امریکی زرعی پیداوار کی ہندوستانی ذائقوں میں شمولیت

 

چاروی اروڑا

کھانوں کا انتخاب اب صرف ذائقوں کا معاملہ نہیں رہا۔ ہندوستان میں خانساماں اور صارفین اب اجزاء کے معیار ، مآخذ اور کارکردگی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور یہی عوامل روزمرّہ کے فیصلوں کی بنیاد بن رہے ہیں۔
یہ تبدیلی ہندوستان باورچی خانوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے جہاں مانوس طریقوں کے ساتھ اب نئے ذائقوں کا امتزاج کیا جا رہا ہے۔ امریکی اجزاء، جو طویل عرصے سے ہندوستانی منڈیوں میں موجود ہیں، اب ایک نئے زاویے سے دیکھے جا رہے ہیں۔ کرین بیریز سنگترے کے رس میں پک رہی ہیں۔ پیکن باآسانی پنیر میں شامل ہو جاتے ہیں۔بطخ اپنی ہی چربی میں آہستہ آہستہ کُرکُری ہورہی ہے۔ یہ امتزاج ایک نئے منظر نامے کی طرف اشارہ کرتے ہیں— ایسا منظر نامہ جہاں کھانے کا انتخاب منڈیوں اور تجارتی تعلقات کی بھی شکل سازی کرتا ہے۔
دو غذائی اقدامات (امیریکن کمیونٹی سپورٹ ایسو سی ایشن اور نئی دہلی میں واقع ایک خوردہ دکان فوڈ اسٹوریز میں یو ایس فوڈ کُک آف ایونٹ کے انعقاد)کے ذریعے امریکی سفارت خانے نے یہ دکھایا کہ امریکی زرعی اجزاء ہندوستانی باورچی خانوں میں فطری طور پر جگہ بنا سکتے ہیں۔ان کاوشوں کی قیادت امریکی زرعی شعبے(یو ایس ڈی اے )نے جس کا مقصد نئے ذائقوں کی تحریک دینا بھر نہیں ہے۔ یہ کوششیں صرف ترکیبوں سے آگے بڑھ کر منڈیوں، اعتماد اور معاشی ترقی کو بھی تقویت دیتی ہیں۔
ذائقوں کی تربیت
ٹیسٹ آف امیریکا اجزاء کی تربیت نے امیریکن کمیونٹی سپورٹ ایسی سی ایشن (اے سی ایس اے) کے اراکین،مہمان نوازی کی صنعت سے وابستہ طلبہ اور کھانے پینے کی دنیا سے وابستہ پیشہ ور افراد کو عملی پکوان کے تجربے کے لیے ایک جگہ جمع کیا جہاں اجزاء کے حصول، ذخیرہ کرنے اور تیاری سے متعلق عملی راہنمائی بھی فراہم کی گئی۔ اس تربیت کی قیادت کرنے والی خانساماں نیہا دیپک شاہ کے مطابق اس کا مقصد نئی تراکیب سکھانے سے آگے بڑھ کر دہلی۔ این سی آر میں دستیاب امریکی زرعی اجزاء کے مؤثر استعمال کو اجاگر کرنا تھا۔
نیہا نے بتایا ’’ سیشن کا مقصد ان اجزاء کی گہری پہچان اور ان کے سوچ سمجھ کر استعمال کرنے پر مرکوز تھاخواہ ان کا استعمال روز مرّہ میں کیا جائے یا پیشہ ورانہ ورانہ طور پر۔‘‘ مینو میں ہندوستان انداز اور امریکی اجزاء کو ملا کر تخلیقی امتزاج پیش کیا گیا۔ یعنی پنیر ٹِکّا میں کرین بیری اور پیکن، سموسوں میں اوریگون کے اخروٹ اور بطخ اور ٹرکی ہندوستانی طریقے سے تیار کی گئی۔
‘جو چیز واقعی نمایاں رہی وہ ہر اجزاء میں معیار کی شاندار مستقل مزاجی اور قابلِ اعتماد ہونا تھا۔ شاہ نے کہا’یہ شیفز اور گھریلو باورچیوں کو تجربہ کرنے اور نئے خیالات اپنانے کا اعتماد دیتے ہیں، جبکہ مستقل اور اعلیٰ معیار کے نتائج فراہم کرتے ہیں۔‘‘
مہمان نوازی صنعت کے طالب علم سیان داؤ واری نے اس سیسن کو ’ ایک آنکھیں کھول دینے والا تجربہ‘ قرار دیا۔انہوں نے بتایا ’’ میں نے مختلف امریکی ذائقوں ، میوہ جات اور بیریز کے بارے میں جانا۔ اب میں ان بیریز کے ذائقے کو بھی استعمال کرنا سیکھ گیا ہوں۔‘‘
سی آئی آئی انسٹی ٹیوٹ آف ہاسپٹالٹی کے طالب علم اور شراب ساز منسنجم سنگھ بھاٹیہ نے اجزاء کے معیار اور مستقل مزاجی پر روشنی ڈالی۔ وہ بتاتے ہیں’’ میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ معیار کا تسلسل برقرار رہے۔ امریکی اجزاء کا مطلب یہ ہے کہ سال بھر ہمیں ایک جیسی جسامت، ایک جیسی شکل اور ایک جیسا ذائقہ ملتا ہے۔ یہی معیار اور مستقل مزاجی ہمارے کام کو کافی آسان بنادیتی ہے۔‘‘
صارفین کی پسند کا کھانا تیار کرنا
دہلی کے وسنت کُنج کے ایمبی اینس مال کے فوڈ اسٹوریز خوردہ دکان میں ہوئے’ کُک آف ‘ایونٹ میں چار شرکاء نے امریکی اجزاء استعمال کرتے ہوئے پکوان پکائے ۔ ان پکوانوں کو پھر خانساماؤں ، خریداروں اور صارفین کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس سے انہیں ہندوستان طرز طبّاخی میں اجزاء کی کارکردگی کی جانچ کرنے کا موقع ملا۔
اوشین بنسل نے اپنے نورِ کشمیر زعفرانی پلاؤ میں کشمیری ذائقوں کا استعمال کیا اور اس میں امریکی کرین بیریز کو مرکزی جز و کے طور پر استعمال کیا۔ وہ بتاتی ہیں’’ آج سے پہلے میں کرین بیریز سے کچھ حد تک واقف تھی مگر زیادہ تر انہیں میٹھے پکوان اور مشروبات میں استعمال ہوتا ہوا دیکھا تھا۔‘‘
ملکہ بناتی کے پکوان (جسے انعام سے بھی نوازا گیا)کرین بیری گلیز ڈ ٹرکی ،پیکن پلاف اور پستہ مکھن میں امریکی پیکن کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ ان سب کے لیے سب سے خاص بات امریکی پیکن کی لچکدار نوعیت تھی۔ ملکہ بتاتی ہیں’’ یہ کثیر الجہتی ہیں۔ اس کا استعمال میٹھے اور نمکین دونوں قسم کے پکوانوں میں ہوسکتا ہے۔ امریکی کرین بیریز وہ کلیدی جزو ہیں جو پکوان کو جاندار بناتی ہیں۔ ‘‘
مہک آصف کے لیے یہ ایونٹ ٹرکی پکانے کا پہلا موقع تھا۔ ان کی تخلیق ’ اسٹفڈ ٹرکی رولاد‘ جس پر پیکن ، اخروٹ کی چٹنی اور کرین بیریز کا اضافہ کیا گیا تھا ، نے امریکی پولٹری کو میوے اور پھل کے ساتھ یکجا کیا۔
دیپشی سالوجہ نے چنے کے کباب کے لیے پودوں پر مبنی انداز اپنایا ،جس میں امریکی چنے کے ساتھ پستہ، اخروٹ، بلیو بیریز اور کرین بیریز استعمال کی گئیں۔انہوں نے بتایا ’’ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ یہ بیریز کتنی ہمہ جہت ہیں ۔ جب ہندوستانی مصالحوں کے ساتھ ان کو ملایا گیا تو یہ عام طور پر میٹھے جزو سے بدل کر کچھ تیکھا ، نمکین اور گہرے ذائقے والا بن گیا۔ ‘‘ سالوجہ نے مزید کہا کہ یہ بیری جیلی آم چٹنی کے جدید اور بہترین متبادل کے طور پر کام کرتی ہے۔ ‘‘
خانساماں اجے چوہان ، جنہوں نے اس ایونٹ کی قیادت کی، وضاحت کرتے ہیں کہ امریکی مصنوعات ہندوستان میں کامیاب کیوں ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ امریکی اجزاء کے ساتھ کام کرنے کی سب سے دلچسپ بات ان کی کثیر الجہتی ، موسموں کے برعکس ان کی دستیابی اور ان کا اعلیٰ معیار ہے۔‘‘
اگر میں کلاسیکی لال مزیدار سیب کاٹ رہا ہوں تو یہ رسیلا ہے، کُرکُرا ہے اور ان توقعات پر پورا اترتا ہے جن کے لیے معروف ہے۔ اگر یہ امریکی پستہ ہے تو اتنا کامل ہے کہ ہر پستے کی جسامت تقریباً ایک سی ہے۔
پیمانے کی اہمیت
پس پردہ پیمانہ اور حفاظت سورسنگ(مال یا اجزاء کی خریداری) کے فیصلو ں کو متاثر کرتے ہیں۔ طویل عرصے سے ہندوستان میں امریکی خوراک کو فروغ دینے والے سُمِت سرن وضاحت کرتے ہیں کی خانساماں امریکی مصنوعات پر اعتماد کیوں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ تین بڑی چیزیں ہیں: معیار، خوراک کی حفاظت اور سامان کی مستقل مزاج فراہمی۔ امریکی مصنوعات امریکی محکمہ زراعت سے سند یافتہ ہیں۔ جو چیز امریکہ میں کسی صارف کو دستیاب ہے، وہی ہندوستان میں بھی صارفین کو ملتی ہے۔‘‘
یہ بات بڑے بازار میں بہت معنی رکھتی ہے۔ ہم چھوٹے پیمانے سے شروع کر سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں’’ لیکن جیسے ہی مانگ بڑھتی ہے ، امریکہ کے پاس وہ صلاحیت اور مستقل مزاجی موجود ہے کہ اس مانگ کو پورا کرسکے۔ ‘‘
یہ اعداد و شمار پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہیں۔سرن بتاتے ہیں ’’ پانچ سال پہلے کرین بیری کی در آمد تقریباً60 سے 70 ٹن تھی۔2025 میں ہم 5,000 ٹن تک پہنچ گئے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’ واشنگٹن کے سیب معیار کا سونا ہیں۔ آج کی درآمد تقریباً 500,000 ٹن کے قریب ہے۔‘‘
خوردہ سطح پر موثر
ہندوستانی برانڈاعلیٰ معیار کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کا جواب دے رہے ہیں۔دینیکا بھاٹیہ ، جو اسنَیک برانڈ ’ نٹی گریٹیز‘ کی بانی ہیں بتاتی ہیں کہ کس طرح امریکی اجزاء ترقی کی رفتار کو آگے بڑھاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ جو مقدار ہم استعمال کرتے ہیں اس میں تقریباً 35 سے 40 ٹن ماہانہ امریکی اجزاء ہیں جن کی شرح ِ نمو 40 فی صدہے۔
وہ اسے براہ راست معیار سے جوڑتی ہیں اور معیار ، مستقل مزاجی، کُرکُراپن اور ذائقے کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ امریکہ میں پراسسنگ پلانٹوں کا مشاہدہ اور امریکی دورے کا ان کا تجربہ اس اعتماد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ بھاٹیہ وضاحت کرتی ہیں ’’ معیار کاری ، مشینی عمل ، معیار پر نظر اور صفائی وہ بہترین چیزیں ہیں جو میں نے دیکھی ہیں۔ ‘‘
یہ اعتماد مانگ میں تبدیل ہورہا ہے۔ پیکن جو پہلے کم معروف تھے اب امریکہ کے سب سے تیزی کے ساتھ مقبول ہونے والی مصنوعات میں شامل ہیں ۔ وہ بتاتی ہیں’’ پچھلے مہینے، ہم نے پیکن میں 100 فیصد نمو دیکھی ہیں۔‘‘
جیسے جیسے مزید خانساماں ، خوردہ فروش اور صارفین ان اجزاء کے ساتھ کام کررہے ہیں ، واقفیت اعتماد میں بدل رہی ہے۔ جو چیز باورچی خانے میں تجربے کے طور پر شروع ہوتی ہے، وہ آہستہ آہستہ مستقل مانگ، قابل اعتماد سپلائی چینس، اور طویل مدتی تجارتی تعلقات میں تبدیل ہو رہی ہے۔ان معنوں میں امریکی اجزاء کی ہندوستان میں کہانی صرف ذائقے یا تکنیک تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بتاتی ہے کہ روز مرّہ کے کھانے کے انتخاب کس طرح خاموشی سے تجارت ، ترقی اور مشترکہ اقتصادی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

امریکی زرعی پیداوار کی ہندوستانی ذائقوں میں شمولیت

 

چاروی اروڑا

کھانوں کا انتخاب اب صرف ذائقوں کا معاملہ نہیں رہا۔ ہندوستان میں خانساماں اور صارفین اب اجزاء کے معیار ، مآخذ اور کارکردگی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور یہی عوامل روزمرّہ کے فیصلوں کی بنیاد بن رہے ہیں۔
یہ تبدیلی ہندوستان باورچی خانوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے جہاں مانوس طریقوں کے ساتھ اب نئے ذائقوں کا امتزاج کیا جا رہا ہے۔ امریکی اجزاء، جو طویل عرصے سے ہندوستانی منڈیوں میں موجود ہیں، اب ایک نئے زاویے سے دیکھے جا رہے ہیں۔ کرین بیریز سنگترے کے رس میں پک رہی ہیں۔ پیکن باآسانی پنیر میں شامل ہو جاتے ہیں۔بطخ اپنی ہی چربی میں آہستہ آہستہ کُرکُری ہورہی ہے۔ یہ امتزاج ایک نئے منظر نامے کی طرف اشارہ کرتے ہیں— ایسا منظر نامہ جہاں کھانے کا انتخاب منڈیوں اور تجارتی تعلقات کی بھی شکل سازی کرتا ہے۔
دو غذائی اقدامات (امیریکن کمیونٹی سپورٹ ایسو سی ایشن اور نئی دہلی میں واقع ایک خوردہ دکان فوڈ اسٹوریز میں یو ایس فوڈ کُک آف ایونٹ کے انعقاد)کے ذریعے امریکی سفارت خانے نے یہ دکھایا کہ امریکی زرعی اجزاء ہندوستانی باورچی خانوں میں فطری طور پر جگہ بنا سکتے ہیں۔ان کاوشوں کی قیادت امریکی زرعی شعبے(یو ایس ڈی اے )نے جس کا مقصد نئے ذائقوں کی تحریک دینا بھر نہیں ہے۔ یہ کوششیں صرف ترکیبوں سے آگے بڑھ کر منڈیوں، اعتماد اور معاشی ترقی کو بھی تقویت دیتی ہیں۔
ذائقوں کی تربیت
ٹیسٹ آف امیریکا اجزاء کی تربیت نے امیریکن کمیونٹی سپورٹ ایسی سی ایشن (اے سی ایس اے) کے اراکین،مہمان نوازی کی صنعت سے وابستہ طلبہ اور کھانے پینے کی دنیا سے وابستہ پیشہ ور افراد کو عملی پکوان کے تجربے کے لیے ایک جگہ جمع کیا جہاں اجزاء کے حصول، ذخیرہ کرنے اور تیاری سے متعلق عملی راہنمائی بھی فراہم کی گئی۔ اس تربیت کی قیادت کرنے والی خانساماں نیہا دیپک شاہ کے مطابق اس کا مقصد نئی تراکیب سکھانے سے آگے بڑھ کر دہلی۔ این سی آر میں دستیاب امریکی زرعی اجزاء کے مؤثر استعمال کو اجاگر کرنا تھا۔
نیہا نے بتایا ’’ سیشن کا مقصد ان اجزاء کی گہری پہچان اور ان کے سوچ سمجھ کر استعمال کرنے پر مرکوز تھاخواہ ان کا استعمال روز مرّہ میں کیا جائے یا پیشہ ورانہ ورانہ طور پر۔‘‘ مینو میں ہندوستان انداز اور امریکی اجزاء کو ملا کر تخلیقی امتزاج پیش کیا گیا۔ یعنی پنیر ٹِکّا میں کرین بیری اور پیکن، سموسوں میں اوریگون کے اخروٹ اور بطخ اور ٹرکی ہندوستانی طریقے سے تیار کی گئی۔
‘جو چیز واقعی نمایاں رہی وہ ہر اجزاء میں معیار کی شاندار مستقل مزاجی اور قابلِ اعتماد ہونا تھا۔ شاہ نے کہا’یہ شیفز اور گھریلو باورچیوں کو تجربہ کرنے اور نئے خیالات اپنانے کا اعتماد دیتے ہیں، جبکہ مستقل اور اعلیٰ معیار کے نتائج فراہم کرتے ہیں۔‘‘
مہمان نوازی صنعت کے طالب علم سیان داؤ واری نے اس سیسن کو ’ ایک آنکھیں کھول دینے والا تجربہ‘ قرار دیا۔انہوں نے بتایا ’’ میں نے مختلف امریکی ذائقوں ، میوہ جات اور بیریز کے بارے میں جانا۔ اب میں ان بیریز کے ذائقے کو بھی استعمال کرنا سیکھ گیا ہوں۔‘‘
سی آئی آئی انسٹی ٹیوٹ آف ہاسپٹالٹی کے طالب علم اور شراب ساز منسنجم سنگھ بھاٹیہ نے اجزاء کے معیار اور مستقل مزاجی پر روشنی ڈالی۔ وہ بتاتے ہیں’’ میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ معیار کا تسلسل برقرار رہے۔ امریکی اجزاء کا مطلب یہ ہے کہ سال بھر ہمیں ایک جیسی جسامت، ایک جیسی شکل اور ایک جیسا ذائقہ ملتا ہے۔ یہی معیار اور مستقل مزاجی ہمارے کام کو کافی آسان بنادیتی ہے۔‘‘
صارفین کی پسند کا کھانا تیار کرنا
دہلی کے وسنت کُنج کے ایمبی اینس مال کے فوڈ اسٹوریز خوردہ دکان میں ہوئے’ کُک آف ‘ایونٹ میں چار شرکاء نے امریکی اجزاء استعمال کرتے ہوئے پکوان پکائے ۔ ان پکوانوں کو پھر خانساماؤں ، خریداروں اور صارفین کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس سے انہیں ہندوستان طرز طبّاخی میں اجزاء کی کارکردگی کی جانچ کرنے کا موقع ملا۔
اوشین بنسل نے اپنے نورِ کشمیر زعفرانی پلاؤ میں کشمیری ذائقوں کا استعمال کیا اور اس میں امریکی کرین بیریز کو مرکزی جز و کے طور پر استعمال کیا۔ وہ بتاتی ہیں’’ آج سے پہلے میں کرین بیریز سے کچھ حد تک واقف تھی مگر زیادہ تر انہیں میٹھے پکوان اور مشروبات میں استعمال ہوتا ہوا دیکھا تھا۔‘‘
ملکہ بناتی کے پکوان (جسے انعام سے بھی نوازا گیا)کرین بیری گلیز ڈ ٹرکی ،پیکن پلاف اور پستہ مکھن میں امریکی پیکن کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ ان سب کے لیے سب سے خاص بات امریکی پیکن کی لچکدار نوعیت تھی۔ ملکہ بتاتی ہیں’’ یہ کثیر الجہتی ہیں۔ اس کا استعمال میٹھے اور نمکین دونوں قسم کے پکوانوں میں ہوسکتا ہے۔ امریکی کرین بیریز وہ کلیدی جزو ہیں جو پکوان کو جاندار بناتی ہیں۔ ‘‘
مہک آصف کے لیے یہ ایونٹ ٹرکی پکانے کا پہلا موقع تھا۔ ان کی تخلیق ’ اسٹفڈ ٹرکی رولاد‘ جس پر پیکن ، اخروٹ کی چٹنی اور کرین بیریز کا اضافہ کیا گیا تھا ، نے امریکی پولٹری کو میوے اور پھل کے ساتھ یکجا کیا۔
دیپشی سالوجہ نے چنے کے کباب کے لیے پودوں پر مبنی انداز اپنایا ،جس میں امریکی چنے کے ساتھ پستہ، اخروٹ، بلیو بیریز اور کرین بیریز استعمال کی گئیں۔انہوں نے بتایا ’’ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ یہ بیریز کتنی ہمہ جہت ہیں ۔ جب ہندوستانی مصالحوں کے ساتھ ان کو ملایا گیا تو یہ عام طور پر میٹھے جزو سے بدل کر کچھ تیکھا ، نمکین اور گہرے ذائقے والا بن گیا۔ ‘‘ سالوجہ نے مزید کہا کہ یہ بیری جیلی آم چٹنی کے جدید اور بہترین متبادل کے طور پر کام کرتی ہے۔ ‘‘
خانساماں اجے چوہان ، جنہوں نے اس ایونٹ کی قیادت کی، وضاحت کرتے ہیں کہ امریکی مصنوعات ہندوستان میں کامیاب کیوں ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ امریکی اجزاء کے ساتھ کام کرنے کی سب سے دلچسپ بات ان کی کثیر الجہتی ، موسموں کے برعکس ان کی دستیابی اور ان کا اعلیٰ معیار ہے۔‘‘
اگر میں کلاسیکی لال مزیدار سیب کاٹ رہا ہوں تو یہ رسیلا ہے، کُرکُرا ہے اور ان توقعات پر پورا اترتا ہے جن کے لیے معروف ہے۔ اگر یہ امریکی پستہ ہے تو اتنا کامل ہے کہ ہر پستے کی جسامت تقریباً ایک سی ہے۔
پیمانے کی اہمیت
پس پردہ پیمانہ اور حفاظت سورسنگ(مال یا اجزاء کی خریداری) کے فیصلو ں کو متاثر کرتے ہیں۔ طویل عرصے سے ہندوستان میں امریکی خوراک کو فروغ دینے والے سُمِت سرن وضاحت کرتے ہیں کی خانساماں امریکی مصنوعات پر اعتماد کیوں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ تین بڑی چیزیں ہیں: معیار، خوراک کی حفاظت اور سامان کی مستقل مزاج فراہمی۔ امریکی مصنوعات امریکی محکمہ زراعت سے سند یافتہ ہیں۔ جو چیز امریکہ میں کسی صارف کو دستیاب ہے، وہی ہندوستان میں بھی صارفین کو ملتی ہے۔‘‘
یہ بات بڑے بازار میں بہت معنی رکھتی ہے۔ ہم چھوٹے پیمانے سے شروع کر سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں’’ لیکن جیسے ہی مانگ بڑھتی ہے ، امریکہ کے پاس وہ صلاحیت اور مستقل مزاجی موجود ہے کہ اس مانگ کو پورا کرسکے۔ ‘‘
یہ اعداد و شمار پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہیں۔سرن بتاتے ہیں ’’ پانچ سال پہلے کرین بیری کی در آمد تقریباً60 سے 70 ٹن تھی۔2025 میں ہم 5,000 ٹن تک پہنچ گئے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں ’’ واشنگٹن کے سیب معیار کا سونا ہیں۔ آج کی درآمد تقریباً 500,000 ٹن کے قریب ہے۔‘‘
خوردہ سطح پر موثر
ہندوستانی برانڈاعلیٰ معیار کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کا جواب دے رہے ہیں۔دینیکا بھاٹیہ ، جو اسنَیک برانڈ ’ نٹی گریٹیز‘ کی بانی ہیں بتاتی ہیں کہ کس طرح امریکی اجزاء ترقی کی رفتار کو آگے بڑھاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’’ جو مقدار ہم استعمال کرتے ہیں اس میں تقریباً 35 سے 40 ٹن ماہانہ امریکی اجزاء ہیں جن کی شرح ِ نمو 40 فی صدہے۔
وہ اسے براہ راست معیار سے جوڑتی ہیں اور معیار ، مستقل مزاجی، کُرکُراپن اور ذائقے کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ امریکہ میں پراسسنگ پلانٹوں کا مشاہدہ اور امریکی دورے کا ان کا تجربہ اس اعتماد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ بھاٹیہ وضاحت کرتی ہیں ’’ معیار کاری ، مشینی عمل ، معیار پر نظر اور صفائی وہ بہترین چیزیں ہیں جو میں نے دیکھی ہیں۔ ‘‘
یہ اعتماد مانگ میں تبدیل ہورہا ہے۔ پیکن جو پہلے کم معروف تھے اب امریکہ کے سب سے تیزی کے ساتھ مقبول ہونے والی مصنوعات میں شامل ہیں ۔ وہ بتاتی ہیں’’ پچھلے مہینے، ہم نے پیکن میں 100 فیصد نمو دیکھی ہیں۔‘‘
جیسے جیسے مزید خانساماں ، خوردہ فروش اور صارفین ان اجزاء کے ساتھ کام کررہے ہیں ، واقفیت اعتماد میں بدل رہی ہے۔ جو چیز باورچی خانے میں تجربے کے طور پر شروع ہوتی ہے، وہ آہستہ آہستہ مستقل مانگ، قابل اعتماد سپلائی چینس، اور طویل مدتی تجارتی تعلقات میں تبدیل ہو رہی ہے۔ان معنوں میں امریکی اجزاء کی ہندوستان میں کہانی صرف ذائقے یا تکنیک تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بتاتی ہے کہ روز مرّہ کے کھانے کے انتخاب کس طرح خاموشی سے تجارت ، ترقی اور مشترکہ اقتصادی مفادات کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں