دنیا کے مختلف حصوں میں سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست فیس وصول کرنا کوئی غیر معمولی عمل نہیں، کیونکہ عموماً اسے انتظامی اخراجات پورا کرنے اور غیر سنجیدہ درخواستوں کی حوصلہ شکنی کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ تاہم جموں و کشمیر کے معاملے میں اصل تشویش فیس وصول کرنے کے عمل سے زیادہ اس کی مقدار، پس منظر اور نتائج سے جڑی ہوئی ہے۔
ایک ایسے خطے میں جہاں بے روزگاری کی شرح بلند، نجی شعبے کے مواقع محدود اور معاشی حالات غیر یقینی ہوں، وہاں 48 کروڑ روپے کوئی معمولی رقم نہیں۔ یہ رقم ہزاروں تعلیم یافتہ مگر بے روزگار نوجوانوں کی مشترکہ قربانی کی عکاس ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق متوسط اور کمزور مالی پس منظر سے ہے۔ ان نوجوانوں کے لئے درخواست فیس ایک رسمی خرچ نہیں بلکہ بار بار ادا کیا جانے والا ایک بوجھ ہے، جو وہ صرف اس امید پر برداشت کرتے ہیں کہ شاید انہیں باعزت روزگار میسر آ جائے۔
ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ اس رقم کا مصرف کیا ہونا چاہیے۔ اگر حکومت اسی پیمانے پر درخواست فیس وصول کرتی رہے گی تو اخلاقی طور پر اس پر لازم ہے کہ اس رقم کو نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے مخصوص کرے۔ اس سرمائے کو اسٹارٹ اپسStart Ups کی سرپرستی، خود روزگار پالیسیوں، ہنر مندی کے پروگراموں اور بلاسود قرض اسکیموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں خود کفالت اور کاروباری مواقع کی بات تو کثرت سے کی جاتی ہے مگر عملی معاونت کم دکھائی دیتی ہے، یہ رقم نوجوانوں کے لئے امید کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ درخواست فیس میں فوری کمی ناگزیر ہے۔ سرکاری ملازمت کوئی تجارتی خدمت نہیں بلکہ آئینی حق اور سماجی ترقی کا ذریعہ ہے۔ حد سے زیادہ فیس وصول کرنا دراصل بے روزگاری کو آمدنی کا ذریعہ بنانے کے مترادف ہے، جو نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی قابل جواز۔ معاشی طور پر کمزور طبقات کے لئے بار بار فیس ادا کرنا ایک طرح کی منظم محرومی کو جنم دیتا ہے۔
حکومت کو متبادل طریقوں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ایک بار کی رجسٹریشن فیس، آمدنی کی بنیاد پر رعایت، یا پسماندہ طبقات کے لئے مکمل فیس معافی جیسے اقدامات انتظامی سہولت برقرار رکھتے ہوئے نوجوانوں پر مالی دباؤ کم کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل نظام کے باعث اخراجات پہلے ہی کم ہو چکے ہیں، اس کا فائدہ شہریوں تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ ان پر اضافی بوجھ ڈالنے کی صورت میں۔
جموں و کشمیر کے نوجوان خیرات نہیں مانگتے، وہ انصاف، مواقع اور جواب دہی چاہتے ہیں۔ اگر ریاست بے روزگار نوجوانوں سے 48 کروڑ روپے جمع کر سکتی ہے تو اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ روزگار اور خود کفالت کے مؤثر راستے بھی فراہم کرے۔ بصورت دیگر ملازمت کی درخواست فیس ایک ایسی پالیسی کی علامت بن جائے گی جو اس خطے میں پہلے سے موجود مایوسی کو مزید گہرا کر دے گی۔
کروڑوں کی فیس کا مصرف کیا؟
کروڑوں کی فیس کا مصرف کیا؟
دنیا کے مختلف حصوں میں سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست فیس وصول کرنا کوئی غیر معمولی عمل نہیں، کیونکہ عموماً اسے انتظامی اخراجات پورا کرنے اور غیر سنجیدہ درخواستوں کی حوصلہ شکنی کے لئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ تاہم جموں و کشمیر کے معاملے میں اصل تشویش فیس وصول کرنے کے عمل سے زیادہ اس کی مقدار، پس منظر اور نتائج سے جڑی ہوئی ہے۔
ایک ایسے خطے میں جہاں بے روزگاری کی شرح بلند، نجی شعبے کے مواقع محدود اور معاشی حالات غیر یقینی ہوں، وہاں 48 کروڑ روپے کوئی معمولی رقم نہیں۔ یہ رقم ہزاروں تعلیم یافتہ مگر بے روزگار نوجوانوں کی مشترکہ قربانی کی عکاس ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق متوسط اور کمزور مالی پس منظر سے ہے۔ ان نوجوانوں کے لئے درخواست فیس ایک رسمی خرچ نہیں بلکہ بار بار ادا کیا جانے والا ایک بوجھ ہے، جو وہ صرف اس امید پر برداشت کرتے ہیں کہ شاید انہیں باعزت روزگار میسر آ جائے۔
ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ اس رقم کا مصرف کیا ہونا چاہیے۔ اگر حکومت اسی پیمانے پر درخواست فیس وصول کرتی رہے گی تو اخلاقی طور پر اس پر لازم ہے کہ اس رقم کو نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لئے مخصوص کرے۔ اس سرمائے کو اسٹارٹ اپسStart Ups کی سرپرستی، خود روزگار پالیسیوں، ہنر مندی کے پروگراموں اور بلاسود قرض اسکیموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں خود کفالت اور کاروباری مواقع کی بات تو کثرت سے کی جاتی ہے مگر عملی معاونت کم دکھائی دیتی ہے، یہ رقم نوجوانوں کے لئے امید کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ درخواست فیس میں فوری کمی ناگزیر ہے۔ سرکاری ملازمت کوئی تجارتی خدمت نہیں بلکہ آئینی حق اور سماجی ترقی کا ذریعہ ہے۔ حد سے زیادہ فیس وصول کرنا دراصل بے روزگاری کو آمدنی کا ذریعہ بنانے کے مترادف ہے، جو نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی قابل جواز۔ معاشی طور پر کمزور طبقات کے لئے بار بار فیس ادا کرنا ایک طرح کی منظم محرومی کو جنم دیتا ہے۔
حکومت کو متبادل طریقوں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ ایک بار کی رجسٹریشن فیس، آمدنی کی بنیاد پر رعایت، یا پسماندہ طبقات کے لئے مکمل فیس معافی جیسے اقدامات انتظامی سہولت برقرار رکھتے ہوئے نوجوانوں پر مالی دباؤ کم کر سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل نظام کے باعث اخراجات پہلے ہی کم ہو چکے ہیں، اس کا فائدہ شہریوں تک پہنچنا چاہیے، نہ کہ ان پر اضافی بوجھ ڈالنے کی صورت میں۔
جموں و کشمیر کے نوجوان خیرات نہیں مانگتے، وہ انصاف، مواقع اور جواب دہی چاہتے ہیں۔ اگر ریاست بے روزگار نوجوانوں سے 48 کروڑ روپے جمع کر سکتی ہے تو اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ روزگار اور خود کفالت کے مؤثر راستے بھی فراہم کرے۔ بصورت دیگر ملازمت کی درخواست فیس ایک ایسی پالیسی کی علامت بن جائے گی جو اس خطے میں پہلے سے موجود مایوسی کو مزید گہرا کر دے گی۔


