ہیلمٹ کلچر اختیار کرنااجتماعی ذمہ داری

کشمیر کے اخبارات کی سرخیاں روز بروز ایسے واقعات سے بھرتی جا رہی ہیں جنہیں محض حادثات کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ کہیں کوئی عمارت سے گر گیا، کہیں کوئی الیکٹریشن کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا، کہیں کوئی کھلے مین ہول میں جا گرا۔ بظاہر یہ حادثات ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر واقعات بنیادی حفاظتی اقدامات اختیار نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔
ان تمام خبروں پر اگر غور کیا جائے تو ایک مشترک وجہ سامنے آتی ہے۔ تعمیراتی کام کرنے والے مزدور بغیر ہیلمٹ اور حفاظتی بیلٹ کے اونچائی پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ الیکٹریشن ربڑ کے دستانوں اور محفوظ آلات کے بغیر برقی تاروں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ شہری علاقوں میں مین ہول کھلے چھوڑ دیے جاتے ہیں، نہ رکاوٹ لگائی جاتی ہے اور نہ کوئی وارننگ دی جاتی ہے۔ اگر معمولی احتیاط اور حفاظتی سامان استعمال کیا جائے تو ان میں سے اکثر جان لیوا واقعات روکے جا سکتے ہیں۔
المیہ صرف جانوں کے ضیاع کا نہیں بلکہ ان اموات کو معمول کا حصہ سمجھ لینے کا بھی ہے۔ جب ہر موت کو حادثہ کہہ کر فائل بند کر دی جاتی ہے تو معاشرہ لاشعوری طور پر اسے تقدیر کا لکھا مان لیتا ہے، حالانکہ یہ تقدیر نہیں بلکہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں سخت حفاظتی قوانین اور ان پر عمل درآمد نے ایسے واقعات میں نمایاں کمی کی ہے۔ کشمیر اس معاملے میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہیلمٹ کلچر کو فروغ دیا جائے اور مجموعی طور پر تحفظ کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ ہیلمٹ، ربڑ کے دستانے، حفاظتی جوتے اور بیلٹ محض اضافی سامان نہیں بلکہ جان بچانے کے بنیادی ذرائع ہیں۔ اس ذمہ داری سے نہ حکومت بری الذمہ ہو سکتی ہے، نہ ٹھیکیدار، نہ محکمے اور نہ ہی خود کارکنان۔
حکومتی اداروں کو چاہیے کہ محض ہدایات جاری کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ حفاظتی آڈٹ، خلاف ورزی پر جرمانے اور تربیتی پروگرام لازم قرار دیے جائیں۔ ساتھ ہی مزدوروں میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ محفوظ ماحول میں کام کرنا ان کا حق ہے، اور غیر محفوظ حالات میں کام سے انکار کوئی جرم نہیں۔
اگر کشمیر واقعی ان نام نہاد حادثات کو روکنا چاہتا ہے تو تحفظ کو ثانوی مسئلہ بنانا چھوڑنا ہوگا۔ ہیلمٹ کلچر اور بنیادی حفاظتی اقدامات کو معمول بنا کر ہی ہم ان دردناک سرخیوں کو تاریخ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

ہیلمٹ کلچر اختیار کرنااجتماعی ذمہ داری

کشمیر کے اخبارات کی سرخیاں روز بروز ایسے واقعات سے بھرتی جا رہی ہیں جنہیں محض حادثات کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ کہیں کوئی عمارت سے گر گیا، کہیں کوئی الیکٹریشن کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا، کہیں کوئی کھلے مین ہول میں جا گرا۔ بظاہر یہ حادثات ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر واقعات بنیادی حفاظتی اقدامات اختیار نہ کرنے کا نتیجہ ہیں۔
ان تمام خبروں پر اگر غور کیا جائے تو ایک مشترک وجہ سامنے آتی ہے۔ تعمیراتی کام کرنے والے مزدور بغیر ہیلمٹ اور حفاظتی بیلٹ کے اونچائی پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ الیکٹریشن ربڑ کے دستانوں اور محفوظ آلات کے بغیر برقی تاروں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ شہری علاقوں میں مین ہول کھلے چھوڑ دیے جاتے ہیں، نہ رکاوٹ لگائی جاتی ہے اور نہ کوئی وارننگ دی جاتی ہے۔ اگر معمولی احتیاط اور حفاظتی سامان استعمال کیا جائے تو ان میں سے اکثر جان لیوا واقعات روکے جا سکتے ہیں۔
المیہ صرف جانوں کے ضیاع کا نہیں بلکہ ان اموات کو معمول کا حصہ سمجھ لینے کا بھی ہے۔ جب ہر موت کو حادثہ کہہ کر فائل بند کر دی جاتی ہے تو معاشرہ لاشعوری طور پر اسے تقدیر کا لکھا مان لیتا ہے، حالانکہ یہ تقدیر نہیں بلکہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں سخت حفاظتی قوانین اور ان پر عمل درآمد نے ایسے واقعات میں نمایاں کمی کی ہے۔ کشمیر اس معاملے میں پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہیلمٹ کلچر کو فروغ دیا جائے اور مجموعی طور پر تحفظ کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ ہیلمٹ، ربڑ کے دستانے، حفاظتی جوتے اور بیلٹ محض اضافی سامان نہیں بلکہ جان بچانے کے بنیادی ذرائع ہیں۔ اس ذمہ داری سے نہ حکومت بری الذمہ ہو سکتی ہے، نہ ٹھیکیدار، نہ محکمے اور نہ ہی خود کارکنان۔
حکومتی اداروں کو چاہیے کہ محض ہدایات جاری کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ حفاظتی آڈٹ، خلاف ورزی پر جرمانے اور تربیتی پروگرام لازم قرار دیے جائیں۔ ساتھ ہی مزدوروں میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ محفوظ ماحول میں کام کرنا ان کا حق ہے، اور غیر محفوظ حالات میں کام سے انکار کوئی جرم نہیں۔
اگر کشمیر واقعی ان نام نہاد حادثات کو روکنا چاہتا ہے تو تحفظ کو ثانوی مسئلہ بنانا چھوڑنا ہوگا۔ ہیلمٹ کلچر اور بنیادی حفاظتی اقدامات کو معمول بنا کر ہی ہم ان دردناک سرخیوں کو تاریخ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں