد بنگلہ دیش کے سابق صدر ضیاالرحمان اور والدہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی مثا لیں ہیں۔وہ ملک کو بہتر طریقے سے چلائیں گے ۔ فضارابندر ناتھ ٹیگور کالکھا قومی ترانہ آمارسونار بنگلہ Amar Sonar Bangla) (سے گونج اٹھے گی ۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں