مسجد میں خون، ریاست کی ناکامی

اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں خودکش حملہ، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، محض ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کی کھلی تصویر ہے۔ دارالحکومت میں، عبادت کے دوران، مسجد کو نشانہ بنانا اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرتا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورت حال قابو میں ہے۔
یہ واقعہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے، مگر اس سے زیادہ افسوسناک وہ طرز عمل ہے جس میں خود احتسابی کے بجائے فوری طور پر الزام باہر کی قوتوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار خود پاکستانی مسلمان ہیں۔ شیعہ، سنی، بریلوی یا دیوبندی کی تقسیم نے معاشرے کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔
پاکستان کو دنیا کے طاقتور مسلم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، مگر طاقت کا اصل پیمانہ ایٹمی صلاحیت نہیں بلکہ شہریوں کا تحفظ ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان ریاست اپنے ہی مسلمانوں کو مسجد میں تحفظ فراہم نہ کر سکے تو اس کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ یہ حملہ صرف انسانوں پر نہیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی، ریاستی رٹ اور اسلامی اخوت پر حملہ ہے۔
اب محض تعزیتی بیانات اور رسمی مذمت کافی نہیں۔ ریاست کو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنا ہوگی، شدت پسند بیانیے کی سرپرستی ختم کرنا ہوگی، اور سکیورٹی کے نظام کو واقعی مؤثر بنانا ہوگا۔ جب تک ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی، تب تک اسلام آباد جیسے شہروں میں بھی خوف کا سایہ منڈلاتا رہے گا، اور یہ ہر اس دعوے کی نفی کرتا رہے گا جو امن اور استحکام کے نام پر کیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ اس سانحے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ ریاست کی ترجیحات کیا ہیں۔ جب دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد بیانیہ بدلنے، توجہ ہٹانے اور وقتی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اصل مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ فرقہ وارانہ تنظیمیں نئے ناموں سے سرگرم ہو جاتی ہیں، نفرت انگیز تقاریر جاری رہتی ہیں، اور قانون کا اطلاق کمزور اور منتخب نظر آتا ہے۔ اس طرز عمل نے شدت پسندی کو ختم کرنے کے بجائے اسے خاموش طور پر پنپنے کا موقع دیا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے حملوں کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کو صرف وعدے، بیانات اور وقتی ہمدردی ملتی ہے، انصاف نہیں۔ جب تک شفاف تحقیقات، حقیقی سزائیں اور دیرپا اصلاحات عمل میں نہیں لائی جاتیں، تب تک ہر نیا حملہ پچھلے زخموں کو مزید گہرا کرتا رہے گا۔ اسلام آباد کی مسجد میں بہایا گیا یہ خون ریاست سے ایک واضح مطالبہ کرتا ہے کہ وہ طاقت کے دعووں سے نکل کر عوام کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری بنائے، ورنہ یہ المیے تاریخ میں دہراتے رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

مسجد میں خون، ریاست کی ناکامی

اسلام آباد کی ایک شیعہ مسجد میں خودکش حملہ، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، محض ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کی کھلی تصویر ہے۔ دارالحکومت میں، عبادت کے دوران، مسجد کو نشانہ بنانا اس دعوے کو جھوٹا ثابت کرتا ہے کہ ملک میں سکیورٹی کی صورت حال قابو میں ہے۔
یہ واقعہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے، مگر اس سے زیادہ افسوسناک وہ طرز عمل ہے جس میں خود احتسابی کے بجائے فوری طور پر الزام باہر کی قوتوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار خود پاکستانی مسلمان ہیں۔ شیعہ، سنی، بریلوی یا دیوبندی کی تقسیم نے معاشرے کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہیں۔
پاکستان کو دنیا کے طاقتور مسلم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، مگر طاقت کا اصل پیمانہ ایٹمی صلاحیت نہیں بلکہ شہریوں کا تحفظ ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان ریاست اپنے ہی مسلمانوں کو مسجد میں تحفظ فراہم نہ کر سکے تو اس کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ یہ حملہ صرف انسانوں پر نہیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی، ریاستی رٹ اور اسلامی اخوت پر حملہ ہے۔
اب محض تعزیتی بیانات اور رسمی مذمت کافی نہیں۔ ریاست کو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنا ہوگی، شدت پسند بیانیے کی سرپرستی ختم کرنا ہوگی، اور سکیورٹی کے نظام کو واقعی مؤثر بنانا ہوگا۔ جب تک ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی، تب تک اسلام آباد جیسے شہروں میں بھی خوف کا سایہ منڈلاتا رہے گا، اور یہ ہر اس دعوے کی نفی کرتا رہے گا جو امن اور استحکام کے نام پر کیا جاتا ہے۔
مزید یہ کہ اس سانحے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ ریاست کی ترجیحات کیا ہیں۔ جب دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد بیانیہ بدلنے، توجہ ہٹانے اور وقتی سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اصل مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ فرقہ وارانہ تنظیمیں نئے ناموں سے سرگرم ہو جاتی ہیں، نفرت انگیز تقاریر جاری رہتی ہیں، اور قانون کا اطلاق کمزور اور منتخب نظر آتا ہے۔ اس طرز عمل نے شدت پسندی کو ختم کرنے کے بجائے اسے خاموش طور پر پنپنے کا موقع دیا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے حملوں کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کو صرف وعدے، بیانات اور وقتی ہمدردی ملتی ہے، انصاف نہیں۔ جب تک شفاف تحقیقات، حقیقی سزائیں اور دیرپا اصلاحات عمل میں نہیں لائی جاتیں، تب تک ہر نیا حملہ پچھلے زخموں کو مزید گہرا کرتا رہے گا۔ اسلام آباد کی مسجد میں بہایا گیا یہ خون ریاست سے ایک واضح مطالبہ کرتا ہے کہ وہ طاقت کے دعووں سے نکل کر عوام کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری بنائے، ورنہ یہ المیے تاریخ میں دہراتے رہیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں