نذرانہ عقیدت: حضرت سیدشاہ قاسم حقانی

 

اشرف بن سلام
اومپورہ بڈگام

اللہ تعالیٰ کا کلام یعنی قرآن پاک اور حدیثِ رسولِ رحمت ﷺ کے بعد اگر کسی کلام کو بے پناہ عظمت و فضیلت حاصل ہے تو وہ اولیائے کرام کا کلام ہے، کیونکہ یہ کلام عشقِ الٰہی اور سیرتِ نبوی ﷺ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو میں ظاہری بناوٹ کے بجائے معرفتِ الٰہی اور حقیقی روحِ عشق ہوتی ہے، جو سننے والوں کے دلوں کو روشن کرکے حبِّ دنیا کو قالب سے نکال پھینک دیتی ہے۔ انہی حضرات کو اللہ تعالیٰ علمِ لدنی سے سرفراز فرما کر وارثینِ انبیاء علیہم السلام کا جانشین بناتا ہے۔
ان حضرات کا کلام براہِ راست دل کی گہرائیوں میں اتر کر ایمان میں تازگی اور معرفتِ الٰہی عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو مضبوط اور صاف و شفاف رکھ کر ان کی روحانی طاقت و توانائی میں اضافہ فرماتا ہے۔ اولیائے کرام کا کلام روحانی اور قلبی فیض کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ عبادت کے ساتھ ساتھ اللہ کے یہ نیک اور صالح بندے اپنی ذمہ داری کو ذہن میں رکھتے ہوئے مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنا خاصہ بناتے ہیں اور فکرِ رزق کے بجائے اللہ کی مرضی پر راضی رہتے ہوئے انسانیت کی خدمت میں خود کو وقف کر دیتے ہیں، کیونکہ ان کا ایمان انہیں کمال تک پہنچاتا ہے۔ جو لوگ کلامِ رب اور عشقِ رسول ﷺ پر کھرے اترتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو مضبوط اور صاف و شفاف رکھتا ہے اور ان کی روحانی طاقت و توانائی میں اضافہ فرماتا ہے۔ انہی حضرات کو دنیا میں بھی عزت ملتی ہے اور انتقال کے بعد بھی انہیں احترام سے یاد کیا جاتا ہے، گویا وہ زندہ ہیں۔
انبیاء علیہم السلام اور خلفائے راشدین کے بعد دینِ حق کی ذمہ داری اولیاء اللہ نے سنبھالی، اور ان بزرگوں کی بتائی ہوئی تعلیمات ہمیں دنیا میں ہر جگہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ ان کے مزارات جو دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں، آج بھی لوگوں کو اپنی جانب مائل کیے ہوئے ہیں۔ صوفیائے کرام کا پہلا طبقہ جس کے سرخیل حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ ہیں، اسی طرح دسویں صدی میں صوفیائے کرام کی تحریک اسلامی تصوف نے باقاعدہ ایک شکل اختیار کر لی۔ پھر دیگر صوفیائے کرام نے تصوف کے موضوع پر گراں قدر کتابیں تصنیف کیں۔ بعد میں سیدنا حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور سیدنا حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے تصوف کے حقیقی اسلامی اصولوں کے مطابق رشد و ہدایت کا عظیم سلسلہ جاری کیا۔ سیدنا غوثِ اعظم عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے دل کی صفائی اور اللہ سے تعلق پر زور دیا، جبکہ سیدنا حضرت امیر کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے اخلاق و تربیت پر زور دے کر تصوف کو بے مثال عروج بخشا، جس نے برصغیر سمیت پوری دنیا میں معرفتِ الٰہی اور روحانیت کی شمع روشن کی۔ حضرت شاہِ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کے بعد کشمیر میں بھی ان گنت صوفیائے کرام اور علمائے دین پیدا ہوئے، جو انتہائی مقبول اور ہر دلعزیز واعظ تھے اور جنہوں نے عام و خاص کو صوم و صلوٰۃ کا پابند اور سنتِ نبوی ﷺ کا پیروکار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام کی اصلاحِ نفس والی تحریک کے اثرات آج بھی لوگوں کے دلوں میں موجود ہیں۔ تاریخِ کشمیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وادی کو سیدنا حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے باغِ سلیمان کا خطاب عطا فرمایا تھا۔
حضرت سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کشمیر کے ایک مشہور و معروف ولیٔ کامل تھے۔ ان کے متعلق واقعاتِ کشمیر میں خواجہ اعظم دیدہ مری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت حقانی میر شمس الدین شامی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے تھے، جو حضرت شاہِ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کے قافلۂ حق کے ساتھ واردِ کشمیر ہوئے اور یہاں مستقل سکونت اختیار کرکے ان کے مشن کی خدمات انجام دیتے رہے اور اپنی پوری زندگی رشد و ہدایت میں بسر کی۔ آپ کی ذریت میں وادی کے مشہور و معروف ولیٔ کامل حضرت میر سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اور لطاف الحقانی کے مطابق میر شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ کا شجرۂ نسب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ یہ خاندان آج بھی وادیٔ کشمیر میں خاندانِ حقانیہ کے نام سے مشہور ہے اور سویہ بگ بڈگام میں سکونت پذیر ہے۔
حضرت سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کی قلندرانہ طرزِ حیات اور عارفانہ اندازِ فکر کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور اس عہد کے بڑے بڑے علما و فقرا آپ کی زیارت کے لیے آنے لگے۔ آپ کی دعا کی تاثیر کا چرچا ہر طرف پھیل گیا۔ ہر وقت ایک ہجوم آپ سے دعائیں لینے کے لیے موجود رہتا تھا۔ آپ وہ باکمال بزرگ تھے جن کی بات بات میں علم و فرقان کی حلاوت تھی، جن کی ہر حرکت میں تعبد کی شان جلوہ گر تھی اور جن کے ہر عمل میں عزیمت اور حسنِ کاری نمایاں تھا۔ الغرض اس مردِ قلندر کی حیاتِ طیبہ ایمان و ایقان، علم و عرفان، مجاہدات و مراقبات، عشق و مستی اور خلوص و وفا کا ایسا حسین مرقع تھی کہ دل بے اختیار مائل ہوتا، احترام و عقیدت کے جذبات خود بہ خود ابھرتے اور ان کی عظمت کے نقوش گہرے ہوتے چلے جاتے۔ آپ انسانیت، تصوف اور کردار و عمل کی وہ عظیم المرتبت ہستی تھے جو تقریباً چار سو برس گزرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
سرمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
اے سرمد، غمِ عشق کسی بوالہوس کو نہیں دیا جاتا۔ پروانے کے دل کا سوز کسی شہد کی مکھی کو نہیں دیا جاتا۔ عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے۔ یہ سرمدی اور دائمی دولت ہر کسی کو نہیں دی جاتی۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ہمارا دلدار ہم سے خوش ہے۔ ہر دم اور ہر لحظہ اس کے جود و کرم مجھ پر ہیں۔ اس مہر و محبت میں مجھے ذرہ بھر نقصان نہیں پہنچا، کہ میرے دل نے جو سودا کیا ہے وہ سراسر منافع ہی ہے۔
داغ بلنداں طلب اے ہوشمند
تا شوی از داغ بلنداں بلند
ترجمہ: اے عقلمند، بلند خیال لوگوں کی صحبت تلاش کر تاکہ ان کی نسبت سے تو بھی بلند ہو جائے۔
حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے جدِ امجد حضرت سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لطاف الحقانی میں لکھتے ہیں کہ آپ کی ولادت 29 ماہ رجب 958 ہجری مطابق 1551 عیسوی کو ہوئی۔ سید عزیز اللہ حقانی رحمۃ اللہ علیہ ایک بلند مرتبہ روحانی بزرگ تھے جو بیک وقت عالم، صوفی، ادیب، مفکر، مصلح اور مورخ تھے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ جو تبرکات حضرت میر سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے مرشدین سے حاصل ہوئے، ان میں قدمِ مبارک حضرت سید المرسلین ﷺ جو سرخ پتھر پر نقش ہے اور جسے آپ مدینہ طیبہ سے لائے، جامعۂ مبارک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سورۂ فاتحہ جو خطِ کوفی میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے تحریر فرمائی، سر چادری شریف سیدہ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، کرتہ و کمربند شریف حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ، لونگی و کشتی شریف حضرت خواجہ معین الدین چشتی، خرقہ و تسبیح حضرت میر سید علی ہمدانی، کلاہ مبارک حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند اور عصائے مبارک شامل ہیں۔ یہ تمام تبرکات چودہ خانوادہ کے مرشدوں اور مشائخ کی عنایات و اجازت سے آپ کو حاصل ہوئے اور آج تک اس خاندان کے پاس محفوظ ہیں۔
روحانی مقام کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں اللہ تعالیٰ اور سرورِ انبیاء ﷺ سے تعلق، کامل روحانی استاد کی صحبت، اور خود کو حسد، غرور، خواہشاتِ نفس اور لالچ جیسی بیماریوں سے پاک کرنا شامل ہے۔ جب تک دل صاف نہ ہو، روحانیت کا نور انسان کے اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ جب یہ مرحلہ طے ہو جائے تو روحانی سفر کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں اور انسان کو وہ بلند مقام عطا ہوتا ہے جہاں اس پر حقائق واضح ہونے لگتے ہیں اور اسے باطنی بصیرت نصیب ہوتی ہے۔
تصوف اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اس راہ کو وہی پاسکتا ہے جو کتاب اللہ کو دائیں ہاتھ میں اور سنتِ رسول ﷺ کو بائیں ہاتھ میں لے کر ان دونوں چراغوں کی روشنی میں راہِ سلوک طے کرے تاکہ گمراہی اور بدعت کی تاریکی میں نہ گرے۔ یہ وہ علم ہے جس کے ذریعے نفس کا تزکیہ، اخلاق کی صفائی اور ظاہر و باطن کی تعمیر کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ راہِ سلوک اور حقیقی معرفتِ الٰہی کا دارومدار مکمل طور پر قرآن و سنت کی اتباع پر ہے۔
آج کے دور میں تصوف کے نام پر بہت سے ایسے اعمال کیے جا رہے ہیں جن کا تصوف سے کوئی تعلق نہیں۔ تصوف کو جس مفہوم میں پیش کیا جا رہا ہے وہ اسلامی نقطۂ نظر کے خلاف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حقیقی تصوف کو کتاب و سنت کی روشنی میں از سر نو متعارف کرایا جائے، کیونکہ تصوف دینِ اسلام سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ شریعت کی پابندی کے ساتھ تزکیۂ نفس کا نام ہے۔ افسوس کہ کچھ نقلی درویشوں نے اسے حصولِ دنیا کا ذریعہ بنا لیا ہے اور چند نام نہاد پیروں نے اسے محض ظاہری رسومات اور دنیاوی مفادات تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ پیری مریدی کی اصل روح تزکیۂ نفس تھی۔
دنیا میں آنا درحقیقت آخرت کی طرف سفر کی تمہید ہے۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا اور قبر کے دروازے سے داخل ہونا ہے۔ اسی طرح یہ آسمانِ تصوف کے درخشندہ آفتاب، شریعت کے علمبردار اور مجلسِ روحانی کے راہبر حضرت سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ 75 برس کی عمر میں 29 ربیع الثانی 1033 ہجری مطابق 29 پھاگن کو عالمِ جاودانی کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ کو نرپرستان فتح کدل میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آپ کا آستانۂ عالیہ آج بھی موجود ہے اور راہِ حق کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس بندے اور راہِ حق کے عظیم مجاہد کے فیوض کو تا قیامت جاری رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری وادی کو ہر بلا اور ہر مصیبت سے محفوظ رکھے اور ہمیں توحید و سنتِ رسول ﷺ کے ساتھ صالحین و اولیائے کاملین کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بطفیل سید المرسلین ﷺ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

نذرانہ عقیدت: حضرت سیدشاہ قاسم حقانی

 

اشرف بن سلام
اومپورہ بڈگام

اللہ تعالیٰ کا کلام یعنی قرآن پاک اور حدیثِ رسولِ رحمت ﷺ کے بعد اگر کسی کلام کو بے پناہ عظمت و فضیلت حاصل ہے تو وہ اولیائے کرام کا کلام ہے، کیونکہ یہ کلام عشقِ الٰہی اور سیرتِ نبوی ﷺ کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو میں ظاہری بناوٹ کے بجائے معرفتِ الٰہی اور حقیقی روحِ عشق ہوتی ہے، جو سننے والوں کے دلوں کو روشن کرکے حبِّ دنیا کو قالب سے نکال پھینک دیتی ہے۔ انہی حضرات کو اللہ تعالیٰ علمِ لدنی سے سرفراز فرما کر وارثینِ انبیاء علیہم السلام کا جانشین بناتا ہے۔
ان حضرات کا کلام براہِ راست دل کی گہرائیوں میں اتر کر ایمان میں تازگی اور معرفتِ الٰہی عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو مضبوط اور صاف و شفاف رکھ کر ان کی روحانی طاقت و توانائی میں اضافہ فرماتا ہے۔ اولیائے کرام کا کلام روحانی اور قلبی فیض کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ عبادت کے ساتھ ساتھ اللہ کے یہ نیک اور صالح بندے اپنی ذمہ داری کو ذہن میں رکھتے ہوئے مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنا خاصہ بناتے ہیں اور فکرِ رزق کے بجائے اللہ کی مرضی پر راضی رہتے ہوئے انسانیت کی خدمت میں خود کو وقف کر دیتے ہیں، کیونکہ ان کا ایمان انہیں کمال تک پہنچاتا ہے۔ جو لوگ کلامِ رب اور عشقِ رسول ﷺ پر کھرے اترتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو مضبوط اور صاف و شفاف رکھتا ہے اور ان کی روحانی طاقت و توانائی میں اضافہ فرماتا ہے۔ انہی حضرات کو دنیا میں بھی عزت ملتی ہے اور انتقال کے بعد بھی انہیں احترام سے یاد کیا جاتا ہے، گویا وہ زندہ ہیں۔
انبیاء علیہم السلام اور خلفائے راشدین کے بعد دینِ حق کی ذمہ داری اولیاء اللہ نے سنبھالی، اور ان بزرگوں کی بتائی ہوئی تعلیمات ہمیں دنیا میں ہر جگہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ ان کے مزارات جو دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں، آج بھی لوگوں کو اپنی جانب مائل کیے ہوئے ہیں۔ صوفیائے کرام کا پہلا طبقہ جس کے سرخیل حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ ہیں، اسی طرح دسویں صدی میں صوفیائے کرام کی تحریک اسلامی تصوف نے باقاعدہ ایک شکل اختیار کر لی۔ پھر دیگر صوفیائے کرام نے تصوف کے موضوع پر گراں قدر کتابیں تصنیف کیں۔ بعد میں سیدنا حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور سیدنا حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے تصوف کے حقیقی اسلامی اصولوں کے مطابق رشد و ہدایت کا عظیم سلسلہ جاری کیا۔ سیدنا غوثِ اعظم عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے دل کی صفائی اور اللہ سے تعلق پر زور دیا، جبکہ سیدنا حضرت امیر کبیر رحمۃ اللہ علیہ نے اخلاق و تربیت پر زور دے کر تصوف کو بے مثال عروج بخشا، جس نے برصغیر سمیت پوری دنیا میں معرفتِ الٰہی اور روحانیت کی شمع روشن کی۔ حضرت شاہِ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کے بعد کشمیر میں بھی ان گنت صوفیائے کرام اور علمائے دین پیدا ہوئے، جو انتہائی مقبول اور ہر دلعزیز واعظ تھے اور جنہوں نے عام و خاص کو صوم و صلوٰۃ کا پابند اور سنتِ نبوی ﷺ کا پیروکار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام کی اصلاحِ نفس والی تحریک کے اثرات آج بھی لوگوں کے دلوں میں موجود ہیں۔ تاریخِ کشمیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وادی کو سیدنا حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے باغِ سلیمان کا خطاب عطا فرمایا تھا۔
حضرت سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کشمیر کے ایک مشہور و معروف ولیٔ کامل تھے۔ ان کے متعلق واقعاتِ کشمیر میں خواجہ اعظم دیدہ مری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضرت حقانی میر شمس الدین شامی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے تھے، جو حضرت شاہِ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کے قافلۂ حق کے ساتھ واردِ کشمیر ہوئے اور یہاں مستقل سکونت اختیار کرکے ان کے مشن کی خدمات انجام دیتے رہے اور اپنی پوری زندگی رشد و ہدایت میں بسر کی۔ آپ کی ذریت میں وادی کے مشہور و معروف ولیٔ کامل حضرت میر سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اور لطاف الحقانی کے مطابق میر شمس الدین رحمۃ اللہ علیہ کا شجرۂ نسب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔ یہ خاندان آج بھی وادیٔ کشمیر میں خاندانِ حقانیہ کے نام سے مشہور ہے اور سویہ بگ بڈگام میں سکونت پذیر ہے۔
حضرت سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کی قلندرانہ طرزِ حیات اور عارفانہ اندازِ فکر کی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور اس عہد کے بڑے بڑے علما و فقرا آپ کی زیارت کے لیے آنے لگے۔ آپ کی دعا کی تاثیر کا چرچا ہر طرف پھیل گیا۔ ہر وقت ایک ہجوم آپ سے دعائیں لینے کے لیے موجود رہتا تھا۔ آپ وہ باکمال بزرگ تھے جن کی بات بات میں علم و فرقان کی حلاوت تھی، جن کی ہر حرکت میں تعبد کی شان جلوہ گر تھی اور جن کے ہر عمل میں عزیمت اور حسنِ کاری نمایاں تھا۔ الغرض اس مردِ قلندر کی حیاتِ طیبہ ایمان و ایقان، علم و عرفان، مجاہدات و مراقبات، عشق و مستی اور خلوص و وفا کا ایسا حسین مرقع تھی کہ دل بے اختیار مائل ہوتا، احترام و عقیدت کے جذبات خود بہ خود ابھرتے اور ان کی عظمت کے نقوش گہرے ہوتے چلے جاتے۔ آپ انسانیت، تصوف اور کردار و عمل کی وہ عظیم المرتبت ہستی تھے جو تقریباً چار سو برس گزرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
سرمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
اے سرمد، غمِ عشق کسی بوالہوس کو نہیں دیا جاتا۔ پروانے کے دل کا سوز کسی شہد کی مکھی کو نہیں دیا جاتا۔ عمریں گزر جاتی ہیں اور پھر کہیں جا کر یار کا وصال نصیب ہوتا ہے۔ یہ سرمدی اور دائمی دولت ہر کسی کو نہیں دی جاتی۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ ہمارا دلدار ہم سے خوش ہے۔ ہر دم اور ہر لحظہ اس کے جود و کرم مجھ پر ہیں۔ اس مہر و محبت میں مجھے ذرہ بھر نقصان نہیں پہنچا، کہ میرے دل نے جو سودا کیا ہے وہ سراسر منافع ہی ہے۔
داغ بلنداں طلب اے ہوشمند
تا شوی از داغ بلنداں بلند
ترجمہ: اے عقلمند، بلند خیال لوگوں کی صحبت تلاش کر تاکہ ان کی نسبت سے تو بھی بلند ہو جائے۔
حضرت میر سید عزیز اللہ حقانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے جدِ امجد حضرت سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق لطاف الحقانی میں لکھتے ہیں کہ آپ کی ولادت 29 ماہ رجب 958 ہجری مطابق 1551 عیسوی کو ہوئی۔ سید عزیز اللہ حقانی رحمۃ اللہ علیہ ایک بلند مرتبہ روحانی بزرگ تھے جو بیک وقت عالم، صوفی، ادیب، مفکر، مصلح اور مورخ تھے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ جو تبرکات حضرت میر سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے مرشدین سے حاصل ہوئے، ان میں قدمِ مبارک حضرت سید المرسلین ﷺ جو سرخ پتھر پر نقش ہے اور جسے آپ مدینہ طیبہ سے لائے، جامعۂ مبارک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سورۂ فاتحہ جو خطِ کوفی میں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے تحریر فرمائی، سر چادری شریف سیدہ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا، کرتہ و کمربند شریف حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ، لونگی و کشتی شریف حضرت خواجہ معین الدین چشتی، خرقہ و تسبیح حضرت میر سید علی ہمدانی، کلاہ مبارک حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند اور عصائے مبارک شامل ہیں۔ یہ تمام تبرکات چودہ خانوادہ کے مرشدوں اور مشائخ کی عنایات و اجازت سے آپ کو حاصل ہوئے اور آج تک اس خاندان کے پاس محفوظ ہیں۔
روحانی مقام کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں اللہ تعالیٰ اور سرورِ انبیاء ﷺ سے تعلق، کامل روحانی استاد کی صحبت، اور خود کو حسد، غرور، خواہشاتِ نفس اور لالچ جیسی بیماریوں سے پاک کرنا شامل ہے۔ جب تک دل صاف نہ ہو، روحانیت کا نور انسان کے اندر داخل نہیں ہوسکتا۔ جب یہ مرحلہ طے ہو جائے تو روحانی سفر کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں اور انسان کو وہ بلند مقام عطا ہوتا ہے جہاں اس پر حقائق واضح ہونے لگتے ہیں اور اسے باطنی بصیرت نصیب ہوتی ہے۔
تصوف اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔ اس راہ کو وہی پاسکتا ہے جو کتاب اللہ کو دائیں ہاتھ میں اور سنتِ رسول ﷺ کو بائیں ہاتھ میں لے کر ان دونوں چراغوں کی روشنی میں راہِ سلوک طے کرے تاکہ گمراہی اور بدعت کی تاریکی میں نہ گرے۔ یہ وہ علم ہے جس کے ذریعے نفس کا تزکیہ، اخلاق کی صفائی اور ظاہر و باطن کی تعمیر کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ راہِ سلوک اور حقیقی معرفتِ الٰہی کا دارومدار مکمل طور پر قرآن و سنت کی اتباع پر ہے۔
آج کے دور میں تصوف کے نام پر بہت سے ایسے اعمال کیے جا رہے ہیں جن کا تصوف سے کوئی تعلق نہیں۔ تصوف کو جس مفہوم میں پیش کیا جا رہا ہے وہ اسلامی نقطۂ نظر کے خلاف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حقیقی تصوف کو کتاب و سنت کی روشنی میں از سر نو متعارف کرایا جائے، کیونکہ تصوف دینِ اسلام سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ شریعت کی پابندی کے ساتھ تزکیۂ نفس کا نام ہے۔ افسوس کہ کچھ نقلی درویشوں نے اسے حصولِ دنیا کا ذریعہ بنا لیا ہے اور چند نام نہاد پیروں نے اسے محض ظاہری رسومات اور دنیاوی مفادات تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ پیری مریدی کی اصل روح تزکیۂ نفس تھی۔
دنیا میں آنا درحقیقت آخرت کی طرف سفر کی تمہید ہے۔ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا اور قبر کے دروازے سے داخل ہونا ہے۔ اسی طرح یہ آسمانِ تصوف کے درخشندہ آفتاب، شریعت کے علمبردار اور مجلسِ روحانی کے راہبر حضرت سید شاہ قاسم حقانی رحمۃ اللہ علیہ 75 برس کی عمر میں 29 ربیع الثانی 1033 ہجری مطابق 29 پھاگن کو عالمِ جاودانی کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ کو نرپرستان فتح کدل میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آپ کا آستانۂ عالیہ آج بھی موجود ہے اور راہِ حق کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس مقدس بندے اور راہِ حق کے عظیم مجاہد کے فیوض کو تا قیامت جاری رکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری وادی کو ہر بلا اور ہر مصیبت سے محفوظ رکھے اور ہمیں توحید و سنتِ رسول ﷺ کے ساتھ صالحین و اولیائے کاملین کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین بطفیل سید المرسلین ﷺ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں