مدیران اخبار کے نام ایک کھلا خط


خورشید ریشی
کپوارہ، کشمیر

محترم مدیرانِ کرام!
السلام علیکم
اخبار صرف سرخی نہیں، سنجیدگی ہے؛
صرف اطلاع نہیں، بصیرت ہے؛
صرف اشاعت نہیں، امانت ہے؛
صرف تجارت نہیں، خدمت ہے۔
یہ خبر بھی ہے، نظر بھی؛
یہ شعور بھی ہے، سرور بھی؛
یہ ماضی بھی ہے، حال بھی؛
یہ رہنمائی بھی ہے، روشنائی بھی۔
آج یہی اخبار، جو کبھی ہر گھر کی زینت اور ہر ذہن کی ضرورت تھا، رفتہ رفتہ ہماری نئی نسل کی ترجیحات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔موبائل کی چمک نے مطالعے کی دمک کو مدھم کر دیا ہے، اسکرین کی روشنی نے علم کی روشنی کو دھندلا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اخبار کو پھر سے در و دیوار تک کیسے پہنچایا جائے
خبر کو پھر سے گھر گھر کیسے بسایا جائے
 چند روز بعد نئے تعلیمی سال کی شروعات ہونے جا رہی ہے ،نئی کتابیں، نئے بستے؛ نئے خواب، نئے جذبے – تو یہ وقت محض تعلیمی اداروں کے لئے نہیں بلکہ اخبارات کے لئے بھی تجدیدِ عہد کا لمحہ ہے۔ سال بھر اسکولوں اور کالجوں میں علمی، ادبی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ اگر ان سرگرمیوں کو مناسب جگہ دی جائے تو اخبار نئی نسل کے لئے فخر بھی بنے گا اور شوق بھی۔
لیکن میرا ماننا ہے کہ اخبار صرف بچوں کے لئے نہیں، بڑوں کے لئے بھی؛ صرف نوجوانوں کے لئے نہیں، بزرگوں کے لئے بھی ہونا چاہیے۔ یہ نہیں لگنا چاہیے کہ اگر کسی دن بچوں کی تصویر شائع ہوئی تو اخبار صرف بچوں کا ہو گیا اور گھر کے باقی افراد کا اس سے کوئی تعلق نہ رہا۔
اخبار ایسا ہو جس میں:
بچوں کے لئے علم بھی ہو، ہنر بھی؛
نوجوانوں کے لئے رہنمائی بھی ہو، آگاہی بھی؛
خواتین کے لئے صحت بھی ہو، سہولت بھی؛
بزرگوں کے لئے ماضی کی یادیں بھی ہوں، تہذیبی جڑیں بھی۔
ماضی کے قصے، پرانی روایتیں، ہمارے بزرگوں کی داستانیں – یہ سب وہ سرمایہ ہیں جو اخبار کے صفحات کو وقار دیتے ہیں۔ جب بزرگ اخبار میں اپنے عہد کی جھلک دیکھیں گے تو وہ اسے صرف پڑھیں گے نہیں، محسوس بھی کریں گے؛ صرف دیکھیں گے نہیں، جئیں گے بھی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اخبارات میں ایک انقلابی تبدیلی، ایک تخلیقی جدت، ایک فکری تازگی لائی جائے۔ کچھ ایسے ہفتہ وار کالم ہوں جن کا قارئین کو شدت سے انتظار رہے؛ کچھ ایسے سلسلے ہوں جنہیں پڑھے بغیر قاری کو دن ادھورا محسوس ہو۔ صحت کے موضوعات، تعلیمی رہنمائی، کھیل کود کی خبریں، سماجی مشاورت، فکری مضامین – ہر عمر، ہر فکر اور ہر ذوق کے لئے کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔
یاد کیجیے وہ زمانہ –
جب شام ڈھلتی تھی تو بزرگوں کے ہاتھ میں اخبار ہوتا تھا؛
جب میوے کے ساتھ مطالعہ بھی ہوتا تھا؛
جب بازاروں اور گاؤں کی چوپالوں میں پانچ چھ افراد مل کر ایک ہی اخبار پڑھتے، سمجھتے، سناتے نظر آتے تھے۔
اگر گھر کا بڑا بازار سے کچھ نہ لاتا تو بھی اس کے ہاتھ میں کم از کم اخبار ضرور ہوتا تھا۔ وہ اخبار محض کاغذ نہیں، وقار تھا؛ محض خبر نہیں، اثر تھا۔
آج پھر وہی منظر لوٹ سکتا ہے –
اگر اخبار میں ہر طبقے کا احترام ہو؛
ہر عمر کا اہتمام ہو؛
ہر ذوق کا انتظام ہو۔
مدیرانِ محترم!
اخبار اگر صرف اختلاف کی آواز نہیں بلکہ اتفاق کی بنیاد بن جائے؛
صرف سیاست کا عنوان نہیں بلکہ سماج کا ترجمان بن جائے؛
صرف لمحے کی خبر نہیں بلکہ صدی کی فکر بن جائے؛
تو یقیناً اخبار بینی کا شوق پھر سے زندہ ہوگا۔
آئیے اخبار کو پھر سے معیار بھی بنائیں، وقار بھی؛
ضرورت بھی بنائیں، محبت بھی؛
عادت بھی بنائیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

مدیران اخبار کے نام ایک کھلا خط


خورشید ریشی
کپوارہ، کشمیر

محترم مدیرانِ کرام!
السلام علیکم
اخبار صرف سرخی نہیں، سنجیدگی ہے؛
صرف اطلاع نہیں، بصیرت ہے؛
صرف اشاعت نہیں، امانت ہے؛
صرف تجارت نہیں، خدمت ہے۔
یہ خبر بھی ہے، نظر بھی؛
یہ شعور بھی ہے، سرور بھی؛
یہ ماضی بھی ہے، حال بھی؛
یہ رہنمائی بھی ہے، روشنائی بھی۔
آج یہی اخبار، جو کبھی ہر گھر کی زینت اور ہر ذہن کی ضرورت تھا، رفتہ رفتہ ہماری نئی نسل کی ترجیحات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔موبائل کی چمک نے مطالعے کی دمک کو مدھم کر دیا ہے، اسکرین کی روشنی نے علم کی روشنی کو دھندلا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اخبار کو پھر سے در و دیوار تک کیسے پہنچایا جائے
خبر کو پھر سے گھر گھر کیسے بسایا جائے
 چند روز بعد نئے تعلیمی سال کی شروعات ہونے جا رہی ہے ،نئی کتابیں، نئے بستے؛ نئے خواب، نئے جذبے – تو یہ وقت محض تعلیمی اداروں کے لئے نہیں بلکہ اخبارات کے لئے بھی تجدیدِ عہد کا لمحہ ہے۔ سال بھر اسکولوں اور کالجوں میں علمی، ادبی، ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ اگر ان سرگرمیوں کو مناسب جگہ دی جائے تو اخبار نئی نسل کے لئے فخر بھی بنے گا اور شوق بھی۔
لیکن میرا ماننا ہے کہ اخبار صرف بچوں کے لئے نہیں، بڑوں کے لئے بھی؛ صرف نوجوانوں کے لئے نہیں، بزرگوں کے لئے بھی ہونا چاہیے۔ یہ نہیں لگنا چاہیے کہ اگر کسی دن بچوں کی تصویر شائع ہوئی تو اخبار صرف بچوں کا ہو گیا اور گھر کے باقی افراد کا اس سے کوئی تعلق نہ رہا۔
اخبار ایسا ہو جس میں:
بچوں کے لئے علم بھی ہو، ہنر بھی؛
نوجوانوں کے لئے رہنمائی بھی ہو، آگاہی بھی؛
خواتین کے لئے صحت بھی ہو، سہولت بھی؛
بزرگوں کے لئے ماضی کی یادیں بھی ہوں، تہذیبی جڑیں بھی۔
ماضی کے قصے، پرانی روایتیں، ہمارے بزرگوں کی داستانیں – یہ سب وہ سرمایہ ہیں جو اخبار کے صفحات کو وقار دیتے ہیں۔ جب بزرگ اخبار میں اپنے عہد کی جھلک دیکھیں گے تو وہ اسے صرف پڑھیں گے نہیں، محسوس بھی کریں گے؛ صرف دیکھیں گے نہیں، جئیں گے بھی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اخبارات میں ایک انقلابی تبدیلی، ایک تخلیقی جدت، ایک فکری تازگی لائی جائے۔ کچھ ایسے ہفتہ وار کالم ہوں جن کا قارئین کو شدت سے انتظار رہے؛ کچھ ایسے سلسلے ہوں جنہیں پڑھے بغیر قاری کو دن ادھورا محسوس ہو۔ صحت کے موضوعات، تعلیمی رہنمائی، کھیل کود کی خبریں، سماجی مشاورت، فکری مضامین – ہر عمر، ہر فکر اور ہر ذوق کے لئے کچھ نہ کچھ ہونا چاہیے۔
یاد کیجیے وہ زمانہ –
جب شام ڈھلتی تھی تو بزرگوں کے ہاتھ میں اخبار ہوتا تھا؛
جب میوے کے ساتھ مطالعہ بھی ہوتا تھا؛
جب بازاروں اور گاؤں کی چوپالوں میں پانچ چھ افراد مل کر ایک ہی اخبار پڑھتے، سمجھتے، سناتے نظر آتے تھے۔
اگر گھر کا بڑا بازار سے کچھ نہ لاتا تو بھی اس کے ہاتھ میں کم از کم اخبار ضرور ہوتا تھا۔ وہ اخبار محض کاغذ نہیں، وقار تھا؛ محض خبر نہیں، اثر تھا۔
آج پھر وہی منظر لوٹ سکتا ہے –
اگر اخبار میں ہر طبقے کا احترام ہو؛
ہر عمر کا اہتمام ہو؛
ہر ذوق کا انتظام ہو۔
مدیرانِ محترم!
اخبار اگر صرف اختلاف کی آواز نہیں بلکہ اتفاق کی بنیاد بن جائے؛
صرف سیاست کا عنوان نہیں بلکہ سماج کا ترجمان بن جائے؛
صرف لمحے کی خبر نہیں بلکہ صدی کی فکر بن جائے؛
تو یقیناً اخبار بینی کا شوق پھر سے زندہ ہوگا۔
آئیے اخبار کو پھر سے معیار بھی بنائیں، وقار بھی؛
ضرورت بھی بنائیں، محبت بھی؛
عادت بھی بنائیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں